• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا ایک قول مسعود چوہدری کے قلم سے

امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا ایک قول مسعود چوہدری کے قلم سے

حضرت امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ  کا ایک قول نظر سے گزرا جو مجھے متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس قول کو سمجھنے کے لیے پہلے پس منظر سمجھنا انتہائی  اہم ہے۔ پس منظر یہ تھا کہ فرزدق عرب کا شاعر تھا اور عرب کی سیاست کا نقاد بھی، سمجھ لیں کہ بالکل اسی طرح جس طرح آج کے اصلی والے صحافی ہیں جو ایک طرف تو ہمیشہ درست کو درست اور غلط کو غلط کہہ کر اپنے دشمنوں میں اضافہ کرلیتے ہیں جبکہ دوسری طرف مکمل زمینی حقائق لیڈران وقت تک پہنچانا اپنا فرض اور کارہائے منصبی کا حصہ سمجھتے ہیں، اور اسی تمام جستجو میں ہی مبہم راہنمائی  کا پیغام موجود ہوتا ہے تاکہ سالار کی زمینی حقائق کے مطابق خاموش راہنمائی  کی سعی کی جاسکے جو کہ معروضی حالات و واقعات کے تناظر میں بہتر حکمت ِ عملی مرتب کرنے میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہو۔

فرزدق نے مشورہ دیا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو کوفیوں نے شہید کر دیا ہے اور دیگر تمام کوفی قبائل کے سربراہان جنہوں نے امام علیہ سلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے ساتھ وعدہ وعید و عہد و پیمان سے بھرپور مکتوبات و خطوط ارسال کیے تھے وہ تمام اپنے الفاظ سے مُک ر چکے ہیں اور اب امام علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے پاس بہت زیادہ آپشنز نہیں ہیں، جبکہ دوسری جان امت مسلمہ کے 400 مفتیان نے یزید کا تائیدی فتویٰ جاری کر دیا ہے، اور امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں، جبکہ تیسری جانب جو لوگ امام کے ساتھ چلے تھے اور جن کا یہ گمان تھا کہ ہم کوفہ کی حکومت لینے جارہے ہیں اور اس کے بعد بہت سارا مال و متاع اور منفعت و منصب ہمارے ہاتھ آئے گا اور ہم اس کے مالک کل ہوں گے وہ بھی کوفیوں کے انکار اور مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی شہادت کی خبر پا چکے ہیں اور ساتھ چھوڑ چکے ہیں، جبکہ چوتھی جانب ایک لشکر عظیم امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے اہل و عیال اور مخلص ساتھیوں کو گھیرے ہوئے ہے، اور یہ وہ وقت ہے جبکہ آپ پر زمین تنگ کر دی گئی  ہے اور حالات انتہائی نازک ہیں۔ یزید اور اسکے وزیر امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور اہل و عیال رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نہ صرف خون کے پیاسے ہیں بلکہ آپ علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو نعوذ باللہ ایک مثال بنانے پر مُصر ہیں ۔

یہ الفاظ تحریر میں لانا انتہائی  مشکل ہیں کہ ان حالات کا مخلص احاطہ کرتے ہی آنکھوں سے اشکوں کی قطاریں بہہ نکلی ہیں، اس   بے ربط سی تحریر پر معذرت خواہ ہوں – فرزدق نے امام عالی مقام سلام اللہ علیہا کو معروضی حالات سے آگاہ کرنے کے بعد مشورہ دیا کہ جہاں تمام امت کے بڑے بڑے نام ، جن کے نام تک آج کوئی  نہیں جانتا – وقت کے بڑے بڑے علماء یزید کی تائید کر چکے اور دوسری جانب آپ علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ پر زمین تنگ کی جاچکی تو آپ علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ مصلحتاً ہی سہی یزیذ کی بیعت کر لیں. امام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی تربت مبارک پر کروڑوں برکتوں کا نزول ہو، آپ سلام اللہ علیہا نے ارشاد فرمایا

اگر مجھ پر اس کائنات کی تمام زمین بھی تنگ کر دی گئی تب بھی یزید کی بیعت نہیں کروں گا

یہ ایک جملہ نہیں ایک انکار تھا، ہر وقت کے فرعون و یزید کے سامنے ڈٹ جانے کا نام حسینیت ہو گیا۔ کبھی سوچیں کہ معروضی حالات آپ کے مخالف ہوں، زمین آپ پر، آپ کے اہل و عیال پر تنگ کر دی جائے، کوئی  راستہ آپ کے سامنے نہ ہو، سوائے اس کے کہ ظلم کے خلاف آپ بھی آنکھیں بند کر لیں اور ظالم کے ظلم کی خاموش تائید کر لیں اور اپنے لیے منفعت حال نہ بھی کرنی ہو تب بھی ایک آسان راستہ جس میں آپ کو اور آپ کے اہل و عیال کو جینے کی آزادی دے دی جائے، ایسے حالات میں بہت بڑے بڑوں کے ایمان کے سودے ہو جایا کرتے ہیں۔ لیکن جن کے لیے مشعل راہ، میرے حسین علیہ سلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا انکار ہو گا اللہ پاک یقیناً ان کے لیے راستہ نکال دیں گے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ آپ اللہ کے پیاروں کی سنت ادا کریں اور اللہ پاک آپ کو مشکلات میں گھرا رہنے دیں۔

واہ میرے مولا حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ، آپ نے بتا دیا کہ ہر دور میں ایک یزید موجود ہو گا اور اسی انکار کی طرح قائم رہنا ہی حسینیت کی اصل ہو گی۔ آج بھی جو جو حق کے ساتھ اور ظالم کے ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے وہ وہ پیغام حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا پیامبر ہے۔ کیسے کوئی  ذکر حسین علیہ السلام و رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو مٹا سکے گا؟ اس کے ناپید ہونے کے لیے ظلم و جبر کا ختم ہونا ضروری ہے! جب بھی ، جہاں بھی، ظلم کیا جاتا ہے، وہاں وہاں حسینیت کی ایک شمع جل اٹھتی ہے۔ تاریخ کردار بھول جاتی ہے لیکن شمع جلتی جلتی چاروں جانب اجالہ کر دیتی ہے۔ بس ہمارے ذمہ حسینیت کی شمع جلائے رکھنا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *