• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/حصہ اوّل

کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/حصہ اوّل

قدرت نے پاکستان کو وسیع پیمانے پر قدرتی وسائل سے نوازا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان ذخائر کو صحیح طور پر استعمال نہیں کیا۔ مثال کے طور پر ہمارے صوبہ سندھ میں کوئلے کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائر میں تقریباً 185 ارب ٹن ہیں جو کہ 618 ارب بیرل تیل کی پیداوار کے برابر ہیں اور ان کی مالیت تقریباً 3،000 ارب ڈالر ہے۔ سائنسی معلومات کے مطابق بلوچستان میں ایک مقام ریکوڈک میں سونے اور دوسرے مقام سیندک میں تانبے کے دنیا میں پانچویں بڑے وسیع ذخائر ہیں۔ کچھ ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق ان کانوں سے پیداوار کے بعد صرف تین (3) سال کے اندر پاکستان کے تمام بیرونی قرضے اتر سکتے ہیں، لیکن ریکوڈک میں غلط انداز سے ٹھیکہ دینے اور سیندک پر شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کے علاوہ پاکستان میں معدنی نمک کی دنیا کی سب سے بڑی کانیں، پٹرول، گیس، چاندی، کاپر اور نہایت اعلیٰ قسم کی دھاتیں ہماری زمین میں موجود اور پوشیدہ ہیں۔ ماہرین کے دعوؤں کے مطابق پاکستان میں جو تیل کے ذخائر ہیں وہ تقریباً 43 کروڑ بیرلزکے برابر ہیں اور گیس کے ذخائر 31 ہزار ارب کیوبک فٹ کے برابر ہیں۔ ہمارے یہاں شیل گیس اور شیل تیل کے بھی بہت بڑے ذخیرے ہیں۔ شیل گیس تقریباً 8،365 ہزار کیوبک فٹ کے برابر موجود ہے جبکہ شیل تیل227 ارب بیرل کے برابر ہے۔ ہمارے یہاں ارضی نوادرات (Rare earths) کا بھی بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جو کہ صوبہ بلوچستان میں واقع ہے۔ ان ارضی نوادرات میں 17 ایسی دھاتیں ہوتی ہیں جن کی بہت زیادہ بین الاقوامی مانگ ہے کیونکہ یہ ٹیلی وژن اسکرینز، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، بجلی اور تیل سے چلنے والی (ہائبرڈ) گاڑیاں، ہوائی پن چکّیاں اور دوسرے مختلف صنعتی استعمال میں خاص طور پر الیکٹرانک کی صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان سب وسائل کے باوجود پاکستان غربت کے بھنور میں جکڑا ہوا ہے اور چھوٹے چھوٹے ممالک جن کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں ہیں مثلاً سنگاپور، تائیوان اور کوریا وہ پاکستان سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔

شیل گیس قدرتی گیس کی ایک قسم ہے جو زیر زمین باریک ریت کے ذروں اور مٹی سے بننے والی تہہ دار چٹانوں سے حاصل کی جاتی ہے جسے Mudstone کہاجاتاہے۔ بلیک شیل میں پائے جانے والے نامیاتی اجزاء کو توڑ کر گیس اور تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 32ممالک میں شیل گیس کے 5760 ٹریلین مکعب فٹ (TCF) کے ذخائر ہیں جو امریکہ میں شیل گیس کے موجود ذخائر کا 7 گنا ہے۔ دنیا میں شیل گیس کے بڑے ذخائر شمالی امریکہ میں 1931 TCF، چین میں 1275 TCF، جنوبی امریکہ میں1225 TCF، میکسیکو میں 681 TCF، یورپ میں 639 TCF (پولینڈ میں سب سے زیادہ) پائے جاتے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ میں 485 TCF اور بھارت میں 63 TCF شیل گیس کے ذخائر ہیں، بھارت کا سب سے بڑا تجارتی و کاروباری گروپ (امبانی برادران کا ریلائینس) شیل گیس کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اس کے علاوہ لیبیا، الجزائر، ارجنٹائن، جنوبی افریقہ اور کینیڈا میں بھی شیل گیس کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ شیل گیس کو زمین سے نکالنے کی جدید ٹیکنالوجی Hydrofracking صرف امریکہ کے پاس ہے اس لئے گزشتہ 5 سال کے دوران امریکہ میں شیل گیس کی پیداوار میں 20% اضافہ ہوا جو اس کی قدرتی گیس کی مجموعی پیداوار کا 25% ہے جبکہ 2030ء تک شیل گیس امریکہ کی مجموعی قدرتی گیس کی پیداوار کا 50% ہو جائے گا۔ امریکہ میں شیل گیس کی پیداوار میں اضافے سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ مستقبل قریب میں امریکہ اس کا ایک بڑا برآمدکنندہ بن سکتا ہے۔ توانائی کے بین الاقوامی ماہرین کاکہنا ہے کہ توانائی کے ان نئے ذخائر کی دریافت سے عالمی سیاست، معیشت اور جیواسٹرٹیجک توازن کا کھیل مکمل طور پر تبدیل ہوجائے گا۔ امریکہ میں شیل گیس کی پیداوار میں اضافے سے عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جو 13 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ سے کم ہوکر 4.23 ڈالر فی ملین BTU ہوگئی ہیں۔ امریکی نیو بیکر انسٹی ٹیوٹ کے مطالعے کے مطابق امریکہ میں شیل گیس کی پیداوار میں اضافے سے یورپی ممالک کے لئے روس کی گیس کی فراہمی میں بھی کمی آئے گی اور 2040ء تک یورپ کے لئے روسی گیس کی فراہمی 27% سے کم ہوکر صرف 13% تک رہ جائے گی۔

خوش قسمتی سے قدرت نے پاکستان کو قدرتی گیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے شیل گیس کے کم از کم 51 سے 100 ٹریلین کیوبک فٹ ذخائر عطا کئے ہیں اور اس طرح پاکستان دنیا میں شیل گیس کے ذخائر رکھنے والا 17 واں بڑا ملک ہے اور شیل گیس کے حصول سے پاکستان میں آئندہ 5 سے 10 سالوں میں ہماری مجموعی گیس کی پیداوار 4 گنا بڑھ سکتی ہے جو ہماری طلب کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے جون 2013ء کا یہ تخمینہ ایڈوانس ریسورسز انٹرنیشنل (ARI) کے ایک سروے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تھا، جس میں پاکستان اور ہندوستان کے خطے میں شیل گیس کے ذخائر کی کل مقدار 1170 ٹریلین کیوبک فیٹ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس سروے کے نتائج میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں 586 ٹریلین کیوبک فیٹ جبکہ انڈیا میں 584 ٹریلین کیوبک فیٹ کے ذخائر موجود ہیں۔ لیکن انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ اسٹڈی اور ٹیکنیکل ڈیٹاکے مطابق ٹیکنیکلی طور پر نکالے جانے کے قابل شیل گیس کے ذخائر کا تخمینہ 201 ٹریلین کیوبک فیٹ لگایا گیا ہے، جس میں سے پاکستان کے علاقے سے 105 ٹریلین کیوبک فیٹ جبکہ انڈیا میں 96 ٹریلین کیوبک فیٹ شیل گیس حاصل کی جاسکے گی۔ پاکستان میں اس وقت سردیوں میں یومیہ 2 بلین مکعب فٹ گیس کی کمی کا سامنا ہے جو ہماری قدرتی گیس کی پیداوار (4.2 بلین مکعب فٹ یومیہ) کا تقریباً 50% ہے لیکن گیس کی طلب کے پیش نظر 2021ء تک یہ کمی بڑھ کر 5.2 بلین مکعب فٹ اور 2025ء تک 8 بلین مکعب فٹ یومیہ ہوسکتی ہے جسے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے اور شیل گیس کے حصول سے پورا کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ کے 45,000 مربع کلومیٹر وسطی رقبے میں شیل گیس کے 364 کنویں کھودے گئے اور 155 کنوؤں سے حاصل کی گئی گیس کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ تینوں پائلٹ پروجیکٹس کے تحت کھودے گئے کنووٴں سے 4 سے 5 ٹریلین مکعب فٹ غیر مضر شیل گیس کے ذخائر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایک TCF قدرتی اور شیل گیس کا موازنہ کریں تو قدرتی گیس کی مالیت 530 ملین ڈالر جبکہ شیل گیس کی مالیت 3800 ملین ڈالر ہوگی، قدرتی گیس کے ایک کنویں کی کھدائی پر 12 ملین ڈالر جبکہ شیل گیس کے کنویں پر 17.5 ملین ڈالر لاگت آتی ہے۔ قدرتی گیس کے ایک کنویں سے 15 سے 20 ملین جبکہ شیل گیس کے کنویں سے 3 سے 4 ملین مکعب فٹ گیس یومیہ ایک سے دو سال تک حاصل ہوتی ہے۔ قدرتی گیس کے کنویں کی پیداواری مدت 25 سے 30سال جبکہ شیل گیس کے کنویں کی یہ مدت 40 سال ہوتی ہے۔

انڈیا اور افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ کے جنوبی اور درمیانی علاقے پاکستان میں واقع ہیں، مشرق میں یہ انڈین شیلڈ سے بندھے ہوئے ہیں، جبکہ مغرب میں بہت زیادہ تہہ در تہہ چٹانوں پر مشتمل پہاڑہیں۔ دریائے سندھ کی نچلی وادی میں تجارتی پٹرول اور گیس خام صورت میں میں دریافت ہوچکے ہیں۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ جبکہ آئل اور گیس کے ذخائر سمبر شیل میں تھر کے پلیٹ فارم پر ظاہر ہوچکے ہیں، لیکن تاحال آئل یا گیس کے کنووں کی کھدائی سمبر شیل میں نہیں کی گئی ہے۔

ذخائر کے تخمینے کو پیش نظر رکھتے ہوئے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ خشک گیس کا ممکنہ علاقہ اکتیس ہزار تین سو بیس مربع میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، دریائے سندھ کی نچلی وادی کے سمبر شیل میں 83 ارب کیوبک فیٹ کا ایک ذخیرہ فی مربع میل کے حساب سے پھیلا ہوا ہے۔سمبر شیل میں خشک گیس کا ذخیرہ 57 ارب کیوبک فیٹ فی مربع میل کے رقبے پر جبکہ آئل نوے لاکھ بیرل فی مربع میل کے حساب سے پھیلا ہوا ہے۔

ملک میں شیل گیس کے وسیع ذخائر کی موجودگی کے باوجود حکومت کی جانب سے گزشتہ کئی سال کے دوران اس شعبے میں کوئی بڑی سرمایہ کاری نہ لائی جا سکی اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کی جانب شیل گیس کی تلاش کا پائلٹ پروجیکٹ بھی تاخیر کا شکارہے۔ امریکی ادارے آئی اے ا ی اے کی جانب سے پاکستان میں شیل گیس کے بڑے ذخائر کی موجودگی کی رپورٹس آنے کے بعد گزشتہ دورحکومت میں شیل گیس پالیسی منظور کرائی گئی تاہم اس شعبے میں کوئی سرمایہ کار ی نہ لائی جا سکی۔ پچھلی نون لیگ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد شیل گیس کے دریافت کے حوالے سے اقدامات شروع کئے تھے اور اُس وقت کے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے شیل گیس کی دریافت کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں تاہم یہ منصوبہ نامعلوم وجوہا ت کی بنا پر تاخیر کا شکار رہا۔ ملک میں شیل گیس کی دریافت کے لئے اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے تھے تاہم ابھی تک اس سمت میں کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ شیل گیس کے ذخائر کی دریافت کے لئے ملک میں جدید ترین ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے جس سے ملک میں شیل گیس کے ذخائرکی کمرشل بنیادوں پر کام شروع نہیں کیا جاسکا۔ شیل گیس کی دریافت کے لیے امریکن کمپنیوں کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے اوراس کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنیاں شیل گیس کی دریافت کے سلسلے میں مہارت بھی رکھتی ہیں تاہم حکو مت اس شعبے میں مراعات دے کر غیر ملکی کمپنیوں کو بھی راغب کر سکتی ہے۔

گزشتہ حکومت نے اپنے آخری دنوں میں شیل گیس کی دریافت اور اس کے حصول کے لئے شیل گیس پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ حال ہی میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور اطالوی کمپنی ENI نے شیل گیس کی دریافت کے سلسلے میں کنوؤں کی کھدائی کے لئے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ENI پاکستان میں اپنے تین پائلٹ منصوبوں کے تحت سندھ اور پنجاب میں 1100 کنویں کھودے گی۔ امریکا کی انرجی اسٹیٹسکس اور اینالیسز سے متعلق فیڈرل اتھارٹی، انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے تخمینہ کے مطابق پاکستان میں شیل گیس کے 105 ٹریلین کیوبک فیٹ، جبکہ 9 ارب بیرل پٹرول کے ذخائر موجود ہیں۔ اس تخمینے کے مطابق ہائیڈرو کاربن اب تک کے اندازوں سے کہیں زیادہ یعنی 24 ٹریلین کیوبک فیٹ گیس اور تقریباً تیس کروڑ بیرل آئل کا ذخیرہ موجود ہے۔ پاکستان میں گیس کی پیدوار اس وقت تقریباً چار اعشاریہ دو ارب کیوبک فیٹ اور پٹرول کی پیدوار تقریباً ستّر ہزار بیرل ہے۔

ایس ڈی پی آئی (Sustainable Development Policy Institute) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان 10 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی لاگت سے اندرون ملک شیل گیس نکال سکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 18 ڈالر فی ایم۔ایم۔بی۔ٹی۔یو کی قیمت پر قطر سے ایل این جی کی خریداری اور کوئی طویل مدتی معاہدہ کرنا، معاشی خود کشی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس لئے کرپشن سے پاک حکومت کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف حکومت کو چاہیے کہ وہ قطر سے ایل این جی امپورٹ کرنے کے تباہ کن منصوبہ پر عمل کرنے کی بجائے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کو فوراًًً  شروع کرنے اور شیل گیس کو نکالنے پر کُل وقتی توجہ دے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کیا پاکستان میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر ہماری قسمت بدل سکتے ہیں؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی/حصہ اوّل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *