قلم کی موت۔۔۔رمشا تبسّم

سارا کھیل قلم کا ہے۔ایک وہ قلم ہے جو ہماری تقدیر لکھ چکی ہے۔اور ایک یہ قلم جس سے لکھاری کردار لکھنے بیٹھے ہیں۔تقدیر لکھنے والی قلم ایک بار لکھ چکی ہے۔اور لکھاری کی قلم ہر روز کچھ نہ کچھ لکھتی اور مختلف کہانیوں میں مختلف کردار بُنتی ہے۔تقدیر لکھنے والی قلم قدرت کی قیدی ہے۔خدا کے کُن کی قیدی ہے۔اور لکھاری کی قلم لکھاری کی قیدی ہے۔قدرت جس کو زندگی بخشے وہی زندہ رہتا ہے اور جس کی موت لکھ دے اسے مرنا ہی ہوتا ہے۔قدرت کا فیصلہ اٹل ہے اور کردار انہی فیصلوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔انہی فیصلوں میں ظاہری و باطنی طور پر جیتے نظر آئیں گے۔

اور لکھاری بھی چاہے تو قلم سے آسانی لکھ دے یا چاہے تو کٹھنائیاں لکھ دے۔لکھاری قلم سے زندگی اور موت کے لمحات لکھتا ہے۔لکھاری کے فیصلے اٹل نہیں ۔نہ ہی کردار ظاہری و باطنی طور پر پابند ہوتے ہیں۔لکھاری کے قلم سے لکھے گئے کردار اکثر جب زندگی کے کردار نبھاتے ہیں تو کہیں نہ کہیں دل ہی دل میں مر چکے ہوتے ہیں۔اور موت کی آغوش میں جانے والے کردار اکثر ہی زندگی کی روشنیوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔

کیسی قدرت ہے کہ جو قلم لکھاری کی قید میں ہے اسکے رحم و کرم پہ ہے وہ الفاظوں کو پھر ایسے زندہ کرتی ہے کہ  وہ آزاد ہو کر ذہنوں میں گونجتے ہیں اور ان کو لکھنے والی معصوم قلم ایک مسلسل نہ ختم ہونے والی قید میں اپنے آخری سانس تک الفاظوں کو زندہ کرتی رہتی ہے۔ قلم جب کردار کی موت لکھتی ہے تو کردار مر کر زندہ ہو جاتا ہےجبکہ لکھنے والی قلم موت کی وحشت سے مر جاتی ہے۔
قلم کو جبر سہنا ہی پڑتا ہے بھلا آسان تھوڑی ہے شفافیت کو سیاہ کرنا۔قلم کی سیاہی اکثر ہی شفاف کرداروں کو سیاہ رنگ سے لکھتی ہے۔ شفافیت کو بھی جب سیاہی سے لکھے گی تو قلم زندہ تھوڑی رہے گی۔

قلم روئے گی بھی, سسکیاں بھی لے گی, تڑپے گی بھی, آہیں بھی بھرے گی مگر جب الفاظ کاغذ پر اتارے جائیں گے تو بے رحم ہونا ہی پڑے گا۔ قلم کی موت دراصل لکھنے والے کی بقاء کا ذریعہ ہوتا ہے۔ لکھاری خود کو زندہ رکھنے کے لئے قلم کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔

قلم کا قاتل کبھی پکڑا نہیں جاتا بھلا کون گواہی دے گا کہ قتل لکھاری نے کیا؟ وہ الفاظ جن کو زندگی بخشنے کے لئے لکھاری نے قلم کو موت کے گھاٹ اتار دیا؟ وہ الفاظ اپنے محسن کے خلاف گواہی کیسے دیں گے؟۔وہ کردار جن کو عروج لکھاری کے قلم سے نکلے الفاظوں نے دیا وہ قلم کی موت پر کہاں نظر رکھتے ہیں۔کہاں گواہی دیں گے؟

میں بھی ایسی ہی کرداروں کی موت لکھنا چاہتی ہوں۔شفافیت کو سیاہ کرنا چاہتی ہوں۔مگر ابھی قلم کی سسکیاں آہیں اور قلم کو الفاظوں کی شدت سے تڑپتا دیکھنے کا حوصلہ نہیں آیا۔ابھی قلم کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ہمت نہیں۔الفاظوں کا جبر سہنا ننھی قلم کے بس کی بات نہیں۔جب حوصلہ آ گیا کئی  قلمیں موت کے گھاٹ اتر جائیں گی۔کئی  دامن داغدار ہو جائیں گے۔کئی کردار ظالم ہو جائیں گے۔کئی تڑپتے سسکیاں لیتے کردارز ندہ ہو جائیں گے۔اور کئی زندہ کردار زندگی کی روشنیوں میں ہوتے ہوئے بھی تڑپ کر مر جائیں گے۔ کئی محبتیں نفرت کے قبرستانوں میں دفن ہو جائیں گی۔اور کئی نفرتوں کے مردے قبرستانوں سے نکل کر محبتوں کی دنیا میں راج کریں گے۔کئی امید کے ستاروں کی روشنیاں بجھ جائیں گی۔اور کئی  نا امیدی کے بجھے چراغ امید کے لہو سے جل اٹھے گے۔کئی فصلوں میں چھپے پنچھی بھوک سے بلک بلک کر مر جائیں گے اور کئی  بنجر زمین کے پنچھی آباد رہیں گے۔ہاں میں آباد کو برباد لکھ کر اس پر داد سمیٹوں گی ۔میں محبتوں کو نفرت لکھ کر اس پر تحسین حاصل کرو گی۔میں مسکراتے لبوں پر سسکیوں کا لرزہ طاری کرنا چاہتی ہوں۔ چمکتی آنکھوں میں اداسی کے سمندر کا سیلاب لکھنا چاہتی ہوں۔میں کچھ اسی طرح سے اپنے قلم کو مارنا چاہتی ہوں۔میں موت کی وادیوں میں شہنائیاں بجانا چاہتی ہوں اور خوشیوں کے دیس میں ماتم کی صفیں بچھانا لکھنا چاہتی ہوں۔میں اب ہر صورت قلم کو تڑپانا چاہتی ہوں۔میں قلم کی موت کے لئے کردار بُننا چاہتی ہوں۔میں ان کرداروں کو عروج دے کر قلم کا زوال لانا چاہتی ہوں۔میں اپنی قلم کی اب موت چاہتی ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *