پیٹرو ڈالر اور امریکی پالیساں ۔ عمیر فاروق

ٹاک شو پہ کف آلود لہجے میں محترم اوریا مقبول جان جب بریٹن وڈز کا ذکر کرتے ہیں تو آنکھیں شعلہ بار ہوجاتیں ہیں اور میزبان ان کے ہاتھوں پٹتے پٹتے بچتا ہے۔ آپ کا تعلق اگر صالحین کی جماعت سے ہے تو آپ کے ہاتھ بھی بے اختیار دائیں بائیں ٹٹولتے ہیں لیکن قرولی وغیرہ کو ناموجود پا کرآپ مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب میں بریٹن وڈز نامی یہودی سازش کے علاوہ مناسب ہتھیاروں کی ناموجودی کو بھی شامل کرلیتے ہیں۔
لیکن آخر بریٹن وڈز ہے کیا؟
امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کا شہر بریٹن وڈز ہی وہ مقام ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد چالیس کے قریب ممالک کے نمائندگان جمع ہوئے تھے۔ ان کا مقصد تھا جنگ کے بعد کی دنیا کے معاشی نظام کے خدوخال متعین کرنا۔
ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قیام کے علاوہ جو دو اہم فیصلے اس کانفرنس میں ہوئے ان میں سے ایک امریکی ڈالر کو عالمی تجارت کی کرنسی بنانے کا فیصلہ تھا اور دوسرا باقی کرنسیوں کو ڈالر کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ تھا۔ اس طرح ان کی باہمی شرح تبادلہ کا انحصار ان کی ڈالر کے ساتھ شرح تبادلہ پہ تھا۔
یہ قدرتی اور فطری تھا۔ جنگ زدہ اور قرضوں کے شکار برطانیہ کی معیشت اس قابل نہ تھی کہ ماضی کی طرح پونڈ سٹرلنگ یہ کردار ادا کرسکتا۔ دوسری بہت بڑی حقیقت یہ تھی کہ جنگ کے بعد دنیا کا اسی فیصد سونا امریکہ میں تھا۔ اور امریکی ڈالر ہی وہ واحد کرنسی تھی جس کی قدر سونے کے ساتھ منسلک تھی۔ امریکی ڈالر کی سونے کے ساتھ مقررہ شرح تبادلہ ۳۵ ڈالر فی اونس مقرر کردی گئی۔ اس طرح امریکی فیڈرل ریزرو بینک پینتیس ڈالر کے عوض ایک اونس سونا دینے کا پابند تھا۔
یوں باقی ممالک کے مرکزی بینکوں کے پاس سونے کا موجود ہونا یا ڈالر کا موجود ہونا ایک ہی بات تھی
اس طرح تمام ممالک کو اپنی درآمدات کے لئے ڈالر کی ضرورت پڑنا شروع ہوگئی اور اپنی برآمدات کے لئے بھی وہ ڈالر وصول کرنے لگے۔
ساٹھ کی دہائی تک یہ نظام کامیابی سے چلا۔ لیکن اس کے اختتام تک حالات بہت بدل چکے تھے۔ امریکی درآمدات اس کی برآمدات سے کہیں بڑھ چکی تھیں نہ صرف تجارتی خسارہ روزبروز بڑھتا جارہا تھا بلکہ پچھلی دو دہائیوں میں امریکی اخراجات اور ان کے نتیجہ میں امریکی قرضہ بے تحاشا بڑھ چکا تھا ویت نام جیسی جنگوں کے اخراجات، فرانس، جاپان اور جرمنی بہت بڑے صنعتی برآمدی ممالک کی حیثیت سے سامنے آچُکے تھے۔ اس تمام خسارے کو پوار کرنے کے لئے امریکہ پہلے ہی دستیاب سونے سے کہیں زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا امریکی برآمدات اور قرضہ کے اس عدم تعاون کو دیکھتے ہوئے بہت سے ممالک ڈالر کو سونے سے تبدیل کرانا شروع کرنے والے تھے جس کا بوجھ امریکی ذخائر برداشت نہ کرسکتے تھے۔ لہذا اگست ۱۹۷۱ میں صدر نکسن نے ڈالر کے سونے کا ساتھ قابل تبادلہ ہونے کے خاتمے کا اعلان کردیا۔
اس کے بعد ڈالر اب فکس یا متعینہ قیمت کی حامل کرنسی نہ تھا جس کی قدر کسی بیرونی مادی شئے سے ماپی جاسکے بلکہ فلوٹنگ یا تیرتی /متغیرہ کرنسی تھا جس کی قدر منڈی میں اس کی طلب اور رسد نے طے کرنا تھی۔ لیکن منڈی میں کسی کرنسی کی طلب اس کی برآمدات پیدا کرتی ہیں اور امریکہ برآمدات اس کی درآمدات سے کہیں کم تھیں۔
اس فیصلے نے امریکہ کو ڈالر چھاپنے میں ضروری مقدار میں سونے کی موجودگی کی ضرورت سے تو آزاد کردیا لیکن ایک بہت بڑا چیلنج یہ درپیش تھا کہ عالمی منڈی میں ڈالر کی طلب کو کیسے براقرار رکھا جائے۔
تاریخ کے طالب علموں کو یاد ہوگا کہ نکسن کا سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر تھا جو اس صدی کا شائد سب سے بڑا سٹریٹیجسٹ تھا اس مسئلہ کا جو حل کسنجر نے دریافت کیا وہ دم بخود کردینے والی ذہانت پہ مشتمل پلان تھا۔
سیال سونا یا تیل جدید دنیا کی معیشت میں خون کی طرح گردش کرتا ہے بعینہ جس طرح کرنسی معیشت میں خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ اگر ڈالر کو تیل کے ساتھ منسلک کردیا جائے تو عالمی منڈی میں ڈالر کی طلب تیل جتنی ہی ہوجائے گی، یہ تھا وہ بنیادی مفروضہ جس پہ کسنجر نے کام کیا۔ عرب ممالک کو ایک سادہ سے معاہدہ کی پیشکش کی گئی۔ امریکہ ان کے دفاع کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار تھا بشرطیکہ وہ تیل کو صرف ڈالر میں فروخت کریں اور جمع شدہ سرمائے کی امریکی بانڈز و سیکیورٹیز(امریکی قرضہ ) میں سرمایہ کاری کریں۔
سادہ لوح عربوں کے لئے یہ پیشکش ایسی تھی کہ وہ اپنی قسمت پہ نازاں ہو گئے یاد رہے کہ اس وقت تیل کی قیمت بہت کم تھی اور ان کو اس کی قوت و اہمیت کا احساس اتنا نہ تھا یہ ۱۹۷۳ سے قبل کا زمانہ تھا۔
تب سے بریٹن وڈز نظام اپنی اصل میں ختم ہوگیا اور عالمی معاشی نظام پیٹرو ڈالر میں زندہ ہے۔
سونے سے قابل تبدیل نہ رہنے کے باوجود ڈالر کی عالمی طلب اسی وجہ سے قائم رہی جس قدر کوئی قوم خوشحال ہوتی اسی قدر اسے تیل یا ڈالر کی ضرورت ہوتی۔
مشرقی ایشیا کی بہت سی معیشتوں نے اس کا آسان حل یہ ڈھونڈا کہ امریکہ کو برآمد کرو چاہے لاگت سے کم قیمت پہ برآمد کرو تاکہ ہر وقت ضروری مقدار میں ڈالر موجود ہو۔ جسے ڈمپنگ کہا گیا۔ یہ الگ بات کہ اس نے امریکی صنعت کو بہت نقصان دیا۔ پیٹرو ڈالر کی آمد کے پچیس سال بعد ہی امریکہ ایک صنعتی ویرانہ کا منظر پیش کررہا تھا جسے پوسٹ انڈسٹریل ایج کا نام دیا گیا۔ جو الگ موضوع ہے
لیکن امریکہ کو اب اپنی برآمدات کے گرنے یا اخراجات کو کنٹرول کرنے کی چنداں پرواہ نہ تھی۔ اہم ترین بات یہ تھی کہ امریکہ کو نوٹ چھاپنے کے لئے اب سونے کی کسی مقدار کی موجودگی کی چنداں پرواہ نہ تھی۔ کوئی ملک جب اپنی معیشت میں اضافہ سے زائد مالیت میں کرنسی چھاپتا ہے تو کرنسی کی قدر گرتی ہے اور افراط زر پیدا ہوتا ہے لیکن موجودہ سسٹم میں ڈالر کا یہ افراط زر ساری دنیا پہ پھیل جاتا ہے اور باقی دنیا امریکی افراط زر کی قیمت ادا کررہی ہوتی ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی ، اس کی مشرق وسطی میں دلچسپی اور موجودہ عالمی کشمکش کو سمجھنے میں پیٹرو ڈالر کا رول سمجھنا بہت ضروری ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *