رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں۔۔عامر عثمان عادل

کچھ دن پہلے کھاریاں میں جی ٹی روڈ کنارے دو افراد کو قتل اور راہگیروں کو زخمی کر کے فرار ہونے والے پولیس کے نرغے میں آ گئے اور پھر جان سے گئے۔ پتہ چلا کہ یہ تینوں افراد ضلع ننکانہ صاحب کے رہائشی تھے ۔قرین قیاس یہی ہے کہ یہ کرائے کے قاتل تھے جو اپنے انجام کو پہنچے ۔سوشل میڈیا ان کی تصویروں سے بھرا پڑا ہے میری آنکھوں کے سامنے بار بار ان کے چہرے گردش کرتے ہیں اپنے گھر سے میلوں دور ایک اجنبی سرزمین پر کھیتوں میں بے بسی کی تصویر بنے بے جان لاشے جو محض چند سیکنڈ پہلے دہشت اور موت کی علامت بنے اندھا دھند فائرنگ کر کے کتنے گھرانوں کے چراغ گل کر کے بھاگے تھے ۔
کیا یہ لوگ کسی رحم کے قابل ہیں؟ بھلا کسں کو ان سے ہمدردی ہو سکتی ہے ؟ جو لوگ محض پیسے کی خاطر جیتے جاگتے انسانوں کو لاشوں میں بدلتے ہیں وہ کسی نرم سلوک کے سزا وار کیسے ہو سکتے ہیں
لیکن کتنے سوال ہیں جو دل و  دماغ کو گھیرے ہوئے  ہیں۔۔ کیا اس قماش کے لوگوں کے گھر ہوتے ہیں؟ قاتل ڈاکو اغوا کاروں کے بیوی بچے ہوتے ہیں جب ان کی نعشیں انکے گھروں میں پہنچیں تو کیا ان کے گھر والے روئے ہوں گے ماتم کیا ہو گا ان کی بیواوں نے بال کھولے سینہ کوبی کی ہو گی ان کے بچے اپنے باپ کی لاش سے لپٹ لپٹ گئے ہوں گے ؟
کیا پتہ ان کے گھر والوں کو ان کے اصلی روپ کا علم بھی تھا کہ نہیں؟ اور ان کی ماوں کا حال کیا ہو گا ؟ یہ بھی تو کسی کے ویر کسی کے بیٹے کسی کے سر کا تاج اور کتنے معصوم بچوں کے باپ ہوتے ہوں گے
پھر یہ سوال کہ ایک عام سا شخص جرم کے راستے پر کیسے چل نکلتا ہے ؟ کیسے بدی کا ایجنٹ بن کر دوسروں کا جینا حرام کرتا ہے کبھی ہم نے ان مجرموں کے نفسیاتی تجزیہ کی ضرورت محسوس کی کہ وہ کونسے عوامل تھے جو اس کا خون سفید کرنے کا باعث بنے اور اسے انسانیت کا پاس رہا نہ خوف خدا ۔۔کیا کسی نے مجرموں کی اصلاح اور انہیں شرافت کی زندگی کی طرف واپس لانے کیلئے اقدامات کا سوچا بھی؟ ہماری جیلیں مرکز اصلاح ہیں یا جرائم کی نرسریاں؟ معمولی نوعیت کے جرائم میں جیل جانے والوں کو پیشہ ور اور عادی مجرموں سے الگ رکھنے کی کوئی تدبیر ہے ہمارے پاس ؟ کتنی جیلیں ہیں جہاں مجرموں کے دلوں کو پلٹنے کے اسباب مہیا ہیں ؟ وارثان منبر و محراب کیا رب رحمن کا پیغام قیدیوں تک پہنچاتے ہیں کہ تمہارا رب غفورالرحیم ہے خطاوں کو بخشنے والا ہے کیا ہماری جیلوں میں بھتہ خوری منشیات فروشی سرکاری سرپرستی میں نہیں ہوتی ؟
ان مجرموں کو قاتل جواری چور ڈاکو بردہ فروش کس نے بنایا ؟ معاشرتی ناہمواریوں نے جبر کے اس نظام نے جہاں انصاف بکتا ہے اور مجبوریوں کی قیمت لگائی  جاتی ہے یا پھر نام نہاد ڈیرہ داروں اور وڈیروں نے جن کی اونچی حویلیاں اور ڈیرے ہر عادی مجرم کی مضبوط پناہ گاہیں ہیں
اور آخری سوال
اگر کسی مجرم کے اندر کا انسان کسی لمحے جاگ بھی جائے وہ سچے دل سے تائب ہو کر ایک صاف ستھری زندگی گزارنے کی تمنا لئے جرم و سزا کی تاریک راہوں سے پلٹنے کی کوشش کرے تو کیا دوہرے معیار رکھنے والا یہ کم ظرف معاشرہ اسے قبول بھی کر پائے گا ؟
نہیں ناں تو پھر آو ایک کام کرتے ہیں
کیا پتہ ان برے لوگوں کی لاش پر آنسو بہانے والا بھی کوئی  نہ ہو تو چلو ہم ہی ان کے لئے آنکھیں نم کر لیں
رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبوری حالات نے رونے نہ دیا !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *