• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • “شائقینِ فن دوحہ” قطر کے زیرِ اہتمام تقریبِ یومِ پاکستان وعالمی مشاعرہ۔۔۔سانول عباسی

“شائقینِ فن دوحہ” قطر کے زیرِ اہتمام تقریبِ یومِ پاکستان وعالمی مشاعرہ۔۔۔سانول عباسی

رپورٹ از ساؔنول عباسی انفارمیشن سیکریٹری  شائقینِ  فن دوحہ قطر

٢٨ مارچ ٢٠١٩ بروز جمعرات ادبی و ثقافتی تنظیم “شائقینِ فن دوحہ” کے زیرِاہتمام ٧٩ویں یومِ پاکستان کے سلسلہ میں ” البنوش کلب مسیعید ” میں پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔

اس تقریب میں سفیر اسلامی جمہوریہء پاکستان عزت مآب سید احسن رضا شاہ صاحب نے بطور چیف گیسٹ ، سابق سفیر مملکت جناب محمد سرفراز خانزادہ صاحب بطور مہمانِ اعزازی اور سیکڑوں پاکستانی شریک ہوئے۔ پہلے حصے کی نظامت فرقان احمد پراچہ نے کی۔
تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد سانحہ نیوزی لینڈ کے شہداء کے لیے دعا کی گئی۔

تقریب کے آغاز میں قطر اور پاکستان کے قومی ترانے پیش کیے گئے، شرکائے تقریب نے با ادب و احترام کھڑے ہوکر دونوں ترانے سماعت کیے۔

جناب سفیرِکبیر نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ حاضرین کی تالیوں کی گونج میں یومِ پاکستان کی ٧٩ویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔

یہ تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی، پہلے حصے میں پاکستانی سکولوں کے طلبہ و طالبات نے ملی نغمے اورٹیبلو پیش کیے۔ ننھی طالبہ انیسہ ایوب نے یومِ پاکستان” کے تناظر میں اپنی معروضات پیش کیں۔

جناب عباس تابش اور جناب شکیل جاذب نے یومِ پاکستان کے حوالے سے اپنی ملی شاعری پیش کی ، جسے بہت سراہا گیا۔

نواز اکرم ،صدر” شائقینِ فن دوحہ” نے خطبہ ء استقبالیہ پیش کرتے ہوئے جنابِ سفیرِ پاکستان ، شعرائے کرام اور شائقینِ ادب کی تشریف آوری کا شکریہ اداکیا۔انھوں نے تقریب کے کامیاب انعقاد پر چیئرمین جناب محمد عتیق، چیف آرگنائزر ڈاکٹر فرتاش سید اور جملہ تنظیمی ساتھیوں کو مبارک باد دی اور ان کے حسنِ انتظام کی تعریف کی۔

چیئرمین جناب محمد عتیق صاحب نے اپنے خطاب میں “شائقینِ فن دوحہ” کی سلور جوبلی تقریب میں شریک سفیرِکبیر عزت مآب سید احسن رضا شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے ” شائقینِ فن دوحہ” کی 25 سالہ تاریخ پر مختصر روشنی ڈالی۔ انھوں نے شعرائے کرام اور شرکائے تقریب کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بانی مرحوم ملک مصیب الرحمن کی رفاقت کو یاد کیا اور شائقین کے جملہ عہدیداروں و اراکین کو پروگرام کے شاندار انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔

مہمانِ خصوصی عزت مآب سید احسن رضا شاہ صاحب نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین محمد عتیق اور ان کی پوری ٹیم داد و تحسین کی مستحق ہے کہ انھوں نے یومِ پاکستان کے موقع پر عالمی سطح کی تقریب منعقد کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں بچوں نے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار جس خوب صورت انداز میں کیا ہے وہ بھی قابلِ تعریف ہے،میں انھیں شاباش دیتا ہوں۔
انھوں نے مزید کہا کہ مجھے پاکستان جانے کے لیے تھوڑی دیر میں نکلنا ہے، جس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں اس قدر خوبصورت شعراء کے اشعار سننے سے محروم رہا۔

پہلے حصے کے اختتام پر عزت مآب سفیرِ پاکستان نے بچوں میں تحائف، مہمان شعراء اور” شائقینِ فن دوحہ” کے منتظمین کو اپنے دستِ مبارک سے الواحِ سپاس(shields) پیش کیں۔

تقریب کے دوسرے حصہ میں “عالمی مشاعرے” کا اہتمام کیاگیا جس کی صدارت عہدِ حاضر کے اہم غزل گو شاعر جناب عباس تابش نےکی جب کہ نظامت فرائض ڈاکٹر فرتاش سید نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔
دنیائے اردو کے نامور شعرائے کرام بشمول جناب عباس تابش (لاہور)، محترمہ فاخرہ بتول ( اسلام آباد)، جناب شکیل جاذب (لاہور)، ڈاکٹر فرتاش سید (لاہور)، جناب کنور امتیاز احمد (لاہور)، جناب عدنان بیگ (فیصل آباد)، جناب اظہر عباس ( شیخوپورہ) اور جناب نعمان عبد المجید ( مسقط عمان) نے شرکت کی جبکہ
مقامی شعراء جناب عزیز نبیل، جناب ندیم ماہر، جناب شفیق اختر، جناب آصف شفیع ، جناب قیصر مسعود، جناب زوار حسین زائر، جناب روئیس ممتاز، جناب رضا حسین رضا، جناب مشفق رضا نقوی، جناب سانول عباسی اور جناب فرقان احمد پراچہ نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

شعراء کرام کا منتخب کلام پیش خدمت ہے:

جناب عباس تابش صاحب

ایسے تو کوئی ترکِ تعلق نہیں کرتا
ہجرت وہی کرتا ہے جو بیعت نہیں کرتا
یہ ہم جو شہر کے پاس اپنا گاؤں بیچتے ہیں
یقین کیجیے ہاتھ اور پاؤں بیچتے ہیں

محترمہ سیدہ فاخرہ بتول صاحبہ

میں نے سمجھا تھا سمندر تم کو
“تھا” کا مطلب تمھیں آتا ہو گا
تو نے رستہ بدل لیا ورنہ
ہم ترے ساتھ دور تک جاتے

جناب شکیل جاذب صاحب

کچھ لوگ مانتا ہوں مسائل سے آئے ہیں
ان پر تو شک نہ کر جو یہاں دل سے آئے ہیں
جب بھی دل کے مضافات میں آ جاتا ہوں
میں خرابے سے خرابات میں آ جاتا ہوں

ڈاکٹر فرتاش سید صاحب

جناب آپ نے جو آنا جانا چھوڑا ہے
دیارِ یار نہیں،آستانہ چھوڑا ہے
یہ بات آپ بہت جلد جان جائیں گے
اک آدمی نہیں چھوڑا، زمانہ چھوڑا ہے

جناب کنور امتیاز احمد صاحب

ایسے کیا ادھر سے ادھر اپنے آپ کو
ملتی نہیں اب اپنی خبر اپنے آپ کو
دیکھا تجھے تو دیکھ لیا جیسے آئینہ
دیکھا تجھے تو آئے نظر اپنے آپ کو

جناب عدنان بیگ صاحب

اپنی اپنی محبت میں ہارے ہوئے
ہم تمھارے ہوئے تم ہمارے ہوئے
رقص کرنے لگے غم کے مارے ہوئے
ہم مہکنے لگے جب تمھارے ہوئے

جناب اظہر عباس صاحب

پلٹ کے یونہی سوالی کوئی گیا ہی نہیں
درِ حبیب سے خالی کوئی گیا ہی نہیں
خدا کرے کہ دسمبر کے سرد موسم میں
ہمارے جسم کی لکڑی تمہارے کام آئے

جناب عزیز نبیل صاحب

تا کہ پھر رات کی تصویر اتاری جائے
ان چراغوں کو ذرا دیر بجھاؤ تو سہی
آسیب سا جیسے مرے اعصاب سے نکلا
یہ کون دبے پاؤں مرے خواب سے نکلا

جناب ندیم ماہر صاحب

تجھ سے عہدِ جدید کر لوں گا
اپنی چاہت مزید کر لوں گا
تیرے چہرے کو دیکھنے کے لئے
اپنی آنکھیں مزید کر لوں گا

جناب شفیق اختر صاحب

نظامِ کجکلاہی کی یہی تدبیر ہوتی ہے
پسِ زنداں زباں بندی کہیں زنجیر ہوتی ہے
مقابل ایک دن تیرے سبھی اعمال آئیں گے
تری ہر بات ہر لمحے کہیں تحریر ہوتی ہے

جناب نعمان عبدالمجید صاحب

اپنے گھروں سے دور یہ اپنے وطن سے دور
یہ پھول ہیں کھلے ہوئے اپنے چمن سے دور
ان کے بدن تو آ گئے پردیس میں مگر
دل رہ گئے وطن میں ہی ان کے بدن سے دور

جناب آصف شفیع صاحب

نہ پوچھ درد بھری داستاں محبت کی
رو پڑے گا اگر میں سنانے پر آیا
کسے خبر تھی بچھڑنے کا دکھ بھی ہوتا ہے
یہ مسئلہ تو فقط اس کے جانے پر آیا

جناب قیصر مسعود صاحب

کیوں تم کو شکایت ہے کہ وہ در نہیں کھلتا
کس شخص پہ کھلتا ہے کہ تم پر نہیں کھلتا
کھلتے ہیں سرِ شام کئی یاد کے دفتر
رات آئے تو پھر نیند کا بستر نہیں کھلتا

جناب زوار حسین زائر صاحب

ساتھ مل کر زندگی کو قبر تک لے آئے ہم
میں کچھ یادوں کو اور یادوں نے دفنایا مجھے
عشق کا آسیب ہے دیوار کے دونوں طرف
اپنے جیسا مل گیا ہے ایک ہمسایہ مجھے

جناب روئیس ممتاز صاحب

تمھارے بارے میں جب بھی کہا غزل نہ ہوئی
غزل کے جیسے ہی کچھ تو ہوا غزل نہ ہوئی
غزل میں بات مکمل کبھی نہیں کرتے
جو دل میں ہے وہ اگر کہہ دیا غزل نہ ہوئی

جناب رضا حسین رضا صاحب

تو سب سے حسیں ہے تو سب سے جدا ہے
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ میرا ہے
اسی ورد سے ہی رضا میرے گھر میں
خوشی ہی خوشی ہے مزہ ہی مزہ ہے

جناب مشفق رضا نقوی صاحب

میں کوئی وقت نہیں ہوں کہ گزر جاؤں گا
ہاں وحی بن کے تیرے دل میں اتر جاؤں گا
جانتاہوں، میں کیا مری حقیقت کیا ہے
خاک ہوں خاک کے سینے میں اترجاؤں گا

جناب ساؔنول عباسی صاحب

ہم ہیں رندوں کے اس قبیلے سے
جن کو ساقی سلام کرتےہیں
چار سو نفرتیں ہیں، آ ساؔنول
ہم محبت کو عام کرتے ہیں

جناب فرقان احمد پراچہ صاحب

نہ ہی پھول تھے نہ ہی خواب
میرے سامنے تو سراب تھے
تو نے چاہتوں کو بھلا دیا
مجھے ہنستے ہنستے رلا دیا

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *