عارف خٹک اِن جِم۔۔۔عمار علوی

عارف خٹک کی توند بڑھنا شروع ہوگئی تھی ، حالت یہ ہو چلی تھی کہ بغلگیر ہوتے وقت اب وہ خود کو تو زحمت نہ دے پاتے ، تین فٹ دور سے ہی انکی توند یہ فرض  ادا کر  دیتی ۔

مقصد یہ کہ اسے بغلگیر ہونا تو نہ کہا جائے بلکہ توند گیر ہونا ٹائپ ہی کوئی  ادا تھی ۔
حالانکہ کچھ فیس بکی پنکھوں نے انہیں اندرون لاہور مدعو بھی کیا ۔ لیکن بہت عرصے سے لاہور کی گلیوں میں بھی جا نہیں پارہے تھے کہ پھنسنے کا رسک نہ لینا پڑ جائے ۔

بس پھر ایک دن لالہ عارف نے کمٹمنٹ کی کہ اب وہ اس بڑھی ہوئی توند کا کچھ کریں گے ۔ اور بس کل صبح سے ہی روزانہ اس بابت جم جایا کریں گے ۔ یوں توند بھی کم ہو اور پٹھے بھی مضبوط ہوجائیں گے ۔ اور ساتھ ہی پھر سے دولہا بننے کا منصوبہ بھی پورا ہوجائے گا ۔
نہ بھی ہوا تو بنوں کے کسی نئے پٹھے پہ زور آزمائی ہی کر لیں گے ۔

ظاہر ہے جب آپکے دماغ میں ہر وقت ظفر جی کی موصلی اور سانڈے کا تیل گردش کر رہا ہو تو کچھ تو گرمی دماغ کو بھی چڑھنی ہوتی ہے ۔

کشتوں کو کھانے کا ارادہ کرتے تھے کہ بد  ذائقہ ہونے سے دل اٹھ جاتا تھا ۔ لیکن اٹھنے کے لئے کشتہ کھانا بہت ضروری تھا ۔

اب بڑی بڑی مونچھوں کا بہانہ بنا کے سیلفیاں بنانے کا مقصد کون نہیں جانتا تھا ۔ خیر یہ شوق کوئی اتنا برا بھی نہیں تھا جتنے برے شوق انعام رانا کے  تھے ۔

جِم جانے کے لئے نیا ٹراوزر ، نئی بوشٹ اور نئے لنڈے کے جوتے لینے کا مرحلہ قریب آگیا تھا۔

جس کا پورا حساب لگایا کہ فیس بکی پنکھوں میں سے اگر کوئی مطلوبہ اشیا ٕ سے منسلک کاروبار میں ہیں تو جگاڑ بندی کی جائے۔ چونکہ اب لالہ عارف کا شمار فیس بک کے بڑے دانشوروں میں ہونے لگا تھا تو اس قسم کے   جگاڑ  لگانا وہ اپنا استحقاق بھی سمجھنے لگ گئے تھے ۔

کئی  دن شکار کی دریافت میں ہی گزر گئے لیکن اب جو حضرات کام کے دریافت ہوئے تو وہ ذرا دور کے تھے  ۔ کوئی بات نہیں اس دفعہ پیسے لگا لیتے ہیں کی خودکلامی کے بعد عارف خٹک نے ہمت باندھی اور پیسے لے کے نکل پڑے ۔

julia rana solicitors

توند محض اس نئی شادی والے مشن میں ہی رکاوٹ تھی وگرنہ اسی توند کی بدولت انہیں اب پہلے سے بھی زیادہ معزز گردانا جانےلگا تھا ۔ بس میں سوار ہوتے ہی کوئی نوجوان سیٹ خالی کر دیتا تھا کہ عارف خٹک براجمان ہو سکیں۔ حالانکہ اس نا سمجھ کو کیا پتہ کہ لالہ اندر سے خود کتنے جوان تھے۔ اور حالت قیام انہیں کتنی پسند تھی ۔ بھلا انہیں بیٹھنے بٹھانے میں کیا دلچسپی ۔ جیسے وحشی کو سکون سے کیا مطلب؟ کون جانتا تھا کہ کتنے کشتوں کے طوفان یہ عارف خٹک نامی حضرت چیز اپنے اندر چھپا کے بلکہ دبا کے بیٹھا تھا ۔

Facebook Comments

عمار علوی
عام سا آدمی, ایم اے انٹرنیشنل ریلیشنز(سلور میڈلسٹ).

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply