• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • سکردو کے نواحی علاقہ ستق چن شغرتھنگ میں تعلیمی مسائل۔۔۔۔ سید مرتضیٰ موسوی

سکردو کے نواحی علاقہ ستق چن شغرتھنگ میں تعلیمی مسائل۔۔۔۔ سید مرتضیٰ موسوی

یوں تو سکردو شہر سے قریب تر ہونے کے باوجود حلقہ دو کے تمام علاقے مسائل کے شکار ہیں جوکہ حلقہ حد سے زیادہ بڑا ہونے کے ساتھ آبادی کے  تناسب میں اضافے کی وجہ سے ہے دوسری بات باربار عوامی ووٹ سے اقتدار میں آنے والوں کی عدم توجہی یاپھر ان کی ناکامی کی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔ چند دنوں پہلے سوشل میڈیا کے  توسط سے شغرتھنگ کے چند باشعور افراد سے رابطہ ہوا جو ایک منظم انداز میں علاقے کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل ہیں۔

ستقچن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے ایک سماجی تنظیم ہے جس کے کارکن ملک کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں۔ کراچی میں مقیم تنظیم کے ذمہ داروں نے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیاچونکہ میں بھی ایسے ہی لوگوں کی تلاش میں رہتا ہوں جو کسی سماج کی تعمیر وترقی میں مصروف ہوں ، اس لیے پہلی ہی فرصت میں ان سے ملاقات کو اپنے لیے غنیمت جانا اور انہیں ملاقات کے لیے دعوت دی۔ ملاقات میں کافی شکوہ شکایت سننے کو ملا۔ ایک طرف سے ان کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ حلقہ بڑا ہونے کی وجہ سے سب کی  یہی صورت حال ہے۔

لیکن دوسری جانب صدیوں سے اقتدار میں آنے والے نام نہاد عوامی نمائندوں کی بے حسی اور ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہ پر افسوس کے سوا کچھ نہ کرسکا۔ جب شغرتھنگ کے مسائل کی فائل کھولی تو ایسا لگا کہ ہر مسئلے  پہ ایک مکمل کتاب  لکھی جا  سکتی ہے۔ لیکن دورجدید میں بھی تمام تر بنیادی حقوق سے محرومی کے باؤجود ان جوانوں کا حوصلہ اور عزم دیکھ کرانہیں داد دیے بغیر نہ رہ سکا اور ان کے  پرعزم چہرے دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ملا، ساتھ ہی میری معلومات میں بھی کافی اضافہ ہوا۔

علاقہ شغرتھنگ سکردو شہر سے 52 کلومیٹر کے فاصلے پر کچورا کے بالائی حصے میں واقع ہے۔ جوکہ میرے اپنے حلقہ میں شامل ہے۔ جہاں عوامی نمائندے صرف الیکشن کے وقت ہی نظر آتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے علاقہ پسماندہ ہےاور   مکین آج کے دور میں بھی پتھر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ علاقہ پانچ چھوٹے بڑے گاؤں پر مشتمل ہے اوریہاں کی کل آبادی تقریباً 160 گھرانوں اور 2000 کے قریب نفوس پر مشتمل ہیں۔

موجودہ آبادی سے دو گنازیادہ گھرانے یہاں کی مشکلات کی وجہ سے ہجرت کرکے شہر کے مختلف مقامات پر بس گئے ہیں، چونکہ یہاں کے عوام کو، تعلیم، صحت، سڑک، اور پانی و بجلی جیسی  بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔ لیکن اس حال میں بھی چند سرپھرے افراد اپنی مدد آپ وہاں نئی نسل کے  مستقبل کے لیے تعلیمی میدان میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں وہ ہمارے لیے قابل تقلید ہیں ۔ انسانی زندگی کے تمام تر بنیادی حقوق سے محرومی کے باوجود بھی ایک منظم انداز میں ملک کے مختلف شہروں میں ہوتے ہوئے بھی اتحاد کا اس قدر مظاہرہ کرنا کمال کی بات ہے۔

یہاں کے مسائل کی بات کروں تو جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ اگر ہر مسئلے پہ گفتگو شروع کروں تو نا ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ البتہ میری ہمیشہ سے یہی روش رہی ہے کہ تعلیمی مسائل کوترجیحی بنیادوں  پر اجاگر کروں چونکہ جہاں تعلیمی نظام درست ہو اور لوگ پڑھے لکھے ہوجائیں تو باقی مسائل خود ہی  ختم  ہوجائیں  گا۔ اس لیے یہاں کے تعلیمی مسائل کے  ضمن میں چند اہم باتوں کا تذکرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ چونکہ تعلیم اور صحت اس دور میں انسان کی زندگی کا سب سے اہم حصہ  ہے۔

تعلیمی میدان میں دیکھا جائے توستقچن گاؤں میں ایک غیر ملکی این جی او کی عنایت سے کافی عرصہ پہلے چار کمروں پر مشتمل ایک عمارت تعمیر کی گئی تھی اب اس کی حالت زار یہ ہے کہ رسیوں سے باندھ کر گرنے سے بچایا ہوا ہے۔ جوکہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا شکار ہوسکتی ہے۔ یہاں تقریباً  80 بچے زیرتعلیم ہیں۔ جبکہ حکومت کی طرف سے یہاں صرف ایک بورڈ نصب کرانے اور ایک ٹیچر کی تعیناتی  کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ لیکن جو بھی ٹیچر گورنمنٹ کی طرف سے آتا ہے وہ یہاں رہنے پہ راضی نہیں ہوتا اور اپنے سیاسی اثر رسوخ کے ذریعے ٹرانسفر کرواکر اپنی مرضی کی جگہ ڈیوٹی دیتا ہے۔

دور دراز علاقوں کے رہائشی اساتذہ کو یہاں کی سیٹوں پر بھرتی کرکے صرف علاقے کے نہیں بلکہ ان ٹیچروں کے ساتھ بھی نا انصافی کی حد کردی ہے۔ یہ اساتذہ سال کا بیشتر حصہ سکول سے غائب رہتے ہیں لہذاضرورت اس امر کی ہے اسی علاقے کے پڑھے لکھے افراد کو ہی یہاں تعینات کیا  جائے تاکہ علاقائی مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ بھی کرسکیں ۔ یہاں پرائمری کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے والدین استطاعت نہ رکھنے کی بناپر اپنے بچوں کو تعلیم کے بجائے محنت مزدوری کی طرف لے جانے پر مجبورہیں۔جس کی بناپر شرح خواندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

سکولوں میں پڑھائی کی صورت حال یہ ہے کہ یہاں کے پڑھے ہوئے خوش قسمت بچے جو اعلیٰ تعلیم کی غرض سے شہر کے سکولوں میں پہنچ جائے تو اکثر پہلے کے دو تین سال ایک ہی کلاس میں رہ جاتے ہیں۔ شغر تھنگ میں ایک مڈل سکول ہے لیکن یہاں بھی سٹاف اور دیگر ضروریات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک ٹیچر کا تعلق شہر سے ہونے کی وجہ سے ڈیوٹی بھی شہر میں ہی دے رہا ہے اور مڈل سکول جوکہ 100 سے زائد طلباء و طالبات کے  مستقبل کی ضمانت ہے صرف 4 ٹیچرز کے  رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔ جن کی حاضری سے زیادہ چھٹیوں کی تعداد ہے چونکہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں اس لیے جب دل چاہے ڈیوٹی دیں جب دل چاہے چھٹی کریں۔ کیونکہ شہر میں رہنے والوں کو دیہات میں ڈیوٹی دینا اور وہ بھی ایسے  دیہات جہاں کے لوگوں کو  بنیادی حقوق بھی میسر نہ ہو ں واقعاً  بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ سکول شغرتھنگ کے سب سے آخری حصے میں قائم ہونے کی  وجہ سے دوسرے گاؤں کے بچوں اور چھوٹی عمر کے طلبہ کوحصول علم کی راہ میں کافی دشواری کا سامنا ہے۔

جبکہ اس علاقے کی بیٹیاں تو ابتداء سے ہی تعلیمی زیورسے محروم رہ جاتی ہیں۔ اور ابھی گلگت بلتستان کے تمام سکولوں میں 11 مارچ سے تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں  لیکن یہاں ایک ماہ گزرنے کے باؤجودبھی ابھی تک اسکولز بند ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ نہ ہی ضلعی انتظامیہ کو اس بات کی خبر ہے نہ ہی محکمہ تعلیم کو کوئی فکر ہے اور نہ ہی ہمارے منتخب عوامی نمائندہ اس بات سے باخبر ہیں۔ اس سال شدید برف باری کے باعث پانچ مہینوں سے اب تک روڈ بھی بند ہے جس کی بناپرعلاقے کا شہر سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہے۔ جبکہ دیگرذرائع ابلاغ اور کمیونیکیشن کا سرے سے ہی کوئی نظام نہیں۔

اگر متعلقہ محکمہ خود سے کچھ نہیں کرسکتا  تو کم ازکم ان جوانوں کی حوصلہ افزائی کرلینی چاہیے جو اُن کے کام کو بغیر کسی  معاوضے کے  عوض   بطریق احسن نبھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لہذا یہاں کے عوام کامطالبہ ہے کہ تعلیمی میدان میں فوری اصلاحات لائی جائیں۔ مزیدتعلیمی ادارے قائم کیے جائیں اور یہاں کے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ ستق چن کے پرائمری سکول کو مڈل اسکول اور شغرتھنگ کے مڈل سکول کو ہائی اسکول کا درجہ دیا جائے تاکہ یہاں کے طلبہ و طالبات کم از کم میٹرک تک کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ جس کے لیے یہاں کے نوجوان متعلقہ محکمہ اور ضلعی انتظامیہ سے ہر قسم کے  تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *