قبل از اسلام عرب معاشرے کی عورت ۔۔منصور ندیم/قسط2

مکّے کا سماجی ڈھانچہ ایک قبائلی طرز پر تھا، جہاں ان کی قبل از اسلام افراد کی جاہلیت، بد تہذیبی ، برائی، بیوقوفی اور جہالت کی داستانیں موجود ہیں کہ بچیوں کو پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ عورتوں کی حیثیت غلاموں یا جانوروں سے مختلف نہیں تھی، انہیں خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ شادی کے مسئلے پر بھی ان کی رائے نہیں لی جاتی تھی، بلکہ جو سب سے زیادہ بولی دے، لڑکی اس کے حوالے کر دی جاتی تھی۔ عورت مرد کے نزدیک ایک جنسی کھلونا تھی، وہ جائیداد کی مالک بن سکتی تھیں اور نہ ہی انہیں وراثت میں سے حصّہ ملتا تھا۔ بلکہ خاوند کے مرنے کے بعد بیٹے اپنے باپ کی بیویوں کو ورثے کے طور پر آپس میں بانٹ لیا کرتے تھے۔ یا انہیں گھر سے نکال دیا جاتا تھا۔ بیوہ کو ایک سال تک ایک ایسے حجرے میں رہنا پڑتا تھا جس میں روشنی یا ہوا کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ اس حجرے کو چھوڑنے کی اسے اجازت نہیں ہوتی تھی، وہ نہ تو نہا سکتی تھی اور نہ ہی کپڑے بدل سکتی تھی۔ جب وہ ایک سال بعد باہر آتی تھی تو اس پر اونٹ کا پیشاب پھینکا جاتا تھا، جس سے یہ مطلب ہوتا تھا کہ اس عورت نے اپنی عدت پوری کر لی ہے۔

لیکن جہاں جہالت اور قبیح رسوم کا  تذکرہ موجود ہے وہاں ان کے قانونی یا سماجی طور پر ان اقدار کا  ذکر ضروری ہے، جس میں اپنے وقتوں کی خامیوں کے ساتھ خوبیاں بھی تھیں۔ جن میں مہمان نوازی، فیاضی، وفاداری اور میدان جنگ میں شجاعت کو اہم سمجھا جاتا تھا۔بچیوں کو پیدا ہونے  پر اگر چند لوگ    زندہ درگور کرتے تھے تو تاریخ میں ایسے اصحاب کا ذکر  بھی ملتا ہے ، جو ہر پیدا ہونے والے بچے کے گھر جاکر کہتے تھے اگر بیٹی نہیں پالنی تو مجھے دے دیں اور وہ ان  بچیوں کو خود پالتے تھے ۔

مؤرخین کے نزدیک جاہلیت ، اسلام اور اس کے بعد کے تمام ادوار میں ادب کے اندر عورت نے اپنے مُعزّز اور شرافت کے حامل موقف کے سبب ایک بڑا اور مؤثر کردار ادا کیا جہاں حُسن و جمال کو پاک دامنی اور شرافت کے ساتھ مربوط کیا گیا۔عربوں کی شاعری اپنی عورتوں کی خوبصورتی، وقار اور اپنے قبیلے کی امن اور جنگ کی حالت میں اپنے قبیلے کی شجاعت اور اقدار سے متعلق ہوا کرتی تھی۔ شاعری پر صرف مردوں ہی کی اجارہ داری نہیں تھی، بلکہ عورتیں بھی شاعری کرتی تھیں۔
قبل از اسلام کی عرب عورتیں بناؤ سنگھار کرتی تھیں، جسم پر نقش و نگار بنوانا بہت عام تھا۔ لیکن عورتیں اپنی سجاوٹ کے باوجود مردوں کی ہوس بھری نگاہ سے بچنے یا زیادتی کے ڈر سے حجاب نہیں اوڑھتی تھیں۔ اور نہ ہی پردے کا کوئی تصور تھا۔ عورت اگر چاہے تو اپنی عزت لٹنے کے ڈر کے بغیر، ننگے طواف کعبہ کر سکتی تھی۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ زمانہ قبل از اسلام کی ایک مقدس مذہبی رسم تھی ، عورتوں کو صرف سماجی طور پر ہی نہیں بلکہ مذہبی زندگی میں اس کی اہمیت کچھ یوں واضح  ہوتی ہے کہ تمام بت جن کی پرستش کی جاتی تھی ان میں سب سے اہم عورتوں کے بت تھے۔  مکہ میں عزیٰ، طائف میں لات اور مدینہ میں منات سب سے زیادہ مقبول دیویاں تھیں۔ان کی مذہبی عقیدت کے مطابق یہ نیک خواتین کی مورتیاں تھیں اس لئے   ان مورتیوں کو سب سے زیادہ احترام دیا جاتا تھا۔

قبل از اسلام خطہ عرب کی عورت کا حسن و جمال اور شاعری :

عرب کے شعراء اپنے قصیدوں میں عمومی طور پر عورت کی خوب صورتی کے گُن گاتے رہے جو کہ جمال کی تمام صورتوں کے لیے ایک وسیع علامت بن چکی تھی۔
زبان و بیان کے میدان میں وہ خود کو تمام عالم پر ترجیح دیتے تھے ۔حتی کہ عرب کے علاوہ دیگر علاقے کے افراد کو عجمی یعنی اپنے مقابلے میں گونگا تصور کرتے تھے ۔سر مایہ داروں کے عظیم الشان بازار عکاظ میں شعرو شاعری کی مقابلہ آرائی ہوا کرتی تھی اور جس کا قصیدہ زبان و بیان کے لحاظ سے معاصر شعرا ء سے بہتر ہوتا تھا اسے فخریہ خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیا جاتا تھا تا کہ سال بھر دور دراز کے علاقوں سے آنے جانے والے لوگ بھی اس شاعر کی عظمت اور کلام کی علویت کا اندازہ کرسکیں ۔انکی تجری کا عالم یہ تھا کہ جب امرالقیس نے اپنی چچا زاد بہن عنیزہ سے اپنی عشق کی داستان کو لفظی چٹخارے اور فحش الفاظ کے ساتھ نظم کیا تو عرب کے فصیح و بلیغ افراد نے اس کلام کو سال کا سب سے بہتر قصیدہ شمار کیا ۔ساتھ ہی اس قصیدہ کو خانہ کعبہ کی دیوار پر بھی چسپاں کردیا تاکہ جو اس کلام کی اثر آفرینی و ہیجان انگیزی سے واقف نہیں ہیں وہ بھی محظوظ اورملذذ ہو سکیں ۔امرء القیس کا یہی قصیدہ سبع معلقات میں بھی شامل ہے ۔
(حوالہ : شرح المعلقات السبع للزورنی ص۳)

عربوں کی جانب سے بھی حسن و جمال کی حامل خواتین کو ہمیشہ سے پذیرائی ملتی رہی خواہ وہ اسلام سے قبل ہو یا پھر اسلام کی روشنی کے طلوع ہونے کے بعد کا زمانہ۔
تاریخ میں ان چند خواتین کا نام ملتا ہے، جنہوں نے اُس زمانے میں عربوں کو اپنے حسن و جمال کا سب سے  زیادہ دیوانہ بنا کر رکھا۔ مؤرخین نے اپنی کتابوں میں قبل از اسلام کے بعد کے زمانے کی ایسی کئی خواتین کا حوالہ پیش کیا ہے۔ ان میں اہم ترین نام یہ ہیں :

اُم اناس الشیبانیہ:

اس کا پورا نام اُم اناس بنت عوف بن محلم الشیبانی ہے۔ واضح رہے کہ اُم اناس اس کی کنیت نہیں بلکہ نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دورِ جاہلیت میں عرب خواتین میں خوب صورت ترین خاتون تھی۔ اس کی ماں کا نام امامہ بنت کسر بن کعب بن زہیر التغلبی ہے جو معروف شاعر اِمرؤالقیس کے دادا الحارث بن عمرو کی ماں بھی تھی۔ کندہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دورِ جاہلیت کے شاعر بشر بن ابو خازم الاسدی نے اُم اناس کی مدح سرائی کی۔ اُم اناس کا باپ عوف بن محلم تھا۔ اس کے بارے میں عربی کی ضرب المثل مشہور ہے کہ “لا حر بوادی عوف” یعنی جو کوئی بھی اُس کی طرف جاتا تھا وہ اس کے چنگل میں آجاتا۔

حلیمہ الغسانیہ :

یہ الحارث بن ابو شمر الغسانی کی بیٹی تھی۔ اس کا باپ غساسنہ قوم کے بادشاہوں میں سے تھا۔ وہ اپنے مبہوت کر دینے والے حسن کے سبب مشہور تھی یہاں تک کہ جب حلیمہ کے باپ کی الحیرہ کے فرماں روا المنذر بن ماء السماء کے ساتھ جنگ ہوئی تو اُس نے یہ اعلان کر ڈالا کہ جو شخص بھی الحیرہ کے شاہ کا سر لا کر دے گا وہ اُس کو تحفے میں اپنی بیٹی پیش کر دے گا۔ آخرکار لبید بن عمر الغسانی کسی طرح المنذر کو قتل کر کے اُس کا سر الحارث الغسانی کے پاس لانے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم اُس کی حلیمہ سے شادی نہ ہوئی کیوں کہ وہ لڑائی کو جاری رکھنے کے واسطے پھر سے میدان جنگ میں لوٹ گیا۔ اس دوران المنذر کے بھائی کے ساتھیوں نے لبید کو قتل کر ڈالا جس نے اپنے بھائی کا انتقام لینے کی ٹھان رکھی تھی۔

برہ بنت سعید الاسود:

وہ اپنے وقت کی خواتین میں خوب صورت ترین اور بہترین چال رکھنے والی عورت تھی۔ اس کی منفرد چال کو ضرب المثل میں استعمال کیا جاتا تھا۔

رہم بنت الخزرج بن تیم اللہ :

اُس سے سعد بن زید بن منات بن تمیم نے شادی کی تھی۔ اس سے سعد کا بیٹا مالک بن سعد پیدا ہوا۔

المرزبانہ :

یہ خاتون نبوّت کے جھوٹے دعوے دار الاسود العنسی کے ساتھ اپنی کہانی کے سبب مشہور ہوئی۔ الاسود نے اس کو نجران کے علاقے سے زبردستی اُٹھا کر اس سے شادی کر لی۔ وہ الاسود کو سخت ناپسند کرتی تھی۔ المرزبانہ کی نفرت قائم رہی یہاں تک کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں الاسود مارا گیا۔

قبل از اسلام شعر کے دیوان میں شہرت پانے والی خواتین :

بہت سی دیگر خواتین ہیں جن کا ذکر اشعار اور مخطوطات میں آیا ہے۔ شعراء نے ان کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ زمانہ قبل از اسلام میں عام طور سے ابتدائی اشعار میں خوب صورت عورت کا ذکر ہوتا تھا اور یہ سلسلہ بعد کے زمانوں میں  بھی چلتا رہا۔ ان ابتدائی غزلیہ اشعار میں شاعر عورت کے جمال اور اس کی اچھی صفات کا ذکر کیا کرتے تھے۔

عرب شاعری کے دیوان اس صِنف کے ساتھ لا تعداد حیثیت سے بھرے پڑے ہیں۔ بہت سے شاعروں نے خوب صورت خواتین کا فتنہ خیز انداز میں ذکر کیا۔ ان میں عمر ابن ابو ربیعہ ، اوب عمر العرجی ، جمیل بن معمر یا جمیل بثینہ ، الحارث بن خالد ، عنترہ بن شداد اور دیگر شامل ہیں۔

یہاں سے بہت سی خواتین کو نمایاں حیثیت حاصل ہوئی اور ان کے نام شعراء کے کلاموں کے ابتدائی غزلیہ اشعار میں پھیل گئے۔ ان ناموں میں سلمی ، وعد ، ہند ، لیلی ، فاطمہ ، رباب ، سعاد اور دیگر نام شامل ہیں۔ عرب خواتین کے حسن و جمال کے حوالے سے نئے دور کی ایک اہم کتاب “جميلات العرب، كما خلد ہن الشعراء” ہے۔ کتاب کے مؤلف کا نام خازن عبُّود ہے۔

بدوی عرب معاشرے میں شاعروں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ شاعر  اپنے  قبیلے کی اجتماعی روح کے ترجمان کا کردار ادا کرتے تھے۔  اور ان کے ادا کردہ الفاظ بہت زیادہ تاثیر کے مالک ہوتے تھے۔  پسندیدہ یا ناپسندیدہ فعل اور کیفیت کا اظہار اشعار کی صورت میں کیا جاتا تھا، کسی بھی ناپسندیدہ شخصیت کی ہجو لکھنا بہت عام سی بات تھی شاعروں کو اپنے وقتوں کے نقاد، صحافی یا تاریخ دان بھی کہا جا سکتا ہے۔

عصما بنت مروان:

عصما بنت مروان ایک شاعرہ تھی۔ اس کا تعلق قبیلہ اوس کی شاخ بنو خطمہ سے تھا، اور وہ اپنے ہی قبیلے کے یزید بن زید بن حصن الخطیمی کی بیوی تھی۔ ان وقتوں میں مدینہ کی عورتیں سماجی طور پر کس قدر  متحرک تھیں عصما اس کی ایک مثال ہے۔ جب اس نے ابو عفک شاعر کا مسلمانوں ہاتھوں قتل ہونے کا سنا، تو غصے سے بپھر گئی اور اس نے مقامی لوگوں کو جھنجھوڑنا شروع کیا، اور انہیں  بتایا کہ باہر سے آنے والا یہ اجنبی ان کا دشمن ہے جو مدینہ کو اپنے غلبے کے تحت لانے کیلئے آہستہ آہستہ اپنے مقامی مخالفین کو قتل کروا رہا ہے۔ عصما نے اپنے لوگوں کی غیرت کو جگانے کےلیے یہ اشعار لکھے۔

۔” مجھےگھن آتی ہے بنی مالک اور النابت سے
اور عوف اور بنو خزرج سے
تم کرتے ہو پیروی ایک اجنبی کی جو تم میں سے نہیں ہے
جو مراد یا مذحج سے بھی نہیں ہے ( دو یمنی قبائل)۔
کیا تمھیں اُس سے  اچھائی کی اُمید ھے،؟ تمہارے سرداروں کے قتال کے بعد بھی؟
جو کسی ازلی بُھوکے کی طرح کھانے پر پل پڑنے کے لئے ابھی تیار ھے
کیا کوئی غیرت مند نہیں بچا تم میں جو کسی غیر محفوظ لمحے کا فائدہ اٹھائے
اور گُل کر دے چراغ ان کی امیدوں کا جو کیئے بیٹھے ہیں اس سے فائدے کی توقع”
یہ اشعار زبان زد عام ہوئے اور آہستہ آہستہ پورے مدینے میں پھیل گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خلاف اٹھنے والے اس طوفان کو بھانپتے ہوئے اس کے سدّ باب کا ارادہ کیا ۔

  ۔” جب نبی کریم تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا کیا کوئی ایسا ہے جو مروان کی بیٹی سے میرا پیچھا چھڑائے”۔
(حوالہ : ابن اسحاق: سیرۃ رسول اللہ)
عمیر بن عدی نامی ایک صحابی جن کی نظر بہت کمزور تھی، انہوں نے عصما کو ٹھکانے لگانے  کا ذمہ لیا۔ عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت عصما کے گھر میں داخل ہوئے تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔
۔” ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہوگئی۔ پھر نمازِ فجر رسول  کے ساتھ ادا کی۔ جب نبی نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا: کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے؟ کہنے لگے :جی ہاں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ،اے رسول اللہ  ۔
عمیر کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا۔ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول، کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟ فرمایا کہ دو بکریاں بھی اس کیلئے سینگوں سے نہ ٹکرائیں، پس یہ کلمہ رسول اللہ  سے پہلی مرتبہ سنا گیا۔
عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول نے اپنے ارد گرد دیکھا تو فرمایا ” تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے، تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو”۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”  اس اندھے کو دیکھو جس نے رات عبادت میں گزاری ہے” ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا : اسے نابینا نہ کہو، یہ بینا ہے۔
(حوالہ : الصارم المسلول)

جب عمیر رسول کریم کے یہاں سے لوٹ کر آیا تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں، جب  انہوں نے عمیر کو سامنے دیکھا تو عمیر کی طرف آئے اور پوچھا ، اے عمیر تم نے اسے قتل کیا ہے، عمیر نے کہا ” ہاں، تم سب اکٹھے ہو کر میرا جو کر سکتے ہو کر لو    “۔
عمیر بن عدی نے قتل کے اس دلیرانہ اعتراف کے علاوہ دھمکی بھی دی کہ اگر عصما کے خاندان میں سے کسی نے یہ غلطی دہرانے کی کوشش کی تو وہ پورے خاندان کو قتل کر دے گا۔ عمیر کی یہ دھمکی نے بنو خطمہ کو اس قدر دہشت زدہ کر دیا کہ باوجود در پردہ نفرت کے انہوں نے اسلام قبول کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

۔” یہ پہلا دن ہے کہ بنو خطمہ میں اسلام کا ظہور ہوا۔ جس دن بنت مروان کا قتل ہوا، بنو خطمہ کے لوگ مسلمان ہوئے کیونکہ انہوں نے اسلام کا غلبہ دیکھا “۔
(حوالہ: ابن اسحاق: سیرۃ رسول اللہ)

فرزانہ :

عصما بنت مروان کے قتل کے علاوہ دوسری شاعرہ جس کو فتح مکہ کے بعد قتل کیا گیا تھا، وہ عبداللہ بن خطل کی کنیز فرزانہ تھی، جو آپؐ کی ہجو لکھا کرتی تھی۔(حوالہ: ابن اسحاق: سیرۃ رسول اللہ)

خطہ عرب کی چند مشہور و معروف خواتین جن کا اثرو رسوخ قبل از اسلام یا قرب از اسلام رہا:

ذیل میں ان چند خواتین کا ذکر ہے،  جن کا ریفرنس اسلامی ادب یا تاریخ کے حوالے سے ہی لیا گیا ہے ۔
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ “مجھے بہت زیادہ تجسس تھا کہ حضرت عمر سے پوچھوں کہ قرآن کریم میں کن دو ازواج مطہرات کا ذکر تھا۔ حتیٰ کہ میں نے اُن کے ساتھ فریضہ حج ادا کیا، میں نے اُن سے پوچھا، اے امیر المومنین وہ کونسی دو اُم المومنین تھیں، انہوں نے فرمایا، عائشہ اور حفصہ۔ آپ نے مزید فرمایا کہ ہم قریشی اپنی بیویوں پر حاوی ہوا کرتے تھے لیکن جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے دیکھا کہ یہاں انصاری عورتیں اپنے مردوں پر حاوی ہیں۔ ان انصاری عورتوں کی دیکھا دیکھی ہماری عورتوں نے بھی وہی روش اپنالی ہے۔ میں ایک بار اپنی بیوی پر چلایا، جواب میں وہ بھی ایسا ہی چلائی، جو مجھے اچھا نہیں لگا، میں نے اُس سے اس کی وجہ پوچھی، تو اس نے بتایا رسول اللہ کی عورتیں بھی اُن کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتی ہیں، بلکہ اُن سے پورا پورا دن روٹھی رہتی ہیں۔ میں حفصہ کے پاس گیا اور پوچھا کیا تم رسول اللہ کے ساتھ پورا پورا دن روٹھی رہتی ہو، حفصہ نے اس کا جواب اثبات میں دیا۔
(حوالہ: صیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5191 کا ایک حصہ )

مندرجہ بالا حدیث مدینہ کی عام عورتوں کے ” مردوں پر حاوی” ہونے کا ذکر کرتی ہیں، لیکن ہمیں اس سلسلہ میں زیادہ تفصیلات نہیں ملتی۔ لیکن مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں کچھ خاص عورتوں کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے، جو شائد عام عورتوں کی بہت زیادہ نمائندگی نہ کرتی ہوں لیکن پھر بھی ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ زمانہ قبل از اسلام میں کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں جن کے وقار اور اثر و رسوخ کا یہ عالم تھا کہ اس کی نظیر ہمیں اکیسویں صدی کے موجودہ مسلمان معاشروں میں بھی نہیں ملتی ۔
یہ وہ متمول عورتیں ہیں جو آزادانہ طور پر تجارت کرتی تھیں، اور اس کے لیئے مردوں کو ملازم رکھتی تھیں ۔ اپنی مرضی سے شادیاں کرتی تھیں۔ اور بڑی آسانی سے مرد کو چھوڑ بھی سکتی تھیں ۔ یا ان کا اثرو رسوخ بہرحال معاشرے پر تھا اور وہ خود آزادانہ فیصلے کرتی تھیں ۔

سلمہ بنت عمرو:

سلمہ بنت عمرو، نبی کریم کی پردادی اور آپ کے دادا عبدالمطلب بن ہاشم ( اصلی نام: شیبہ بن عمرو) کی ماں تھیں، آپ کا تعلق قبیلہ خزرج کی ذیلی شاخ بنو نجار سے تھا۔ سلمہ کو خزرج قبیلہ کی سب سے با اثر خاتون سمجھا جاتا تھا۔ آپ ایک کاروباری خاتون تھیں اور اپنے تجارتی معاملات خود اپنی نگرانی میں طے کرتی تھیں۔
سلمہ جب اور جس سے چاہتیں اپنی مرضی سے شادی کرتی تھیں اور جب جی چاہا اس مرد کو چھوڑ دیتی تھیں۔ آپکا پہلا خاوند اححیتہ ابن جولۃ تھا جسے یثرب کا سورما سردار سمجھا جاتا تھا، اس کا یثرب سے باہر قبۃ میں ایک بہت بڑا ذاتی قلعہ تھا۔ اس سے آپ کے دو بیٹے عمرو اور معبد ہوئے۔ آپکا دوسرا خاوند آپ کے اپنے یہودی قبیلہ بنو نجار سے تھا۔ اس کا نام مالک بن عدی تھا، آپکی ان سے ملائکہ اور نوار نامی دو بیٹیاں ہوئی۔ آپ کے تیسرے خاوند کا نام عوف بن عبدالعوف تھا، اس سے آپ کی شفاء بنت عوف نامی ایک بیٹی تھی۔
نبی کریم کے پردادا ہاشم بن عبدالمناف ( اصلی نام :عمرو بن مغیرہ) سے شادی کرتے وقت سلمہ نے یہ شرائط رکھیں،  وہ اپنا کاروبار ہاشم کے کاروبار میں مدغم نہیں کریں گی، بلکہ دونوں کا کاروبار ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گا۔ سلمہ مکّہ منتقل نہیں ہوں گی بلکہ مدینہ میں قیام پذیر رہیں گی اور ہاشم وہیں ان کے پاس آیا کریں گے۔ پیدا ہونے والی اولاد بھی اپنی ماں کے پاس رہے گی۔ ہاشم یہ سب شرطیں مان کر سلمہ سے شادی کرتے ہیں۔

طبقات ابن سعد میں یہ واقعہ کچھ یوں لکھا ہے ۔” قریش کے ایک قافلہ کے ساتھ جو تجارتی مال و اسباب سے بھرا پڑا تھا، ہاشم بھی چل پڑے، راستہ مدینہ پر سے گزرتا تھا، قافلہ مقام سوق النبطہ (نبطی قوم کا بازار،) میں ٹھہرا۔ یہاں ایسے بازار میں پہنچے جو سال میں ایک بار لگتا اور سب لوگ اس میں جمع ہوتے۔ قافلے والوں نے خرید و فروخت کی اور آپس میں لین دین ہوئی۔

ایک مقام جو سر بازار واقع تھا۔ اہل قافلہ کی ایک عورت پر نظر پڑی، ہاشم نے دیکھا کہ اس عورت کو جو چیز خریدنی ہے ان کے متعلق احکام دے رہی تھی۔ یہ عورت بہت دور کی سوچنے والی مستقل مزاج حسن والی نظر آئی۔
ہاشم نے معلوم کیا، یہ بیوہ ہے یا شوہر والی۔ معلوم ہوا بیوہ ہے، پہلے احیحۃ کے  نکاح میں تھی ، عمرو اور معبد دو لڑکے بھی اس کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ پھر اس (سلمہ) نے جدا کر دیا (طلاق دے دی) اپنی قوم میں عزیز و شریف ہونے کی وجہ سے یہ عورت اس وقت تک کسی کے نکاح میں نہ آتی، جب تک یہ شرط طے نہ ہو جاتی، کہ اس کی عنان اختیار (ہر چیز کا اختیار) اسی کے ہاتھ میں رہے گی، کسی شوہر سے نفرت اور ناپسندیدگی آتی تو اس سے جدا ہو جاتی (یعنی خود اس کو طلاق دے دیتی۔ اس کا نام تھا سلمہ بنت عمرو بن زید بن لبید ابن خداش بن عمر بن غنم بن دعی بن النجار )۔

ہاشم نے اسے پیغام دیا۔ ان کی شرافت اور نسب کا جب حال معلوم ہوا تو فوراَ راضی ہو گئی۔ ہاشم اس کے پاس آئے اور دعوت ولیمہ کی تیاری کی، جو وہاں تھے سب کو بلایا، تعداد میں یہ چالیس قریشی تھے۔۔
(حوالہ : طبقات ابن سعد، صفحات 92۔93)
وہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد ہاشم اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے غزہ روانہ ہوتے ہیں ، جہاں وہ بیمار پڑتے ہیں جس کے  نتیجہ میں وہ وہیں فوت ہو جاتے ہیں، ان کے ساتھی تاجر انہیں غزہ میں ہی دفن کر دیتے ہیں۔ بعد میں سلمہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے جنہیں وہ شیبہ کا نام دیتی ہیں۔ بچہ وہیں ان کے پاس پلتا ہے۔یہ بچہ  شیبہ (عبدالمطلب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا ہیں “۔
(حوالہ : طبقات ابن سعد، صفحہ۔ 96)

قتیلہ بنت نوفل:

سیرۃ کی تمام کتابوں میں ایک عورت کا ذکر ہے، جس کا نام قتیلہ بنت نوفل بتایا جاتا ہے، وہ عورت کعبہ کے نزدیک رہتی تھی۔ ایک دن جب عبداللہ بن عبدالمطلب اپنے باپ کے ساتھ جا رہے تھے اور اس عورت کے پاس سے گذرے تو اس نے کہا: ” اے عبداللہ، کہاں جاتے ہو؟ فرمایا، اپنے والد کے ساتھ جا رہا ہوں۔ اس نے کہا جتنے اونٹ تمہاری طرف سے ذبح کئے گئے ہیں، اسی قدر میں تمہاری نذر کرتی ہوں، مجھ سے شادی کر لو۔ عبداللہ نے فرمایا، میں اپنے باپ کا مطیع فرمان ہوں، ان کی منشا کے خلاف نہیں کر سکتا“۔
(حوالہ :سیرۃ رسول اللہ، ابن اسحاق)
عبدالمطلب نے منت مانی تھی کہ اگر اس کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تو وہ ایک بیٹے کی قربانی دیں گے، جب آپ کے گھر میں دس بیٹے پیدا ہو کر جوان ہوئے تو آپ نے یہ فیصلہ کرنے کیلئے قرعہ نکالا کہ کس بیٹے کی قربانی دیں۔ یہ قرعہ عبداللہ کے نام نکلا تھا۔ عبداللہ باپ کا لاڈلا تھا اور عبدالمطلب اس کی قربانی نہیں دینا چاہتے تھے۔ لہذا اس نے خیبر کی ایک کاہنہ سے اس کا حل پوچھا، جس نے اسے اونٹوں کی قربانی کرنے کیلئے تجویز دی، جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے سو تک پہنچ گئی۔ لہذا عبدالمطب نے سو اونٹوں کی قربانی دے کر عبداللہ کو بچا لیا
قتیلہ کے متعلق زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، کیا وہ بیوہ تھی یا کنواری؟، اور وہ اتنی امیر کیسے ہو گئی کہ اپنے من پسند آدمی سے شادی کیلئے سو اونٹ دینا اسے گھاٹے کا سودا نہیں لگا۔ کیا یہ سب مال و اموال اپنے باپ کے ورثے سے ملا تھا یا اپنے خاوند سے۔ لیکن دونوں ہی صورتوں میں یہ بات طے ہے کہ یہ مال اس عورت کو باپ یا شوہر کے مرنے کے بعد ورثے میں ملا تھا۔ اور قتیلہ نے خود اپنی مرضی سے اپنے پسندیدہ مرد عبداللہ سے اپنی شادی کی بات کی۔ لیکن یہ شادی نہ ہوئی۔

ہند بنت عتبہ:

ہند بنت عتبہ قریش کے سب سے بڑے سردار عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی تھی۔ ہند کی پہلی شادی فقیہ بن مغیرہ سے ہوئی، جس سے اس کا بیٹا ابان پیدا ہوا۔ فقیہ کو اپنی مرضی سے چھوڑ کر  ہند نے ابو سفیان سے شادی کی۔ غزوہ بدر میں ہند کا باپ عتبہ، بھائی ولید، چچا شیبہ اور چچا زاد حنظلہ ہلاک ہوئے۔  ہند ان کے سوگ میں کئی دنوں تک صحرا میں اپنے منہ اور بالوں میں مٹی ڈالے بین کرتی رہی۔ تا آنکہ اس کے خاوند ابو سفیان نے اسے یقین نہ دلایا کہ وہ اس کے رشتہ داروں کے قتل کا بدلہ لے گا۔ اپنے شوہر کے وعدے کے باوجود  ہندا  نے اپنے بدلے کی آگ ٹھنڈی  کرنے کیلئے جبیر بن مطعم کے وحشی نامی غلام کی خدمات حاصل کیں۔ (جس نے غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا امیر حمزہ کو شہید کیا)۔

ان وقتوں میں جب بھی کوئی جنگ ہوتی تو قریش کی عورتیں اپنے مردوں کے ساتھ میدان میں جنگ میں جایا کرتی تھیں۔ میدان جنگ میں رجز گا کر حوصلہ بڑھانے، زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کرنے کے علاوہ عورتوں کی جنگ میں موجودگی کے پیچھے یہ سوچ کام کر رہی ہوتی تھی کہ ان کی موجودگی میں ان کے مرد دلیری سے لڑیں گے اور میدان سے نہیں بھاگیں گے ۔ ہندا  غزوہ احد کے موقع پر میدان جنگ میں ایک زخمی شیرنی کی طرح بے چینی سے  گھوم رہی تھی۔ جب بھی وحشی کے پاس سے گزرتی تو اسے کہتی ” اے ابو وسمہ تو میرا دل ٹھنڈا کر اور اپنا دل بھی ٹھنڈا کر “۔ جب جنگ شروع ہو گئی تو ہندا  اپنی ساتھی عورتوں کے ساتھ مردوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دف بجا کر یہ گانا شروع کر دیا۔

” ہم رات کو آنے والوں (ستاروں) کی بیٹیاں ہیں، ہم گدیلوں پر اس طرح  چلتی ہیں جیسے کہ جانور قطا ر صاف جنگل میں چلتا ہے۔ اگر آگے بڑھو گے تو ہم گلے لگائیں گی اور گدے بچھائیں گی، اگر منہ موڑو گے بغیر کسی خیال کے قطع تعلق کر دیں گی۔ اے بنو عبدالدار، اے پشت بچانے والو، شمشیر بران سے مارو”۔
وحشی بھالا پھینکنے کا بہت ماہر تھا، اس نے ایک درخت کی آڑ لے کر اپنا بھالا پھینکا جو حمزہ کے پیٹ کے پار ہو گیا۔ جونہی ہندا  نے یہ منظر دیکھا تو خوشی سے بے اختیار اپنا بازو بند، ہنسلی اور کان کی بالیاں اتار کر وحشی کو دے ڈالیں۔  اور ایکدم سے ایک چٹان پر چڑھ گئی اور رجز گانے شروع کر دیئے۔
۔ “جنگ بدر کا بدلہ ہم نے چکا دیا، اور جنگ کے بعد جنگ بھڑکتی ہے۔ میں شیبہ، ولید، عتبہ اور بکر کے قتل پر صبر نہ کر سکی۔ میں نے اپنے دل کی کدورت نکال لی ہے۔ اور نذر پوری کر لی ہے۔  اے وحشی تو نے میرے سینے کی سوزش کو شفا بخشی۔ وحشی کا شکر پوری زندگی مجھ پر واجب ہے۔ یہاں تک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں”۔
(حوالہ : تاریخ ابن کثیر )
مسلمانوں نے 630ء میں مکہ پر  قبضہ کیا۔ ہند ا کے شوہر ابوسفیان بن حرب نے نہ صرف خود بغیر لڑے ہتھیار ڈالے بلکہ قریش مکہ کو بھی لڑنے سے روکا، اور انہیں اپنے گھروں کے دروازے بند رکھنے، کعبہ یا اپنے خود (ابو سفیان)  کے گھر میں پناہ لینے کی ہدایت کی۔ یہ دن ہندا  کی زندگی کا تاریک ترین دن تھا، اپنے گھر میں پناہ کے لیئے آتے لوگوں کو دیکھ کر اس کے  غصے کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ آخر اس کا ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور اس نے آگے بڑھ کر  اپنے شوہر ابو سفیان کی مونچھیں پکڑ لیں اور گھر کے صحن میں جمع لوگوں کو مخاطب کر کے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”  خنزیر کی گندی چربی سے بنے غبارے کی طرح اس پھولے ہوئے پیٹ والے کو قتل کر دو جو ایک ذرا سا لشکر دیکھ کر حواس باختہ ہو گیا “۔ لیکن سوائے ایک آدھ کے کسی نے بھی مسلمانوں کے لشکر کا سامنا کرنے کی ہمت نہ کی اور مکّہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔
فتح مکہ کے بعد جب آپؐ مردوں سے بیعت لے چکے تو عورتوں سے بیعت لینی شروع کی۔ ان عورتوں میں ہندا  کو بھی لایا گیا جو گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی۔ جب اس کی باری  آِئی  تو اس کا گرم صحرائی خون اس قدر ابل رہا تھا کہ اس نے اس بات کی قطعاََ پرواہ نہ کی کو وہ اس وقت اپنے وقت کے فاتح سلطان کے ساتھ  مکالمہ کر رہی ہے۔ اور اس کی ذرا سی بے احتیاطی اسے موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ بیعت لیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا
نبی: عہد کرو کہ تم خدائے واحد کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گی۔
ہندا: تم ہم سے ایسی بات کا اقرار لے رہے ہو، جس کا اقرار تم نے مردوں سے نہیں لیا
نبی:اس بات کا عہد کرو کہ چوری نہیں کرو گی
ہندا: ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے، بقدرے کفالت خرچہ نہیں دیتا۔ میں صرف اپنا خرچہ چراتی ہوں
نبی: یہ چوری نہیں ہے
نبی: عہد کرو کہ تم زنا نہیں کرو گی
ہندا: کیا شریف عورتیں زنا کرتی ہیں۔
نبی: عہد کرو کہ تم اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گی
ہندا: کیا تم نے بدر میں کوئی ہمارا بچہ چھوڑا ہے جسے ہم قتل کر سکیں۔ ہم نے تو بچوں کو پالا پوسا اور جب وہ جوان ہوئے تو تم نے انہیں مار ڈالا،تم نے بدر کے روز باپوں کو قتل کیا اور اب تم ہمیں ان کے بچوں کے متعلق نصیحتیں کر رہے ہو۔
صحرائی خون کی یہ گرمی صرف ہندا  تک ہی محدود نہ تھی۔ بدوی معاشرے میں جہاں فیاضی اور مہمان نوازی وغیرہ کو بہت سراہا جاتا تھا۔ وہیں میدان جنگ میں شجاعت کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اپنے قبیلے کی شجاعت کے قصے شاعروں کا مقبول موضوع ہوتا تھا۔ غزوہ بدر میں بہت سے قریش مکہ قیدی ہو گئے تھے، ان میں ابو یزید سہیل بن عمرو نامی قیدی بھی شامل تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ رسی کے ساتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے۔ اور وہ نبی کریم کے ایک حجرے کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ جب ام المومنین سودۃ بنت زمعۃ کی نظر ان پر پڑی، تو وہ چند لمحوں کیلئے بھول گئیں کہ وہ ام المومنین ہے اور یہ قریشی اب ان کا دشمن ہے اور بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔
۔” اے ابو یزید تم لوگوں نے اپنے ہاتھ پاؤں دوسروں کے اختیار میں دے دیئے، تم لوگ عزت کی موت مر کیوں نہ گئے “۔ نبی کریم نے فرمایا، اے سودۃ کیا عزت و جلال والے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر ابھار رہی ہو۔ ام المومنیں نے کہا، یا رسول اللہ، اس ذات کی قسم ہے، جس نے آپ کو حق پر مبعوث فرمایا ہے۔ جب میں نے ابو یزید کے ہاتھوں کو اس کے گلے میں بندھے پایا، تو میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی اور یہ بات کہہ دی”۔
(حوالہ : ابن اسحاق، سیرۃ رسول اللہ )

فاطمہ بنت ربیعہ :

فاطمہ بنت ربیعہ المعروف ام قرفہ کا تعلق بنو فزارا نام کے بت پرست قبیلے سے تھا۔ وہ بارہ بیٹوں اور ایک انتہائی خوبصورت بیٹی کی ماں تھی۔ ام قرفہ وادی القریٰ کے ارد گرد کے تقریباًًً  سو دیہات کی مشترکہ سردارنی/ رئیسہ تھی۔ اس کے سماجی مرتبے کا  اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے  گھر میں پچاس سے زیادہ تلواریں لٹکی ہوئی تھیں ، جو مختلف قبائل کے سرداروں نے اسے عزت کے طور پر نذر کی تھیں۔ ایک روایت کے مطابق اگر کہیں دو قبیلے آپس میں لڑ پڑتے تھے تو انہیں لڑائی سے روکنے کیلئے ام قرفہ کا دوپٹہ بھیجا جاتا تھا جسے نیزے پر نصب کر کے میدان جنگ میں گاڑ دیا جاتا تھا اور لڑائی فوراََ بند ہو جایا کرتی تھی۔
۔” راوی کہتا ہے کہ ام قرفہ اپنی قوم میں ایسی بلند مرتبہ سمجھی جاتی تھی۔ کہ لوگ تمنا کیا کرتے تھے کہ ہم کو ام قرفہ کی سی عزت نصیب ہو”۔
(حوالہ: ابن اسحاق، سیرۃ رسول اللہ)

اسلام آنے  کے بعد جب غزوہ خندق کے بعد مسلمان بہت طاقتور ہو گئے تھے، غزہ خندق کے بعد کے حملوں میں ایک وادی القریٰ کے علاقے پر تھی ۔ اس حملے کی سربراہی کے متعلق دو روایات ہیں۔ ابن اسحاق کی سیرۃ اور تاریخ طبری کے مطابق اس کی سربراہی زید بن حارث نے کی۔ جبکہ دوسری روایت کی بنیاد صیح مسلم کی ایک حدیث ہے۔ جس کے متعلق یہ حملہ حضرت ابو بکر کی سربراہی میں ہوا۔
” اس واقعہ کے متعلق عبدالرحمن بن ابی بکر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے زید بن حارثہ کو  وادی القریٰ بھیجا، وہاں  بنو فزارا سے ان کی مڈھ  بھیڑ ہوئی۔ ان کے بہت سے ساتھی شہید ہوئے اور خود زید بھی مقتولین کے درمیان سے سخت مجروح اٹھائے گئے۔ اس واقعہ میں بنو بدر کے ایک شخص کے ہاتھ سے بنو سعد بن ہذیم کے  ورد بن عمر مارے گئے۔ مدینہ آ کر زید نے عہد کیا کہ تا وقتیکہ وہ بنو فزارہ پر چڑھائی نہ کر لیں، غسل جنابت بھی نہیں کریں گے۔ جب وہ اپنے زخموں سے صحت یاب ہوئے، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک فوج کے ساتھ بنو فزارہ کے ساتھ لڑنے کیلئے بھیجا۔ وادی القریٰ میں حریفوں کا مقابلہ ہوا، زیدؓ نے ان کے بہت سے آدمی قتل کر دیئے۔ قیس بن المسحر الیعمری نے معدہ بن حکمہ بن مالک بن بدر کو قتل کر دیا، اور ام قرفہ فاطمہ بن ربیعہ بن بدر کو جو مالک بن حذیفہ بن بدر کی بیوی تھی گرفتار کر لیا۔ یہ ایک بہت سن رسیدہ عورت تھی، اس کے ہمراہ اس کی ایک بیٹی اور عبداللہ بن معدہ بھی گرفتار ہوا۔ زید کے حکم سے ام قرفہ کو نہایت بے دردی سے اس طرح قتل کیا گیا کہ اس کے دونوں پیروں میں رسیاں باندھی گئیں اور پھر اسے دو اونٹوں کے درمیان لٹکا کر ان اونٹوں کو ہانکا گیا، جس سے اس کے دو ٹکڑے ہو گئے  “۔
(حوالہ : طبری:تاریخ الاامم و الملوک)

حدیث کے مطابق امہ قرفہ کی بیٹی کو اہل مکہ کے حوالے کیا جاتا ہے، تاکہ اس کے بدلے مسلمان قیدیوں کو رہا کروایا جائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں کئی مسلمانوں کو چھڑایا جو مکہ میں قید ہو گئے تھے
(حوالہ : صحیح مسلم، باب۔ انعام اور قیدیوں کے بدلے مسلمانوں کا چھڑانا، حدیث نمبر: 1145)۔

سجاح بنت حارث:

قبل از اسلام وقتوں میں جن قبائل کا ذکر تواتر سے ملتا ہے کہ جہاں والدین بچیوں کو پیدائش کے فوراََ بعد زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، اس میں قبیلہ بنو تمیم کا خصوصی طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ سجاح بن حارث بن سوئید اُسی بنو تمیم نامی بدنام قبیلے میں پیدا ہوئی تھیں سجاح کا باپ بنو تمیم کی شاخ بنو تربوع سے تھا جبکہ اس کی ماں بنو تغلب نامی عیسائی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔ سجاح ایک فال گیر تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ پیغمبرہ ہے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔  جب اس نے قریش مکہ کو ارد گرد کی بستیوں پر قبضہ کرتے دیکھا تو اپنی وحی کو قبیلے کے سامنے پیش کرتے ہوئے اس نے کہا۔
اے اہل ایمان آدھی دنیا ہماری ملکیت ہے۔ دوسرا آدھا حصہ قریش کا ہے، لیکن وہ اپنی حد سے تجاوز کر گئے ہیںِ”۔”
(حوالہ :  کتاب الاغانی: ابوالفرج اصفہانی)
جب سجاح نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو مالک بن نویرہ، عطارد بن حاجب سمیت  بنو تمیم کے کئی بڑے سرداروں نے اسے اپنی نبیہ تسلیم کیا۔ عطارد بن حاجب نے سجاع کے بارے میں کہا۔ ” ہمارا نبی عورت ہے، ہم نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے اور لوگوں کے انبیا مرد ہیں “۔
نبوت کا اعلان کرنے کے بعد سجاح نے مالک بن نویرہ سے رابطہ کیا،جسے نبیؑ کریم نے بنو تمیم کا سردار مقرر کیا تھا۔ مالک نے مسلمانوں کو چھوڑ کر سجاح کی قیادت تسلیم کر لی۔ سجاح نے ارد گرد کے قبیلوں پر حملے شروع کر دیئے۔ رباب نامی قبیلے پر حملہ کرنے پر سجاح نے الہامی پیرایہ میں یہ جملے کہے۔
۔” سواریاں تیار رکھو، غارت گری کے لیئے تیار ہو جاؤ، پھر رباب پر غارت گری کرو، کیونکہ ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ”
( حوالہ : طبری: تاریخ الامم و الملوک)۔
سجاح کی کامیابیوں کے باعث بنو تمیم کےقیس بن عاصم، احناف بن قیس، جنگجو حارث بن بدر  جیسے نامور لوگ بھی سجاع کے ساتھ شامل ہو گئے۔ سجاع نے بنو تمیم کے حلیف قبیلوں پر بھی چڑھائی کی لیکن نیاج کے مقام پر اس کا بہت زیادہ نقصان ہوا اور صلح پر مجبور ہو نا پڑا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور جلد ہی اپنا لاؤ لشکر اکٹھا کر کے کہا۔ “یمامہ چلو، کبوتر کی طرح اڑتے ہوئے، یہ لڑائی فیصلہ کن ہو گی اور اس کے بعد تم پر کوئی ملامت نہیں رہے گی “۔
سجاح اس کے بعد یمامہ کی طرف بڑھی جہاں مسیلمہ نامی نبوت کا ایک اور دعویدار تھا۔ مسیلمہ اس وقت ثمامہ بن أثال  سے جنگ میں مصروف تھا، جس کی پشت پناہی عکرمہ بن ابوجہل کی زیر سرکردگی مسلمان کر رہے تھے۔ سجاح کی تیز رفتار پیش قدمی سے پریشان ہو کر مسیلمہ نے سجاح کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھایا، اور اسے ” خدا کی زمین ” سے حصہ دینے کے وعدے کے علاوہ اس خدا کی پیغمبرہ بھی تسلیم کر لیا۔
۔” آدھی زمین ہماری اور آدھی زمین قریش کی ہوتی، اگر برابر تقسیم کی جائے، لہذا اب قریش کا حصہ بھی اللہ نے تمہیں دیا ہے، لہذا اسے بخوشی قبول کرو”۔
۔” تمہارے رب نے تمہیں دیکھا، تم پر سلامتی بھیجی اور وحشت کو تم سے دور کر دیا۔ اور آخرت کے دن وہ تم کو آتش دوزخ سے بچا کر حیات دوام عطا فرمائے گا۔ نیک لوگوں کی دعائیں ہمارے لیئے ہیں، جو نہ شقی ہیں نہ بدکار جو تمام رات اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اور دن کو روزہ رکھتے ہیں تمہارے رب کیلئے، جو مالک ہے بادلوں کا اور بارشوں کا۔
(حوالہ :  محمد بن جریر الطبری: تاریخ الامم و الملوک)

کچھ تاریخ کی کتابوں کے مطابق سجاح نے مسیلمہ سے شادی کر لی۔ اور اس نے یمامہ کی فصلوں سے آدھا حصہ خراج کے طور پر وصول کیا اور واپس چلی آئی۔ واپسی پر سجاح کا سامنا خالد بن ولید سے ہوا اور شکست کھا کر  اس کی جماعت منتشر ہوگئی۔  سجاح شکست کھانے کے بعد بنی تغلب کے جزیرہ میں جا بسی، تا آنکہ معاویہ بن ابو سفیان نے قحط سالی کے زمانہ میں اسے کوفہ میں ٹھہرایا، یہاں اس نے اسلام قبول کر لیا۔

خدیجہ بنت خویلد :

خدیجہ بنت خویلد  کا شمار ان خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پہلی بیوی تھیں۔ آپ  قریش کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے کے علاوہ ایک کامیاب اور امیر تاجرہ تھیں۔ آپکی مال و دولت، حسن اور عزت کی وجہ سے آپ کو امیرہ قریش، طاہرہ اور خدیجہ الکبریٰ کہا جاتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پہلے جناب  خدیجہ الکبریٰ  کی دو شادیاں ہوچکی تھیں ، ان کے پہلے شوہر ابو ہالہ بن نباش تھے اور ہند اور ہالہ دو اولادیں تھیں ، دوسرے شوہر عتیق بن عائز مخزومی تھے،
آپ کی امارت کا یہ حال تھا کہ جب گرمیوں میں قریش کے کاروان تجارت شام اور سردیوں میں یمن کی جانب جایا کرتے تھے، تو آپ اکیلی کا سامان تجارت سے لدا کارواں پورے قبیلہ قریش کے مجموعی کارواں سے بڑا ہوتا تھا۔ آپ اپنا کاروبار اپنے ملازموں کے ذریعے کرتی تھیں، نبی کریم بھی اپنے چچا ابو طالب کی سفارش پر آپ کے قافلے کے ساتھ شام گئے تھے۔
آپ کے مال و دولت اور حسن کی وجہ سے کئی لوگوں نے آپ سے شادی کی خواہش کی لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ لیکن نبی کریم سے شادی کرنے کیلئے آپ نے خود اپنی سہیلی نفیسہ یا بہن کے ذریعے پیغام بھیجا۔ حضرت خدیجہ کے رسول اللہ سے نکاح کے متعلق ابن سعد نے طبقات   میں کچھ روایتوں کو جھوٹی روایات کہہ کہ بھی ذکر کیا ہےجن کے مطابق:
” روایت نمبر 1: معمر بن سلیمان کہتے ہیں، کہ میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، کہ ابو مجلز نے روایت کی ہے۔ کہ خدیجہؓ نے اپنی بہن سے کہا (محمد ) کے پاس جا کر ان سے میرا تذکرہ کر، یہی الفاظ تھے یا اسی قسم کے تھے۔ خدیجہ کی بہن آنحضرت کے پاس آئیں اور جو خدا نے چاہا، آنحضرت نے ان کو جواب دیا۔
ان لوگوں (خدیجہؓ کی طرف کے لوگوں) نے اتفاق کر لیا، کہ رسول اللہ ہی خدیجہ کے ساتھ نکاح کریں۔ خدیجہؓ کے والد کو اتنی شراب پلائی گئی کہ وہ مست ہو گئے۔ پھرمحمد کو بلایا اور خدیجہ کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔ بوڑھے کو ایک لباس پہنا دیا، جب وہ ہوش میں آیا تو پوچھاکہ یہ لباس کیسا؟ لوگوں نے جواب دیا، یہ تیرے داماد ( محمد ) نے پہنایا ہے۔
بوڑھا بگڑ گیا اور ہتھیاراٹھا لیا، بنی ہاشم نے بھی ہتھیار سنبھال لیے، اور کہا کچھ اس قدر ہم تمہارے خواہشمند نہ تھے۔ اس گہما گہمی کے بعد آخر کار صلح ہو گئی۔
روایت نمبر 2: محمد بن عمر اس سند کے علاوہ دوسری سند سے روایت کرتےہیں۔ کہ خدیجہ نے اپنے والد کو اس قدر شراب پلائی کہ وہ مست ہو گیا۔ گائے ذبح کی، والد کے جسم میں خوشبو لگائی اور مخطط ( دھاری دھار) لباس پہنایا، جب اسے ہوش آیا تو پوچھا : ما ھذا العقیر، و ما ھذا العبیر، و ما ھذا الجبیر ( یہ ذبیحہ کیسا؟ یہ خوشبو کیسی؟، اور یہ دھاری دھار لباس کیسا؟)۔
 خدیجہؓ نے جواب دیا تو نے مجھے محمدکے عقد نکاح میں دے دیا ہے ( یہ سب اسی نتیجہ میں ہے) اس نے کہا: میں نے یہ کام نہیں کیا۔ بھلا میں ایسا کام کیوں کروں گا۔جس وقت بزرگان قریش نے تجھے پیغام دیا، میں نے تو اسے اس وقت بھی قبول نہیں کیا تھا
(حوالہ  :  طبقات ابن سعد)
حضرت خدیجہ سے شادی سے پہلے نبی کریم کا کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں تھا۔  آپ محض بکریاں چرایا کرتے تھے۔اور اس وقت اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں تھے ۔
ہم (جابرؓ بن عبداللہ) نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے۔ فرمایا، ہاں، اور کوئی ایسا پیغمبر نہیں جس نے نہ چرائی ہوں۔
(حوالہ :طبقات ابن سعد، جلد اول، صفحہ 139)
خدیجہ سے شادی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافی معاشی آسانی ہوگئی تھی ۔ رسول کریم نے پوری زندگی سوائے حضرت خدیجہ کے قافلے کے ہمراہ جانے سے پہلے کوئی  خاص بڑا تجارتی سفر نہیں کیا  تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  شادی سے پہلے  اپنے چچا  ابو طالب  اور شادی کے بعد آپ کی کفالت مکمل طور پر حضرت خدیجہ نے کی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت خدیجہ کی زندگی تک دوسری شادی نہ کی تھی ، ان کے وصال کے بعد آپ نے شادیاں کی تھیں ،   ایک بار حضرت عائشہ نے حضور اکرم کو کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔اس پر آپ نے فرمایا۔
  ” بیشک اللہ نے مجھے اس سے اچھی ( بیوی) نہیں دی۔ اس نے مجھے قبول کیا جب لوگوں نے مجھے دھتکارا، وہ مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے مجھ پر شک کیا۔ اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا، اور اس سے اللہ نے مجھے اولاد عطا فرمائی“۔

بالا درج خواتین کا ذکر خطہ عرب کے قبل از اسلام کی تاریخ میں موجود کسی بھی وجہ سے شہرت حاصل کرنی والی خواتین کے ضمن میں رہا ، لیکن سلمہ بنت عمرو، قتیلہ بنت نوفل اور خدیجہ بنت خویلد کی مثالوں سے یہ ضرور واضح  ہوتا ہے کہ عورتیں جائیداد کی وارث بنتی تھیں۔ متمول عورتیں آزادانہ طور پر تجارت کرتی تھیں،اپنے معاشی معاملات کا خود فیصلہ کرتی تھیں  اور اس کے لیے مردوں کو ملازم رکھتی تھیں ۔ اپنی مرضی سے شادی کرتی تھیں۔ اور بڑی آسانی سے مرد کو چھوڑ بھی سکتی تھیں ۔  مردوں کو کسی کو چھوڑنے کیلئے تین  بار طلاق کے لفظ کی سہولت اور عورتوں کو طلاق کیلئے انتہائی مشکل عمل وجود میں نہیں آیا تھا ۔ عورتیں سردار بھی تھیں اور حاکم بھی۔  عام عورتیں امن کے علاوہ جنگ میں بھی مردوں کا ساتھ دیتی تھیں۔جہاں وہ رجز گا کر مردوں کا حوصلہ بڑھاتی تھیں، اور زخمی ہو جانے والوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کرتی تھیں۔

(اس تحقیقی مضمون  کا مقصد  فقط تاریخی طور پر زمانہ قبل از اسلام میں خطہ عرب کی ثقافت ، سیاسیات اور عورت کا معاشرتی کردار ہے ۔)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *