نکاح, بلوغت اور معاشرتی مسائل۔۔۔بلال شوکت آزاد

شادی ایک سائیکولوجیکل, فزیکل, سوشل اور ریلیجیئس ایکٹیویٹی ہے لہذا میں چاہوں گا کہ اس پر مجھے کھل کر بات کرنے دی جائے چہ جائیکہ کوئی مجھ پر مواد برائے بالغان کا ٹھپہ لگا کر قدغن لگائے۔

ماشاء ﷲ آج ہم جدت اور ترقی و ارتقاء کے جن مراحل سے گزر کر جس سٹیج پر کھڑے ہیں وہ معاشرتی و مذہبی لحاظ سے بہت وسیع الجہت اور خطرناک ہے۔

شادی اور پھر اسکے وقوع ہونے کی مدت اور عمر کا تعین ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس پر بحث و مباحث سے زیادہ اس کے لیئے ذہن سازی و تربیت اور اس کا قابل قبول حل تلاش کرنا اور لاگو کرنا از حد ضروری ہے۔

سوال تو بہت سے ہیں شادی خانہ آبادی کے حوالے سے آج ہمارے معاشرے میں لیکن اہم سوال دو ہی ہیں بلکہ میں تو اس کو ایک ہی سوال کہتا اور سمجھتا ہوں لیکن چلو عوام کی خواہش پر ہم اسے دو ہی کہہ لیتے ہیں کہ

شادی کم عمری میں کرنی چاہیے؟

یا

شادی کم عمری میں نہیں کرنی چاہیے؟

پہلے تو میں چاہوں گا کہ ہم “کم عمری” کی اصطلاح کو واضح کرلیں کہ یہاں کم عمری سے مراد کیا چھ سال, نو سال, بارہ سال, سولا سال یا اٹھارہ سال ہے یا اس سے بھی اوپر والی عمر کو کم عمری تصور کیا جائے گا؟

میں قیافے نہیں لڑاتا بلکہ دو جہات سے کم عمری اور بلوغت کو واضح کرتا ہوں۔

کم عمری کا اسلام میں جو پیرا میٹر ہے وہ انسان کی ہارمونل گروتھ کا نکتہ آغاز ہے۔

مطلب جب بچہ یا بچی میں بنیادی ہارمونل چینجز کی بدولت جنسیاتی عوامل زندہ ہونگے جیسے کہ لڑکوں کے چہرے پر داڑھی کے بال, زیر ناف بال اور عضو تناسل میں شہوت سے تناؤ و اختلام کی صورتحال ہو اور لڑکیوں میں سینے کے ابھار کا بھرنا, زیر ناف بالوں کی گروتھ اور حیض کے مسائل کا شروع ہونا بلوغت کی واضح اور صریح نشانیاں ہیں, تب وہ عمر میں خواہ دس سال ہوں یا اٹھارہ وہ بالغ شمار ہوتے ہیں کہ انہیں بنیادی جنسی عوامل کا اب  علم ہے اور وہ اس قدرتی عمل کا حصہ ہیں اور یہ کہ یہ عوامل ان کی جسمانی و نفسیاتی ہی نہیں بلکہ مذہبی و معاشرتی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

لہذا ہمیں اسلام نے عمر کی گنتی کی قید سے چھٹکارہ دے دیا اور بات کو جسمانی تبدل سے نتھی کردیا اور سمجھادیا کہ بلوغت کے فوراً بعد والدین بچوں کے نکاح کروادیں تاکہ وہ پاکباز اور پرہیزگار رہیں اور بیشک نکاح نصف ایمان ہے جس کی تکمیل بلوغت کے فوراً بعد لازم ہے۔

ہمارے پاس مذہب سے بلوغت کی عمر اور دلیل آگئی کہ ہم بچوں کو جلد از جلد حلال جنسی اختلات جو کہ ان کا فطری و شرعی حق ہے کے لیئے نکاح کی ترغیب دیکر نکاح کروادیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں جنسی و جسمانی بلوغت کی شرح عمر آٹھ سے بارہ سال ہے اس وقت اعداو شمار کے لحاظ سے, مطلب دنیا میں ہر آٹھ سے بارہ سال کا بچہ یا بچی ہارمونل گروتھ اور  تبدیلیوں  سے بالغ ہورہا ہے, مطلب ان میں جنسی تحرک پیدا ہورہا ہے جس کا مغرب میں علاج تو لیونگ ریلیشن شپ ہے جس کو عام طور پر گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ریلیشن کہا جاتا ہے لیکن قانونی عمر جو بچوں کو بالکل آزاد کردیتی ہے جنسی اختلات کے لیئے وہ 16 سال اور بعض جگہ 18 سال ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں 16 سال سے کم عمر بالغ بچے مرضی سے اختلات نہیں کرتے یا انہیں بنیادی جنسیات کی خبر نہیں۔

خیر ہمارے مشرقی معاشرے کی بات کریں, پاکستان کی بات کریں تو نہ ہم مذہبی قانون بلوغت کو تسلیم کرکے عمل کررہے اور نہ اپنے آقاؤں کے دیئے معاشرتی قانون مطلب 18 سال کی عمر کو بلوغت کی عمر تسلیم کرکے عمل کررہے ہیں۔

حالانکہ معاشرتی و آئینی عمر بالغ تسلیم کرنے کے لیئے 18 سال ہے۔

اب کم عمری کی شادی کی بات کرلیں کہ جب مذہبی شرط کو فالو کریں تو کدھر گئی کم عمری؟

مطلب بارہ یا چودہ سال کا بچہ بچی بالغ ہوگئے تو ہم ان کی جبلت اور فطرت پر پہرہ دیکر بیٹھ جائیں؟

تعلیم, ذریعہ معاش اور سوجھ بوجھ کو پیرا میٹر بنادیں بلوغت کا کہ یہ پچیس یا تیس کے ہونگے جملہ لوازمات کی تکمیل کے بعد تو نکاح کریں گے؟

پر وہ بچے زیادہ سے زیادہ چار سال صبر کے گھونٹ پیئں گے بلوغت کے بعد, پھر ان کو جبلت اور فطرت اکسائے گی خاص کر تب جب آپ کا معاشرہ شہوت, عریانی اور ننگ کو جائز قرار دیکر کھلی چھوٹ دیئے بیٹھا ہو کمرشلی, ایتھیکلی اور لیگلی, تو وہ چور راستے تلاش کریں گے جسمانی بھوک مٹانے کی خاطر۔

اگر تہذیب یافتہ خاندان کے بچے ہوئے تو موجودہ زمانے کی ایجادات کا سہارہ لیکر جنسی تسکین حاصل کریں گے یا اپنی سوسائٹی میں خفیہ ریلیشن بنا لیں گے۔

اور اگر کسی پسماندہ خاندان یا غریب خاندان کے بچے ہوئے تو وہ بھی دستیاب جدید ذرائع سے جنسی تسکین اور خود لذتی کا فائدہ اٹھائیں گے یا پھر ناجائز تعلقات کی سیڑھی چڑھیں گے اور ناکامی پر پھر وہی کریں گے جو اس وقت عام ہے کہ کمسن بچے بچیوں پر جنسی حملہ کرکے مجرم بنیں گے اور معاشرے کو عدم تحفظ کی جانب لیکر جائیں گے۔

ایسی صورت میں ہم سراب کے پیچھے دوڑ کر اپنے بچوں کا ہر طرح کا مستقبل داؤ پر لگائیں گے تو کیسے چلے گا؟

اس وقت پاکستان میں اوسط عمر کی حد 45 سال سے 60 سال ہے اور جو  ہمارے اندرونی معاشی, اقتصادی, تعلیمی, صحت اور عمومی مسائل کی زد میں آکر دن بدن گھٹ رہی ہے۔۔

ایسے میں آپ بچے کی پچیس سے تیس سال شادی روکیں گے دراصل اسکی جبلت و فطرت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے تو معاشرہ عدم توازن کا شکار نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟

یہ بحث ہی فضول اور غیر ضروری ہے کہ کم عمری کی شادی کرنی چاہیے یا نہیں بلکہ بحث کا مدعا یہ ہونا چاہیے کہ بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی اور اس کے زیر اثر معاشرتی و مذہبی جرائم کی افزائش کو کیسے روکا جائے اور کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ جلد نکاح کی روایت زندہ ہو, اور نکاح ثانی, سوئم اور اربع کی طرف گامزن ہوں, جہیز و بری اور ناجائز اخراجات و خواہشات کو جڑ سے کیسے ختم کیا جائے کہ شادیاں زنا سے زیادہ سستی اور آسان ہوں؟ اور کس طرح یہ راسخ عقیدہ پاکستان کے مسلمان والدین کے ذہنوں میں ڈالا جائے کہ زندگی کی مدت کتنی ہے یہ اللہ کو پتہ ہے اور رزق و رزق سے جڑے معاملات مثلا تعلیم وتربیت اور کام کاروبار کا علم اللہ کو ہے لہذا اپنے بچوں کو نفسیاتی, جسمانی اور معاشرتی سزا دینا بند کریں اور ان کی جلد شادیوں کا بندوبست کریں۔

یقین مانیں شرعیت اور سنت سے دوری نے ہمیں دنیا میں ذلیل کروانا شروع کیا ہوا ہے کہ ہم اب یہ سوال کرتے پھریں کہ شادی کم عمری میں ہو یا نا ہو حالانکہ سوال کرنے والے مسلمان ہیں جن کو اچھے سے بلوغت کے مسائل کا علم ہونا چاہیے اور ان کا ایمان اللہ پر راسخ ہونا چاہیے کہ رزق اور رزق سے جڑے معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں نا کہ انسان کے۔

اب آپ میں سے کوئی ناقد اٹھے گا اور سوال داغے گا کہ جی یہ سب کہنا آسان ہے پر کرنا مشکل اور آپ کا کیا ہے کہ آپ تو دانشور ٹھہرے, قلم گھسایا اور وہ گئے۔ ۔ ۔

تو نہیں جی میں اس اعتراض کا جواب ادھر ہی دے دیتا ہوں کہ میری منگنی مطلب نصف نکاح بیس سال کی عمر میں ہوگیا یعنی مجھے اور میری بیوی کو ایک مقصد مل گیا کہ ہم نے اکھٹے جینا مرنا ہے۔

اور دو سال بعد بائیس کی عمر میں میری شادی ہوگئی, اور مزے کی بات یہ کہ تب میں بیروزگار تھا حالانکہ منگنی کے وقت برسر روزگار تھا۔

میری شادی کے تین ماہ بعد نوکری ملی اور میری اوسط آمدنی ماہانہ سولہ ہزار سے کسی صورت ایک روپیہ اوپر نہیں تھی تب اور اب  اللہ کا کرم حالات کافی بدل چکے ہیں ۔

میں شادی کے وقت بس گریجوایٹ تھا, بعد میں چار ڈپلوماز کیئے اور ابھی ماسٹرز کررہا ہوں۔

میری شادی بشمول منگنی کو نو سال ہوچکے ہیں اور دسواں سال جارہا ہے۔

میں ابتک تین بچوں کا باپ ہوں اور تیس سال میری عمر ہے اور الحمدللہ ہشاش بشاش ہوں اور دوسری کی خواہش رکھے بیٹھا ہوں۔

میری بیوی اور میری باہمی محبت اور انڈرسٹینڈنگ کا لیول مینٹین ہے اور ہم شخصی آزادی کے قائل ہیں گھر میں۔

میری بیوی مجھ سے تین سال چھوٹی ہے اور الحمدللہ ہمارا جوڑا بہترین اور شاندار ہے۔

الغرض یہ کہ میں نے زندگی میں جتنی اپنے تیئیں کامیابیاں سمیٹیں  ان کا بیشتر حصہ شادی کے بعد کا ہے۔

اسی طرح میری ہمشیرائیں ہیں جن کی شادیاں ہم نے بیس کی عمر سے پہلے کیں اور وہ بھی خوش و خرم ہیں۔

میں دو بیٹیوں کا باپ ہوں اور میرا عزم بھی یہی ہےکہ میں شرعیت اور سنت کو ترجیحی بنیادوں پر لے کر چلوں گا جب وقت آئے گا۔

مختصراً یہ کہ نکاح کو عام کرنے والے اقدامات کرنے چاہئیں اور ایسے عوامل و سوالات پر مبنی بحث و مباحثہ کو نہیں چھیڑنا چاہیے جو نکاح کو  مزید مشکل جبکہ زناء کو آسان بنانے کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *