سیف السلام با گردن اسلام۔۔۔۔۔امیر تیمور/ایم کاشف

موجود ہ دنیا کا تیسرا بڑا فاتح، دو کروڑ بیس لاکھ مربع کلومیٹر علاقے کا فاتح، تیمور ( ترکی زبان میں لوہا) 9 اپریل 1336 کو کیش، موجود سمرقند ازبکستان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ چغتائی خانیت (سلطنت) میں ایک معمولی ترکش منگول سردار تھا۔ اوائل عمری میں تیمور اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر مویشی چوری کیا کرتا تھا۔ تیمور چغتائی فوج میں ایک معمولی سپاہی سے دس ہزار سپاہیوں کا سردار بنا۔ ایک واقعے میں اس کی ٹانگ پر تیر لگا اور دوسرے تیر نے اس کے ایک ہاتھ کی دو انگلیاں بھی کاٹ ڈالیں۔ ایک ٹانگ پر زور دے کر چلنے کی وجہ سے فارسی اسے تیمور لنگ ( معذور ) کہتے تھے۔ 1360 تک تیمور ایک بڑا اور نڈر جنرل مانا جانے لگا اسی اثنا میں ماروالنہر کے منگول حکمران قضا خان کا قتل ہوا ،یوں سمرقند پر قبضہ کے لئے تغلا خان نے سمرقند پر حملہ کر دیا۔ تیمور دفاع کی بجائے حملہ آوروں کے ساتھ مل گیا اور شہر پر قبضہ کر لیا۔

تغلا خان نے اپنے بیٹے کو امیر بنانا چاہا تو تیمور نے اس کے خلاف بغاوت کی اور اپنے سے بڑی فوج کو شکست دے کر خود امیر بن گیا۔ بلخ پر اس کے سالے امیر حسین نے قبضہ کر لیا۔ تیمور اپنے شہریوں سے اچھا سلوک تو کرتا ہی تھا، اس نے بلخ کے لوگوں کی بھی مالی مدد بھی شروع کر دی۔ جو بلخ جا کر تیمور کی تعریف کرتے۔ جلد لوگ امیر حسین کے ظالمانہ ٹیکس سے تنگ آ گئے، ادھر تیمور نے 1370 میں بلخ پر حملہ کر کے اپنی بیوی کے بھائی کو قتل کر ڈالا اور اس کی بیوہ جو کہ چنگیز خان کے خاندان سے تھی، شادی کر لی۔ اب تیمور پوری چغتائی سلطنت کا امیر بن چکا تھا۔ چنگیزی روایت کے مطابق وہ خود کو خان نہیں کہہ سکتا ہے اس کے لئے چنگیزی خون ہونا ضروری تھا، تو دوسری طرف وہ قریشی خون نہ رکھنے کی وجہ سے خود کو خلیفہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔ اس لئے وہ ہمیشہ خود امیر یعنی جنرل اور سیف اسلام کہتا تھا۔ 1370 تک سارا ماورلنہر یعنی سنڑل ایشیا تیمور کے قبضے میں آ چکا تھا۔ اب باقی دنیا پر بھی تیموری تلوار آشکار ہونے جا رہی تھی۔

1381 تک تیمور سارے خراسان( افعانستان اور سنڑل) پر قبضہ کر چکا تھا۔ 1383 اس نے باقی کے فارس کو فتح کر شروع کیا اور ہرات موجودہ افعانستان کا محاصرہ کر لیا۔ شہر والوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ تیمور نے فتح کے بعد سارے شہر کو جلا ڈالا اور اس کے تمام باشندوں کو قتل کر دیا اگلے کئی برس ہرات شہر ویران و غیر آباد رہا۔ 1384 میں اس نے سلطانیہ کا محاصرہ کیا اور تمام جنگی قیدیوں اور شہریوں کو زندہ دیواروں میں چنوا دیا۔ 1387 میں شیراز اور اصفہان لڑے بغیر فتح کر لئے، چند مہینوں بعد تیموری ٹیکس سے تنگ آ کر دونوں شہروں نے بغاوت کر دی۔ تیمور نے دونوں شہروں کا محاصرہ کر لیا۔ دونوں شہروں کے تمام باشندے تقریبا دو لاکھ افراد کو قتل کر ڈالا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق اس نے شیراز میں 28 ایسے مینار خود اپنی انکھوں سے دیکھے، جو پندرہ پندہ سو سروں پر مشتعمل تھے۔ دونوں شہروں کی تمام آبادی کو قتل کر دیا گیا، سوائے کاریگروں، مصوروں اور ہنر مندوں کے۔ وہ ہمیشہ ان تمام افراد کو اپنے دارلحکومت سمرقند بھیج دیتا تھا۔ باقی سب کو قتل کر ڈالتا۔

امیر تیمور کی مدد سے ایک منگول سردار طوختامش نے منگول سلطنت کے روسی حصے گولڈن ہورڈ کو فتح کر لیا۔ وہ بھی ایران پر قبضے کرنا چاہتا تھا۔ اس نے 1389 میں  آذربائجان پر حملہ  کر دیا۔ تقربیاً  دو لاکھ لوگوں کو غلام بنا کر لے گیا۔ تیمور کو اس پر شدید غصہ  آیا۔ اگلے چار سال وہ گولڈن ہورڈ (جنوبی روس اور سینڑل ایشیا کا علاقہ) کے ساتھ جنگ میں مصروف رہا۔ طوختامش، تیمور کی مدد سے حکمران بننے والا خان، تیمور سے براہ راست ٹھکرانے سے گریز کرتا رہا امیر تیمور نے اس کا ایک ہزار سات سو میل تک ایک لاکھ کی فوج کے ساتھ  پیچھا کیا۔ اس کی فوج دس میل پر محیط تھی۔ اس کے فوجی بتاتے ہیں کہ انہیں نماز پڑھنے میں دشواری آ رہی تھی، کیونکہ وہ ایک ایسی جگہ پہنچ چکے تھے جہاں دن بہت لمبے تھے۔ یہ جگہ موجود روس میں Samara Oblast Russia ہے۔ طوختامش کی افواج کو تیمور نے عبرت ناک شکست دی۔ طوختامش فرار ہو گیا۔ ایک بار پھر طوختامش، جارجیا اور کچھ دوسری روسی افواج کے ساتھ، دریائے terek کے کنارے تیموری افواج کے ساتھ  آمنے سامنے تھیں۔ اس بار تیموری افواج نے طوختامش کی افواج کو فیصلہ کن شکست دیتے ہوئے گولڈن ہورڈ سلطنت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ چار سال کی اس جنگی مہم میں تیمور نے سرئی، طوختامش کا دارلحکومت، اوکیک، ماجار، استرا خان اور ازاک نامی شہروں کو جلا کر خاک ستر کر ڈالا۔

1393 میں ایران میں اسماعیلیوں کے ایک چھوٹے سے گاوں پر حملہ کر دیا۔ گاوں والوں نے قلعے کے اردگرد سرنگیں گھود رکھی تھیں۔ تیمور نے ان سب میں پانی بھر دیا۔ پانی کی وجہ سے سارا قلعہ زمین بوس ہو گیا اور تمام شہری بھی اس میں دب کر مر گئے۔
1398 میں تیموری تلوار نے ہندوستان کا رخ کیا۔ حملے سے پہلے اس نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستان کے کافروں کے خلاف جہاد کر کے غازی کہلاتا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس وقت ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔
30 ستمبر 1398 کو وہ تلمبہ، موجود پاکستان ضلع خانیوال، پر حملہ آور ہوا اور پورے شہر کی آبادی کو جلا ڈالا۔ اکتوبر میں ملتان بھی فتح ہو گیا۔ تیمور کی اگلی منزل دلی تھی، جہاں سلطان ناصر الدین محمد تغلق حکمران تھا۔ دلی سے ستر کلومیٹر دور میرٹ کے مقام پر کچھ مزاحمت ہوئی۔ یہ شہر بھی جلا دیا گیا۔ دسمبر 1399 کو رہی کے باہر نادر شاہ تغلق اور تیمور کا آمنا سامنا ہوا۔ نادر شاہ بڑی تعداد میں ہاتھیوں کی فوج لے کر ایا۔ منگل فوجی ہاتھیوں سے شدید خوف زدہ تھے۔ تیمور نے اونٹوں پر سوکھی گھاس باندھ کر انہیں دہلی کی فوج کی جانب ہانک  دیا، جلتے ہوئے اونٹ ہاتھیوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے اور ہاتھی اپنی فوج کو کچلنے لگے اس کے ساتھ ہی اس کی فوج نے بھی دہلی کے افواج پر عام حملہ کر دیا۔ محمود شاہ اپنی افواج کی شکست سے بھاگ نکلا۔ ایک سلطنت تیموری تلوار نے کاٹ ڈالی۔ ہندوستان سے تغلق سلطنت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔ تیمور کی فوج دہلی میں داخل ہو گئی۔ اگلے پندہ دن تک تیموری افواج نے جی بھر کر دہلی کو لوٹا۔ دہلی اس وقت دنیا کے امیر ترین شہروں میں ایک تھا۔ بے شمار سونا چاندی اور غلام تیمور کے ہاتھ لگے۔ تیمور نے دہلی میں ایک لاکھ افراد کو قتل کر دیا۔ دہلی کو آگ لگا دی اور عمارتوں کو ٹھا دیا۔ لاشوں کی بدبو کی وجہ لوگ دہلی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بیس ہزار لوگوں کے سر کاٹ کر شہر کی دیواروں پر لٹکا دیے گئے اور دھڑ کو جانوروں کی خوراک بننے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ تیموری حملے کے سو سال بعد دہلی مکمل طور پر آباد ہوا۔ جنوری 1399 کو تیمور برصغیر سے روانا ہوا۔ جاتے ہوئے اس نے کالنگا، میرٹھ سمیت پانچ اور شہروں کو بھی برباد کر ڈالا۔

دہلی سے روانہ ہو کر 1399 کے آخر میں تیمور ایک بار حرکت میں  آیا۔ اس نے سب سے پہلے جارجیا اور ارمینیا پر حملہ کیا۔ اس مہم کے دوران اس نے ساٹھ ہزار لوگوں کو غلام بنایا اور تقریبا ً  700 گاوں اور چھوٹے شہر جلا ڈالے۔ آخر کار بھاری خراج کے عوض عیسائی بادشاہ نے اپنی جان چھڑائی۔ تیموری عذاب کا اگلہ نشانہ بغداد اور دمشق تھے۔ 1400 میں اس نے بغدار کو جلا ڈالہ۔ 20 ہزار سے زیادہ شہریوں کا قتل عام کیا۔ ابن عرب شاہ، تیموری مصنف کے مطابق، بغداد پر قبضے کے وقت تیمور نے اعلان کیا ہر سپاہی پر لازم ہے کہ وہ کم از کم دو کٹے ہوئے سر لائے۔ پہلے سپاہیوں نے تمام شہریوں کو قتل کیا۔ پھر انعام کے لالچ میں تمام جنگی قیدیوں کو قتل کیا، حتی کہ کچھ سپاہی اپنی بیویوں کے سر کاٹ کر لے لائے۔ تب تیمور بغداد سے روانہ ہوا۔ اگلی منزل دمشق اور الیپو تھے۔ دونوں شہروں کی تمام آبادی کو قاتل حسین ابن علی قرار دے کر سب کو قتل کر ڈالا۔ اب سلطنت عثمانیہ اور سلطان بازید اول کی باری تھی۔

سلطان مراد اول فاتح کوسوو میدان جنگ میں ہی قتل ہو گیا۔ اس کا بیٹا بازید اول اس کا جانشین بنا۔ بازید نے ترکی میں موجود تمام بغاوتوں کو فروا کیا۔ وہ 1389 کو سلطان بنا۔ سلطان روم اور آسمانی بجلی اس کے لقب تھے۔ پورپ والوں پر بجلی کی تیزی سے کہیں بھی پہنچ کر حملہ کر ڈالنے پر مشہور تھا۔ سلطنت روم کے تمام بڑے حصے اس کے قبضے میں تھے۔ وہ تقریباً  سارے بلقان کو فتح کر چکا تھا۔ پورا یورپ اسے خدا کا عذاب قرار دے رہا تھا، جو اب عیسائیت کو کھانے کے درپے تھا۔ بازید کے بہت سے باغی ترک سردار تیمور کے پاس کئی سالوں سے پناہ لئے ہوئے تھے۔ تیمور، بازید کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس سے لڑنا نہین چاہتا تھا۔ بازید ایک انتہائی مغرور سلطان تھا۔ بایزید کے پاس ترکمانستان کا ایک باغی سرداد تھا۔ تیمور نے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ بازید نے اس کے قاصد کو ذلیل کر کے دربار سے نکال دیا۔ اور اپنے بیٹے کو فوج دے کر ترکمانستان پر حملہ کر دیا۔ اعلان جنگ ہو چکا تھا۔ تیموری جواب بغداد اور دمشق کی بربادی کے ساتھ ساتھ انقرہ کی بربادی کا بھی باعث بنا۔ 1401 میں تیمور نے ترکوں کا دماغ درست کرنے کا فیصلہ کیا اور اناطولیہ پر حملہ کر دیا۔ ترک شہر سیواس کو ترکوں سے چھین لیا۔ 1402میں بازید کو اپنا آٹھ سالہ قسطنطنیہ کا محاصرہ ختم کرنا پڑا۔

عیسائی ہتھیار ڈالنے کی شرائط تک آ چکے تھے۔ اسے پتہ چلا کے تیمور نے انقرہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔ تیمور نے اپنا محاصرہ ختم کیا اور آگے چل پڑا۔ بایزید اس ے تعاقب میں گیا تیمور آگے جا کر ایک لمبا چکر کاٹ کر شہر اور بازید کی فوج کے درمیان آ گیا مجبور ہو بازید کو فوج کا رخ موڑنا پڑا۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے تھیں پانی کے واحد ذریعے کو تیموری فوج اپنے قبضے میں لے چکی تھی۔ بازید کی تھکی ہوئی اور پیاسی فوج نے جولائی 1402 میں تیموری افواج پر حملہ کر دیا۔ تیموری کا جواب گھڑ سوار تیر انداز تھے جو انتہائ تیزی سے تیر چلاتے تھے۔ تیروں کی بارش نے ترکوں کے خون کسی میدان کو رنگ دیا۔ ترکی ینی چری (غلام فوج) کو مکمل ختم کر ڈالا۔ سربیائی باشندی تیمور کے خلاف اس قدر بے جگری سے لڑے کے، جنگ کے تیمور نے سربیا کے والی کے طور پر انہیں کے سردار کو مقرر کیا۔ بازید نے میدان جنگ سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ زندہ پکڑا گیا۔ کہتے ہیں کہ تیمور نے اسے لوہے کے پنجرے میں  قید کر رکھا تھا۔ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ چند مہینوں بعد بازید اسی پنجرے میں مر گیا۔ تیمور کی فتح کو پورے یورپ نے خدا کی مدد قراد دیا۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی اور باقی ریاستوں نے امیر تیمور کو جنگ میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ اور اپنے سفیر تحائف کے ساتھ بھیجے۔ تیمور کا اگلہ نشانہ جزیرہ سمارا پر عیسائی ٹیمرلر نائیٹس تھے۔ ان سب کو بھی قتل کر دیا گیا۔
1405 میں اس نے چین کی  بادشاہی کو مٹا دینے کی کوشش شروع کی۔ وہ چین کی سرحد کے قریب پہنچ کر بیمار ہو گیا اور فاراب نامی مقام پر اس کی وفات ہو گئی۔ امیر تیمور اپنے دارلحکومت سمرقند میں مدفون ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *