فرضی ہیرو ۔ سجاد حیدر

فلم سازی آرٹ کا ایک ایسا شعبہ ہے جو ہر روز کچھ نیا لے کر آتا ہے۔ اسکے طاقتور ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ طاقتور اقوام اسے بطور پروپیگنڈا ہتھیار استعمال کر رہی ہیں اور خوب کر رہی ہیں۔آپ اگر امریکی فلموں کے دلدادہ ہیں تو آپ ان فلموں میں امریکی فوجی کے کردار سے ضرور واقف ہوں گے۔ ہر امریکی فوجی ہیرو بہت بہادر, بے حد ایماندار اور اپنے مشن پر ہر چیز حتی کہ اپنے بیوی بچے تک قربان کردینے والا ہوتا ہے۔ وہ اکیلا عراق, افغانستان, روس, چائنہ یا شمالی کوریا جاتا ہے اور دشمن کی تمام ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے مشن ( جو اکثر کسی منحرف سائنسدان کی بازیابی یا دشمن کے تیارکردہ کسی خطرناک ہتھیار، جو بنی نوع انسان کے لیئے بے پناہ خطرات لیئے ہوئے ہوتا ہے، کی تباہی پر مشتمل ہوتا ہے ) کو مکمل کر کے واپس آ جاتا ہے جہاں ہیروئین اسکا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ مشن کی تکمیل کے دوران یہ ہیرو عورتوں, بچوں اور بوڑھوں پر مہربان, عوام میں گھل مل جانے والا اور انسانیت سے پیار کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکن دشمن کے لیئے پیام موت ہوتا ہے۔


ممبئی (بالی ووڈ) بھی اس کو نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بہت ہی بھونڈے انداز میں۔ بہر حال آمدم برسر مطلب آجکل اس آرٹ کی ایک نئی شکل بہت مقبول و مشہور ہے، اینیمیٹڈ موویز ،جن میں جانور یا مشین نما کارٹون مختلف کردار نبھا رہے ہوتے ہیں۔
انکو دیکھنا اگرچہ ہم جیسے لوگوں کے لیئے بہت مشکل کام ہوتا ہے لیکن بچوں کی خاطرکبھی کبھار بیٹھنا پڑ جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایسی ہی ایک مووی “بولٹ” دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس فلم کے ڈائریکٹر کرس ولیم اور بائرن ہوارڈ اور پروڈیوسر کلارک سپنسر اور جان لسٹر ہیں۔ اس فلم کی کہانی ایک چھوٹے سے کتے بولٹ کے گرد گھومتی ہے، یہ کتا ایک ایکٹر ہے جو فلموں میں ایک سپر ہیرو کا کردار ادا کرتا ہے۔ فلم کے مناظر میں اسکی معمولی حرکات کو بہت زیادہ مبالغہ کے ساتھ اور بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ اسکی ہف ہف کی آواز سے زلزلہ پیدا ہو جاتا ہے اپنے پنجوں اور پاؤں کی ٹھوکروں سے بڑی بڑی بھاری گاڑیوں کو اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب بولٹ جب فلم کی سکرین پر اپنے آپ کو یہ کارنامے کرتے دیکھتا ہے تو وہ واقعتاً اپنے آپ کو ایک طاقتور کتا سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی حیوانی عقل کے تحت یہی سمجھتا ہے کہ یہ سب اسکے اصل کارنامے ہیں وہ اپنے آپ کو اتنا ہی طاقتور سمجھتا ہے جتنا اسے فلم میں دکھایا جاتا ہے۔ فلم کی کہانی جب آگے بڑھتی ہے تو بولٹ اپنے مالکوں سے جدا ہوجاتا ہے اور مختلف پریشانیوں میں گھر جاتا ہے۔ اب چونکہ وہ اپنے آپ کو ایک سوپر ہیرو تصور کرتا ہے, اسے اپنی طاقت پر اندھا اعتماد ہوتا ہے لہذا وہ اپنی آواز سے زلزلہ پیدا کرنا چاہتا ہے, اپنی ٹھوکروں سے ہر رکاوٹ کو اڑانا چاہتا ہے اور وہ وہی کارنامے سر انجام دینا چاہتا ہے جیسے وہ سکرین پر اپنے آپ کو کرتے دیکھتا تھا۔ لیکن اسکے منہ سے سوائے ہلکہ سی بخ بخ کے کچھ نہیں نکلتا۔ زیادہ زور لگانے سے وہ اپنا گلا تباہ کربیٹھتا ہے۔ جس ٹھوکر سے بڑی بڑی روکاوٹیں ہٹا دیتا تھا اب اس ٹھوکر کا انجام پیر پر سخت چوٹ کے کچھ نہیں نکلتا۔ بلکہ لنگڑا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اصل طاقت اسکے جسم میں پوشیدہ نہیں تھی بلکہ کیمرہ ٹرک اور کمپیوٹر کی مرہون منت تھی ۔جن کی مددسےاسے ہرکولیس بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔

یہ فلم دیکھ کر نہ جانے کیوں مسلمان ممالک کے کچھ بھولے بسرے ایڈوینچر پسند حکمران یاد آ گئے۔ ایک مثال صدام حسین تھے جن کو مغرب نے ایک ہوا بنا کر پیش کیا کبھی انکے کیمیائی ہتھیاروں کی ہولناکی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تو کبھی کئی میٹر لمبی بیرلز والی توپوں کی کہانیاں عام کی گئیں ( اللہ معاف کرے میں نے خود ایک پاکستانی اخبار میں ان توپوں کی لمبائی کلومیٹرز میں پڑھی تھی )۔ اسکی سپیشل فوج کی بہادری کے چرچے ایسے تھے کہ لگتا تھا اب امریکہ اور اسرائیل بس چند دنوں کے ہی مہمان ہیں۔ معصوم اور بھولی بھالی امت مسلمہ نے اسے اپنا نجات دہندہ سمجھ لیا۔ کسی کو اس کی شکل میں صلاح الدین ایوبی نظر آتا تھا تو کچھ سادہ لوح اسے امام مہدی کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ اسرائیل کی تباہی و بربادی بس دنوں کی بات لگتی تھی۔ لوگوں نے بیت المقدس میں جمعہ پڑھنے کے لیئے عمامے اور جبے سلوا لیئے تھے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو صدام حسین کی گھوڑے پر سوار تصویر جس میں موصوف نے اسلام کا جھنڈا پکڑا ہوتا تھا, ہر دوسری گاڑی پر نظر آتی تھی ( اس خاکسار نے صدام حسین کے ہاتھ میں پاکستان کا چاند تارے والا جھنڈا بھی دیکھا تھا )۔ صدام حسین نے بھی مغرب کے پھیلائے اس جھوٹ کو سچ سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو ایک سپر ہیرو سمجھ لیا تھا۔ ہفتے میں ایک آدھ بار تل ابیب پر چند سٹنگر میزائیل فائر کر کے مسلما نوں کی امیدوں اور آرزوؤں کو زندہ کر دیتے تھے۔

لیکن ہوا کیا جب اس مانگے تانگے کی طاقت کو آزمانے کا وقت آیا تو سب کچھ ٹھس ہو گیا۔ جن توپوں کی زد میں اسرائیل کے تمام شہر تھے وہ توپیں نہ جانے کہاں گئیں۔ جس سپیشل فورس نے بیت المقدس کو آزاد کروانا تھا وہ بغداد کے نواح میں ہی تتر بتر ہو گئی۔ جن کیمیائی ہتھیاروں کے ڈر سے اسرائیل کا ہر شہری سور کی تھوتھنی والے لباس پہن کر پھر رہا تھا وہ مسٹرڈ گیس کے چند سلنڈر نکلے۔ صرف اس لیئے کہ اسکی طاقت کے غبارے میں ہوا مغرب نے اپنے میڈیا کے ذریعے بھری تھی۔ حقیقت کی دنیا بہت تلخ تھی امریکہ نے اپنا ایک بھی فوجی عراق میں اتارے بغیر صرف فضائی بمباری سے ہی عراق کی ساری قوت کو بکھیر کر رکھ دیا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا امریکہ نے ایک پلان کے تحت ساری امت مسلمہ کی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز صدام حسین اور عراق کو بنا دیا۔ صدام حسین کو اپنے بے پناہ طاقتور ہونے کا یقین دلایا اور کویت کی شکل میں اس طاقت کو نافذ عمل ہونے کا ثبوت بھی فراہم کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

(جھنگ کے لہجے اور طبیعت کے مالک سجاد حیدر ایک استاد اور سما نیوز پیپرز کے ساتھ بطور کالمسٹ منسلک ہیں۔ معاشرے میں پھیلی ذہنی پسماندگی دور کرنے کی خواہش آپ کو لکھنے پر اکساتی ہے۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *