عطرِ زیست۔۔۔۔محمد خان چوہدری

چکوال میں چھپڑ بازار کی صفائی ستھرائی ،سجاوٹ کی ویڈیوز دیکھتے ماضی کا ایک ورق ۔۔۔یاداشت سے سامنے آ گیا،
شہر کے شمالی محلہ میں درجنوں کھُوہ ۔ رہٹ سے پانی نکالنے کے کنوئیں  تھے۔جن پر سبزیاں کاشت کی جاتی تھیں سوائے ہمارے دادا کے کھُوہ کے جہاں مال مویشی بہتات سے تھے ان کے لئے ہرا چارہ ہی اگایا جاتا تھا۔
صبح جب ہر کھُوہ پہ سبزی چُنی جاتی اسے ٹوکریوں میں سجا کے ، ترنگڑ میں باندھ کے گدھی پر  لاد کے اسی چھپڑ بازار میں سبزی منڈی پر نیلام کے لئے لے کے جاتے تو دل میں ہُوک اٹھتی کاش ہم بھی یہ دلکش عیاشی کر سکتے۔۔۔۔
ایک روز ہم سے رہا نہ گیا تو صبح سویرے بلکہ منہ اندھیرے ہم کھُوہ پہ جا پہنچے ۔۔۔چارہ کے لئے برسیم تیار تھی، چار پانچ کیارے کاٹ ڈالے۔
ترنگڑ میں نرم نرم تہیں جوڑ کے بڑا نظر آنے والا بھار باندھا ۔کھوتی پہ  اسے رکھوایا اور منڈی پہنچ گئے۔
وہاں دیگر لوگ بھی برسیم بیچنے آئے تھے اور چارہ رکھنے کا حاطہ بنا تھا
نیلامی کے لئے بولی شروع ہوئی  اور باری باری گانٹھیں بکنے لگیں
زندگی میں پہلی بار یہ کام کرنے کا جوش اور ہیجان شدید تھا۔
جس آڑھت پہ  بولی ہو رہی تھی وہ ہمارے بزرگ چوہدری حبیب خان اور دوریز خان کی تھی، منشی جی ذاکر غلام حیدر مرحوم تھے، چشمہ ناک پے ٹکائے ہاتھ میں سرخ جلد والا لمبوترا کھاتہ پکڑے جب سامنے آئے تو ہم نے کپکپاتی آواز میں سلام کیا۔۔
حیران سے ہوئے ، بولی ہو چکی، کھاتے میں خریدار کے حساب میں اندراج کے بعد ذاکر انکل نے ایک چیٹ تھمائی  کہ آڑھت پر  جا کے پیسے لے لوں۔
بابا جی حبیب خان جو آڑھتی چھوٹی میز کے سامنے فرش پر گدی پہ بیٹھے تھے  ان کو چِٹ پیش کی تو وہ چونک گئے، پھر مجھے پیار کیا ،دعا دی اور ساڑھے چار روپے پکڑا کے بولے۔۔۔
بیٹا، دل خوش کر دیا تم نے، محنت ہی اصل چوہدراہٹ ہے بہت ترقی کرو گے۔
ویسے رشتے میں وہ ہمارے نانا لگتے تھے !
خوشی خوشی گھر پہنچے امی کو پیسے پکڑائے ، پتہ نہیں  کیوں انکی آنکھیں بھرا گئیں۔انکے پاس پرانی کام والی نانی بانو بھی بیٹھی تھی۔۔
اسے جب پتہ چلا کہ میں منڈی پہ چارہ بیچ کے یہ پیسے کما کے لایا ہوں تو وہ رو پڑیں۔۔
یہ اظہار غم تھا یا شکرانہ ہم اس وقت سمجھنے کے قابل نہ تھے
منہ ہاتھ دھو کے ناشتہ کرتے ہم نے دیکھا کہ امی نے ایک یا دو روپے بانو کو چپکے سے تھما دئیے۔
بانو نے جاتے ہوئے پیار کیا ، دعا دی ، پترا شالا کدی لوڑ دی تھوڑ نہ آوی۔۔۔
اب ہم اس عمر میں ہیں جس میں تب نانی بانو تھی تو اس دعا کی ماہیئت اور اہمیت سمجھتے اور محسوس کر سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *