بادل میں خرگوش ۔۔وہاراامباکر

اپنے بچپن کے دنوں میں فراغت کے وقت میں کبھی گھاس پر لیٹ کر آسمان کی طرف دیکھا ہو گا۔ بادل خوبصورت ہوتے ہیں اور ان کا سٹرکچر مسحورکن۔ یہ ہمیں اپنی دنیا کی وسعت کو سمجھنے کے لئے ایک زاویہ دیتا ہے۔ اور ہمیں ان بادلوں میں کئی چیزیں دریافت کرنے کا بھی مزا آتا ہے۔

بادلوں میں جانور یا چہرے یا دوسری اشیاء دیکھنا لطف دیتا ہے۔ ہم اس کو اچھی طرف سے سمجھتے ہیں کہ جب ہم بادل میں خرگوش “دیکھ” رہے ہیں تو یہ اس کا کوئی مطلب نہیں۔ یہ صرف اس کی رینڈم نس سے نکالے جانا والا پیٹرن ہے۔ لیکن دنیا کو دیکھنے کے ہمارے یہ بچپن کے کھیل ہماری زندگی کا اس سے زیادہ احاطہ کرتے ہیں۔ یہ اس چیز کی عکاسی ہے کہ ہمارا دماغ کس طرح انفارمیشن کو پراسس کرتا ہے اور اس سے معنی نکالتا ہے۔

کسی روٹی میں کوئی چہرہ دیکھ لینا یا دوسرے بصری دھوکے پرلطف ہیں۔ بصارت میں پیٹرن تلاش کرنے کو پیریڈولیا کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ صرف بصارت تک محدود نہیں۔ ہم کسی بھی ڈیٹا سے پیٹرن نکال لیتے ہیں۔ کسی بھی طرح کے شور میں سے پیٹرن بنا لینا ایپوفینیا ہے۔ پیٹرن ڈھونڈنے کی ہماری صلاحیت وہ مہارت ہے جس میں ہم آسانی سے کئی ملین ڈالر والے پیٹافلاپ سپرکمپیوٹرز کو مات دے دیتے ہے۔

ہمارا دماغ کمپیوٹر کے برعکس بڑے پیمانے پر کی جانے والی پیرالل پراسسنگ کی طرح منظم ہے۔ یہ پیٹرن ڈھونڈنے کے لئے بہترین تنظیم ہے جس سے بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا آسان ہے۔

دوسرا یہ کہ ہمارا ادراک ایک متحرک عمل ہے۔ یعنی کہ اس نے ایک عکس لیا۔ اس کو فٹاٖفٹ اپنے کیٹلاگ میں سے تمام ممکنہ میں سے چھان کر بہترین سے میچ تلاش کیا اور اس کو اس عکس کے ساتھ نتھی کر دیا۔ وہ بادل اب خرگوش لگنے لگا۔ اس کے بعد اس نے مزید تفصیلات کو بھر دیا کہ یہ خرگوش سے اور زیادہ مشابہہ لگنے لگے۔

یہی آواز کے ساتھ بھی ہے۔ ہم جب آواز سنتے ہیں تو دماغ اس کو اپنے ذخیرے سے میچ کرتا ہے اور آوازوں اور الفاظ کو پہچانتا ہے اور پھر آپ وہ سنتے ہیں۔ یہ طریقہ مبہم چیزوں کو بھی واضح کر دیتا ہے۔

اس پورے عمل میں “توقع” کا بڑا کردار ہے۔ اور یہی وجہ ہے جب بادل دیکھتے وقت جب آپ نے اپنے دوست کو اشارہ کر کے بتایا تھا کہ یہ گھوڑے کا سر ہے تو آپ کی تجویز کے بعد اسے بھی وہی نظر آنے لگا۔

جہاں پر یہ طریقہ سننے، دیکھنے، پہچاننے، جاننے میں کمال مہارت رکھتا ہے، وہاں پیریڈولیا اس کا سائیڈ ایفیکٹ ہے۔ وہ دیکھ اور سن لینا جو موجود نہیں۔

پیریڈولیا میں سب سے عام چہرے کا نظر آنا ہے اور اس کی وجہ دماغ میں ہے۔ دماغ سب سے حساس چہروں کی پہچان میں ہے۔ بصری کورٹیکس کا ایک پورا علاقہ (فیوزی فورم فیس ایریا) چہرے پہچاننے اور یاد رکھنے کے لئے مختص ہے اور جن لوگوں میں اس علاقے میں کچھ خلل پیدا ہو جائے، انہیں چہرے یاد رکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔

چہرے کے لئے دماغ میں اتنا تردد کیوں؟ اس لئے کہ ہم سوشل نوع ہیں اور کسی کے چہرے کو پہچاننا، اس کے تاثرات اور جذبات کا معلوم ہو جانا، کون غصے میں ہے، کون ناراض، کون خوش، کون بے چین، کون اداس۔ کس سے خبردار رہا جائے، کس پر بھروسہ کیا جائے۔ یہ پراسسنگ غیرشعوری طور پر اور بہت جلد ہو جاتی ہے۔

اس طرح کا سب سے مشہور چہرہ مریخ پر نظر آنے والا چہرہ تھا۔ 1976 میں ناسا کے وائکنگ سپیس کرافٹ کی کھینچی تصویر میں مریخ کے سائیڈونیا کے علاقے میں چٹانوں کی ساخت ایک چہرہ بناتی تھیں۔ سائنسدانوں کو اچھی طرح سے علم تھا کہ یہ چہرہ نہیں، اتفاقی مماثلت ہے۔ لیکن پاپولر کلچر میں اس چہرے نے اپنی ہی زندگی لے لی۔ “مریخ پر یادگاریں” کے نام سے کتاب اس پر لکھی گئی۔ بہت سی “ڈاکومنٹری فلمیں” اس کی اہمیت پر بات کرتی رہیں کہ اس کا مریخ سے اور وہاں پر زندگی سے کیا تعلق ہے۔ (آسان جواب: کوئی تعلق نہیں)۔

اس “چہرے” میں بھی ناک وہ حصہ تھا جو ڈیٹا ترسیل کے وقت پہنچا نہیں تھا۔ جب ناسا نے بہتر تصویر 1998 میں اتاری تو زیادہ بہتر طور پر پتا لگ گیا کہ ماسوائے چٹانوں کے اور کچھ نہیں۔

خلا سے آنے والی بہت سے تصاویر ایسی ہیں جنہیں غور سے دیکھا جائے تو کئی چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔ عطارد پر ہومر سمپسن، مریخ پر مسکراتا چہرہ،، بِگ فُٹ، اور چاند یا مریخ پر بہت سے “خلائی مخلوق کے نشانات”۔ ایک سازشی تھیورسٹ رچرڈ ہوگ لینڈ کا پورا کیرئیر ہی ناسا کی تصویر سے پیریڈولیا پر بنا ہے۔ خلائی مشنز پر سازشی نظریات گھڑنے والے بھی اسی طرح تصاویر اور ویڈیوز میں سے بہت کچھ “تلاش” کرتے ہیں۔

یہ سراب دماغ کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ کسی پیٹرن کو پہچاننے کے بعد ایسی تفصیلات جو اس میں فٹ نہیں ہوتیں، انہیں نظرانداز کر دیتا ہے اور ایسا کرنا اپنے تلاش کئے گئے پیٹرن کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔ جو چیز پیٹرن میں نہیں، اس کا بھی اضافہ کر دیتا ہے۔ دماغ تمام نقطے جوڑ کر واضح شبیہہ بنا لیتا ہے۔ یہ حیران کن ہے کہ کتنے تھوڑے ڈیٹا سے چہرا بن جاتا ہے۔ اس میں جذبات بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ چند نکتے اور ایک لکیر کسی شخصیت کا سنجیدہ چہرہ بھی بنا دیتی ہے۔

یہ دھوکے محظوظ کرتے ہیں لیکن اگر احتیاط نہ کریں تو اپوفینیا کے یہ سراب فریب بھی بن جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی بادلوں پر خرگوش دیکھ لینے سے لطف اندوزی تک محدود نہیں رہتے۔ اور اس پر طرہ ہماری متحرک یادداشت جو اس ڈیٹا کے دلچسپ حصوں کو چھاننے میں مصروف رہتی ہے ۔۔۔ یہ سب ہمیں وہ کچھ دکھا اور سنا سکتے ہیں جو موجود نہیں۔ خرگوش اصل ہو جاتے ہیں۔

رات کو جھاڑی میں ہونے والی سرسراہٹ، تاریک گھر میں سے آنے والی آواز، قبرستان میں ہیولا، خواب اور حقیقت میں ملاوٹ؟ نظر آنے والی علامات، خوش قسمت لباس، بدشگونیاں؟ کسی کارٹون یا فلم پر یا کسی کتاب پر حقیقت کا گمان اور پھر اس پر یقین کہ اس میں کسی واقعے پیشگوئی تھی؟ اعداد کے اتفاقات؟ کہیں وہ دیکھ لینا اور اس پر یقین کر لینا جو کبھی تھا ہی نہیں؟ سائنس، تجسس پسندی اور اپنے ذہن کی پہچان ان دھوکوں کے چکر سے نکلنے کا طریقہ ہے۔

کیا آپ کبھی اس طرح کے سراب کا شکار ہوئے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *