• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا عمران خان صرف کرکٹ کھیلنا جانتا ہے؟ محمود فیاض

کیا عمران خان صرف کرکٹ کھیلنا جانتا ہے؟ محمود فیاض

عمران خان نے ساری عمر کرکٹ کھیلی اور اسی میں نام اور شہرت بھی کمائی۔ اس وقت بھی وہ کرکٹ کے ماہرین میں چوٹی کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ کرکٹ سے ریٹائیرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور بیس سال کے طویل (یا مختصر) عرصے میں پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی قوت بن گئے۔ میرے ملک کے دانشور البتہ ابھی بھی عمران خان کو ایک سیاستدان نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اچھا کرکٹر تو تھا مگر سیاست میں وہ بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ کوئی اسکی مردم شناسی ، کوئی اسکی ناکام شادیاں، اور کوئی دھرنوں کی مالا کو اس ناکامی کے لیے بطور دلیل استعمال کرتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی عمران خان کو کرکٹ کے علاوہ کچھ نہیں آتا؟

میرے ملک میں جمہوریت دو خاندانوں کا زاتی کھلیان بنی ہوئی ہے، جہاں ایک دوسرے کو پانچ سال تک ملک لوٹنے کا بھرپور موقع دیا جاتا ہے اور “جمہوریت” پر پہرا دیا جاتا ہے کہ کوئی “طالع آزما” آ کر اس “پارلیمانی اور مقدس” کھیل کو بگاڑ نہ دے۔ پاکستانی سیاست کی کرپشن ، ڈائنامکس، کرداروں اور گندگی کو محض پاکستان کا ہی مسلئہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جسے ” عوام کی حکومت ،عوام کے زریعے،عوام کے لیے ” بھی کہا جاتا ہے۔ قدرت نے حضرت انسان کو سب ہی خطوں میں ایک جیسی خصوصیات دے کر پیدا کیا ہے۔ طاقتور کا وسائل اور کمزور انسانوں پر غلبہ ہمیشہ سے انسان کا پسندیدہ مشغلہ و مجبوری رہا ہے۔ دور بادشاہی سے آج تک پرنالہ وہیں گرتا رہا، یعنی غریب کی کمر پر۔ جہاں کہیں بھی کسی پسماندہ ملک کی جمہوریت کا مطالعہ کریں تو پاکستان کی جمہوریت جیسی ہی کسی شے کا سامنا ہوگا۔ فوج کا طاقتور کردار، مقامی طاقتوروں اور مافیاؤں کا گٹھ جوڑ، بھیڑوں کی گنتی، بیلٹ بکس کا اغوا اور پانامے ، آپ کو ہر ملک میں سب کچھ ملے گا۔

میاں نواز شریف صاحب بجا طور پر فرماتے ہیں کہ ایسی جمہوریت کو عمران خان جیسوں سے ہی خطرہ ہوتا ہے۔ وہ بھی تب تک ، جب تک وہ نمک کے ساتھ نمک نہیں بن جاتا۔ کیونکہ عمران خان جیسے کردار ان جمہوریتوں میں کم ہی ابھرتے ہیں اور اکثر اوقات ابتدا ہی میں دبا دیے جاتے ہیں۔ پسماندہ جمہوریتوں کو عمران جیسے کرداروں سے خطرہ کیوں ہوتا ہے؟ اسکا جواب آسان ہے۔ کیونکہ یہ نہ تو مافیا ہوتے ہیں ، نہ ہی وڈیرے اور سردار، اور نہ ہی بھیڑ بکری۔ اسلیے یہ سب کی آنکھوں میں چبھتے ہیں۔

عمران خان نے کرکٹ چھوڑ کر سیاست شروع کی تو میرے ملک کے دانشوروں میں سے کسی کی بھی پیشین گوئی اس مقام کی نہ تھی جو دو ہزار گیارہ میں سیسی قوت بن کر عمران کو ملا۔ وہی عمران جسے بار بار کرکٹ اور خیراتی کاموں تک محدود رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ عمران خان نے ایسے مشورے نہ مانے اور بالاخر ایک کامیاب سیاسی پارٹی بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ سیاسی پارٹیاں تو ملک میں ہزاروں کی تعداد میں رجسٹرڈ ہیں، مگر اس نے اپنی پارٹی کو ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت بنا دیا۔ اور ایسا اس نے تن تنہا، کسی بڑے سیاسی نام کے بغیر کیا۔ آپ کہہ لیں کہ جاوید ہاشمی، محمود قریشی جیسے سیاسی لوگ اسکے ساتھ تھے، مگر یہ سارا شو عمران خان کا تھا، فیصلے بھی اسکے تھے، غلطیاں بھی اسکی تھیں۔ اب میری دانشوروں سے التجا ہے کہ پاکستان کے سیاسی افق پر سیاست کے ماہر بزرجمہروں میں سے ایسے ایک یا دو نام ہی بتا دیں، جنہوں نے ایک نئی پارٹی بنائی ہو، اور اس کو ملک کی تیسری، چوتھی، پانچویں قوت بنا دیا ہو؟ مگر پھر بھی آپ کے خیال میں عمران کو سیاست کا کچھ پتہ نہیں۔

2013 کے الیکشن میں اپنی توقع کے برعکس عمران خان صرف قومی اسمبلی کی 33 سیٹیں لے سکا۔ اور خیبر پختونخواہ میں وہ جماعت اسلامی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے لائق ہو سکا۔ بہت غلطیاں اس نے کیں، دوستوں اور خیرخواہوں کو ناراض کیا، اسکی مردم نا شناسی ہر جگہ آڑے آئی اور کئی اچھے لوگوں نے پارٹی کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ انٹراپارٹی الیکشن کی وجہ انتخابی مہم کا وقت ضائع کیا اور دیگر غلطیاں بھی، مگر ملک کے دوسرے بڑے ووٹ بینک کا مالک بن گیا۔ سن تیرہ کے الیکشن عمران خان اور اسکی پارٹی کے نوجوان ووٹروں کے لیے ایک فلمی کہانی بن گئے۔ چوہدری کے غنڈے انکی آنکھوں کے سامنے انکا بویا اناج لوٹ کر لے گئے، اور مسجد کا ملا اور گاؤں کا پٹواری چوہدری کی بےگناہی ثابت کرنے حلفیہ بیان دینے پہنچ گئے۔ عمران خان کے اندر کا کھلاڑی یہ نا انصافی برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ چوہدری کو گنہگار ثابت کرنے کے لیے تھانہ کچہری کے چکر لگانے لگا۔ اور بالاخر چودہ مہینوں تک ہر آئینی طریقہ اختیار کرنے اور ہر آئینی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد اس نے اپنا جمہوری حق احتجاج استعمال کرنے کا اعلان کیا۔ میں اکثر حیرت سے ان دانشوروں کے مضامین پڑھتا ہوں جو دن رات اس بات پر کڑہتے رہتے ہیں کہ کوئی بھی بندہ دس ہزار لوگ لے آئے گا اور اپنا فیصلہ حکومت سے منوا لے گا۔ کیا انکا یہ “کوئی بھی بندہ” ان مراحل سے گزر کر آئے گا جن میں سے عمران خان گزرے ہیں؟ کوئی بھی بندہ اگر اپنی ساری جوانی لگا کر ملک کا نام روشن کرے، پھر سترہ سال اپنی قوم کو جگانے پر لگائے اور اس پر اپنی خانگی زندگیبھی قربان کر دے، اور اس ملک کے ٨٠ لاکھ ووٹوں سے پارلیمنٹ میںآئے ۔ پھر اپنے چرائے گئے مینڈیٹ کے لیے چودہ مہینے تک انصاف مانگے، تنگ آ کر حکومت کو وارننگ دے مگر جواب میں وزیروں کےبچگانہ ٹھٹھا مخول سے بھرے جواب سن کر عوام کی طاقت سےاحتجاج کرنے کا اعلان کرے؛ تو یہ اسکا جمہوری حق کہلائے گا یا دس ہزاری دستے کی چڑھائی؟ پھر عمران خان کو سیاست سکھانے والے بزرجمہر اسکو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ یہی جمہوری حق نوازشریف اور بینظیر نے اپنے اپنے وقت میں کھل کر استعمال کیا تھا۔ کیا یہ اس وقت ایک سیاسی عمل تھا، اور عمران خان تک آتے آتے کرکٹ کا کھیل بن گیا؟

یہ بات ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ عمران کو سیاست سے زیادہ کرکٹ کی سمجھ ہے اور وہ سیاست میں بھی کرکٹ ہی کھیل جاتا ہے۔ عمران خان پاکستان کی سیاست کو اس طرح سمجھتا ہی نہیں جس طرح نواز شریف ، آصف زرداری، یا مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں۔ عمران خان وہ سیاست جانتا ہے جس میں لوگ اپنی مرضی سے ووٹ ڈالتے ہیں، جبکہ پاکستان میں وہ سیاست کامیاب ہے جس میں بقول چوہدری شجاعت “مٹی پاؤ” اور عوام کو بیوقوف بنا کر ووٹ لے لو، اور اسکے لیے ہر ہر حربہ جائز سمجھو۔ یاد رکھیے، کرکٹ میں پیویلین میں بیٹھے مخالف ٹیم کے کھلاڑی کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اہمیت صرف اور صرف ایک کھلاڑی کی ہوتی ہے، جو پیڈ باندھے، بیٹ اٹھائے سامنے وکٹ پر کھڑا ہو۔ کرکٹ کے کپتان کو پتہ ہوتا ہے، اسکی وکٹ گرے گی تو کھیل کا پانسہ پلٹ جائے گا۔ پیویلین کے کھلاڑی خود سے ہمت ہار جائیں گے۔ ہارتا ہوا میچ جیت میں بدل جائے گا۔ ایسے وقت میں ایک جارح کپتا ن اپنی ساری غلطیاں، کمزوریاں بھول جاتا ہے۔ کس اوور میں کیا غلطی ہوئی، اور کس کیچ کے چھوٹ جانے پر کتنا نقصان ہوا، وہ یہ سب اپنے دماغ سے نکال دیتا ہے۔ اور اپنی ساری توجہ اور توانائی صرف اور صرف اس وکٹ پر کھڑے کھلاڑی کو آؤٹ کرنے پر لگا دیتا ہے۔ 

جو دانشور عمران کو یہ مفید مشورے دے رہے ہیں کہ وہ احتجاج چھوڑ کر اگلے الیکشن کی تیاری کرے وہ نہیں جانتے کہ وہ میچ آخری بال تک کھیلتا ہے، اور پیویلین لوٹنے تک اگلے میچ کا نہیں سوچتا۔ پانامہ لیکس نے میچ کے آخر میں ایک بونس اوور عمران خان کو دیا ہے اور اسکے اندر کا فائیٹر کپتان کرکٹ کا میدان سجا چکا ہے۔ بال اس کے ہاتھ میں ہے، اور ہدف سامنے۔ آپ کی طرح مجھے بھی لگتا ہے کہ کپتان کو کرکٹ کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ اور وہ پاکستان کی سیاست میں بھی کرکٹ ہی کھیل رہا ہے۔ مگر امید کے خلاف امید رکھتے ہوئے میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ شائد وہ ایسے ہی اسٹیٹس کو، کو توڑنے میں کامیاب ہوجائے۔ کیونکہ پاکستان کی سیاست میں سیاست کے اندر رہ کر تو یہ کام نہیں ہو سکتا۔

(محمود فیاض: لاہور میں مقیم ، نوجوانوں کے لیے زندگی ، محبت اور خوشی پر لکھتے ہیں۔ اب مکالمہ پر بھی لکھیں گے۔ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کیا عمران خان صرف کرکٹ کھیلنا جانتا ہے؟ محمود فیاض

  1. عمران بھٹو کی طرح ایک اچھا orator ہے اور بس
    عوام سطحی سوچ رکھتی ہے. شعبدہ بازوں کو پسند کرتی ہے. عامر لیاقت جیسے ایسے ہی نہیں مقبول

    اسی صفت کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے چونکہ فی الزمانہ آپ کو بولنا آتا ہوتو کوئی غور نہیں کرتا آپ اندر سے کتنے کھوکلے ہیں.

    جس کو آپ کامیابی سے تعبیر کررہے ہیں وہ دراصل ناکامی ہے. جس محنت کے ساتھ عمران لاہور جلسہ ٢٠١٠ تک پہنچا تھا وہ ساری محنت اس نے آنے والے دنوں میں ضائع کر دی.

    عمران نے بہت بڑا موقع ضائع کردیا ہے. اس کے پاس ایک انقلابی تحریک بنا کر سسٹم کو لپیٹنے کا موقع تھا. مگر اس نے جوانوں کی ساری توانائیاں سطحی سیاست میں ضائع کر دیں

    1. میرے بھائی، ورلڈ کپ اچھا بولنے کی صلاحیت سے نہیں جیتا جاتا
      دنیا کے بہتریں کرکٹ کھلاڑی اچھا بول کر نہیں بنا کرتے
      فری علاج کرنے والا کینسر کا ہسپتال باتوں سے نہیں بنتا
      تھرڈ ورلڈ کے ملکوں میں ایک پہلے درجے کی نئی سیاسی جماعت صرف کھوکھلے پن سے نہیں بن پاتی
      کچھ تو کریڈٹ دینا چاہیے نہ بندے کو
      ۔ ۔ ۔ آپ گلاس کو آدھا خالی دیکھ رہے ہیں، جبکہ میں آدھا بھرنے کو عمران کی کامیابی سمجھ رہا ہوں۔
      اس نے اپنی زندگی میں جو کچھ کر دیا ہے، وہ بھی کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں، وہ کچھ اور نہ بھی کر سکا تو ہسٹری میں اسکا نام اس صدی میں تو بھلایا نہ جا سکے گا۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *