جنسی درندہ ۔۔۔ عبد اللہ خان چنگیزی

انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا، مطلب تمام جانداروں میں افضل عقل و شعور رکھنے والا ایک ایسا جاندار جس کے ذہن میں اللہ تعالی نے انتہائی وسیع پیمانے پر احساسات و جذبات اور ہر مسئلے سے نمٹنے کا حوصلہ دیا۔ انسان کو انسانیت کا مطلب بتانے اور نیک اعمال کرنے کی راہ دیکھانے کے لئے انبیاء کرام رضوان اللہ اجمعین بھیجے تاکہ دنیا میں انسان اُس راہ کو اختیار کرے جِس کے اختتام پر انسان کو وہ انعامات مل سکیں جس کا اُس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اِن تعلیمات پر کچھ انسان تو عمل پیرا ہوتے ہیں اور کچھ راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ بھٹکے ہوئے لوگ اپنی زندگی میں وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جن کا اُن کو نہ تو کوئی خوف ہوتا ہے نہ ہی کوئی پچھتاوا۔
انسانی زندگی میں انسان کی جو ضروریات ہوتی ہیں اُن میں یوں تو بہت ساری  چیزیں شامل ہیں مگر جو خاص الخاص ہیں اُن میں خوراک، ہوا ، پانی اور جنس شامل ہے۔  جنس کیا ہے؟ اور اِس کی بھوک کیا ہوتی ہے؟ اور اِس بھوک کو مٹانے کے لئے کیا کیا جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب موجودہ دور میں ہر انسان کو بخوبی معلوم ہیں ۔  آج تو ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں انٹرنیٹ کی سہولت نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی اِس بھوک سے روشناس کرا دیا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ اِس بھوک کی خوراک کہاں اور کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اِس بھوک کی جو شدت پائی جاتی ہے اُس کے محرکات کیا ہیں؟ کیا دوسرے معاشروں، ملکوں میں بھی یہ بھوک اتنی ہی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے؟ یا پھر ہم بھٹک گئے ہیں؟ سوالات بہت ہیں جواب نہایت مختصر، ہمارے اِس ملک میں جہاں مہنگائی اور دوسرے مصائب نے انسان کا جینا حرام کر رکھا ہے وہاں جنسی استحصال کے مسائل میں بھی روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی خبر چھپتی ہے کہ آج فلاں جگہ فلاں شخص نے فلاں بچے کے ساتھ زیادتی کرکے  بعد میں گلا گھونٹ کر مار ڈالا!

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آخر وہ وجوہات کیا ہیں جس کی وجہ سے ایسا قبیح فعل کر گزرنے پر ایک انسان نما درندہ مجبور ہو جاتا ہے؟ کیا اِس جنسی بھوک کی خوراک ہمیں میسر نہیں یا پھر میسر ہو کر بھی ہم سے کوسوں دور ہے؟  وہ کون سے محرکات ہیں جو اِس طرح انسان کو درندہ بنانے میں کہ وہ اپنے سے چھوٹے فرشتہ نما جیتے جاگتے معصوم کلی کو روندکر آگے نکل جاتا ہے اور پیچھے اگر کچھ چھوڑتا ہے تو ایک مسخ شدہ یا گلا گھونٹ کر موت سے ہمکنار ہونے والی معصوم لاش!
انسان جب اپنی شخصیت میں چُھپی ہوئی درندگی کو عیاں کردیتا ہے تو بڑے بڑے خونخوار جانور اُس کے راستے سے ہٹ جانے کو ہی عافیت سمجھتے ہیں۔  ایسے درندے پھر نہ تو انسان میں کوئی فرق کر سکتے ہیں نہ ہی جانور میں۔  اِن درندوں کو اگر کچھ دیکھائی دیتا ہے تو وہ ہوتی ہے صرف اپنی ہوس زدہ غلیظ جنس کی بھوک جو اُس کو پاگل پن کے قریب کردیتا ہے۔ وہ نہ تو پھر بچے میں تمیز کرتا ہے نہ ہی کسی جانور میں۔  اپنے غلیظ وجود میں چھپے ہوئے  وحشی درندے کی جنسی بھوک کو مٹانے کے لئے اسے صرف خوراک چاہئے ہوتی ہے جو کسی بھی صورت میں ہو۔  بچے خاص طور پر اِن جیسے درندوں کے آسان شکار ہوتے ہیں کیونکہ  معصوم تخلیق اپنے دفاع میں وہ شدت نہیں رکھتے کہ خود کو اِن درندوں کے وار سے بچا سکیں۔  نتیجہ پھر یہ نکلتا ہے کہ ایک اور لاش مل جاتی ہے۔  کبھی کسی گندے نالے سے یا پھر کسی گنے کے کھیت سے۔ زیادہ تر ایسے درندے وہ لوگ ہوتے ہیں جِن کی پہنچ بچوں تک باآسانی ہوتی ہے۔ اِس زُمرے میں سب سے پہلے وہ  قریبی رشتے دار آتے ہیں جن کی رسائی آپ کے گھر کے آنگن تک ہوتی ہے اور بچہ اُس کے ساتھ تنہائی میں رہ کر کوئی خوف و تردد محسوس نہیں کرپاتا۔ یہی وہ زہریلے ناگ ہیں جو اپنے ہی آنگن میں جنم پانے والوں کو ہڑپ کرجاتے ہیں اور پھر کسی معصوم کی ماں کی چیخ و پکار عرش کر لرزا دیتی ہے۔

ایسے واقعات ہوتے کیوں ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہ ہی کبھی مل سکا ہے اور نہ ہی شاید اُس وقت تک مل سکے جب تک ہم اپنے معاشرے میں اِس قبیح فعل کی شدید ترین سزا مقرر نہ کریں، یا پھر ہم نکاح میں آسانیاں پیدا نہ کردیں۔  بہت سے لوگ یہ اختلاف کریں گے کہ اِس موضوع میں نکاح کی آسانی کے نکات کہاں سے آئے۔  جواب یہ ہے کہ یہ کام  جوہوا ہے وہ کوئی کھانے پینے کے لئے کسی نے نہیں مارا بلکہ جنسی زیادتی ہوئی ہے جو کہ صرف اُس وقت ہوتی ہے جب جنس کی بھوک اعصاب پر مسلط ہو جائے اور انسان اپنی انسانیت کو کھو کر درندہ بن جائے ۔
ہر والدین کی  اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ وہ اپنے بچے کو سمجھائیں۔  آج کل  جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں اِس میں اپنے بچے کو جنسی زیادتی کے ہونے اور اُس کی نشانیاں بتانے میں کسی کو بھی عار محسوس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جب معاشرہ جنسی بھوک میں مبتلا ہو تو پھر بھوکا درندہ یہ نہیں دیکھتا کہ آیا جس کلی سے وہ اپنی غلیظ بھوک مٹا رہا ہے وہ اپنا ہے یا پرایا۔ گزشتہ چند سالوں میں جس رفتار سے بچوں کی جنسی استحصالی ہمارے معاشرے میں بڑھ گئی ہے وہ ایک نہایت خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے جس کے لئے روک تھام کی اشد ضرورت ہے خواہ وہ حکومتی سطح پر ہو یا پھر گھریلو سطح پر۔
اِس خوفناک رُجحان کے بڑھنے کے جو بنیادی عوامل سامنے آرہے ہیں وہ کچھ واضح نہیں،  پھر بھی  ایک گہرا جائزہ لیا جائے تو بات یہی پر آکر ختم ہو جاتی ہے کہ جنسی بھوک کو آج کے دور میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے جس رفتار سے انسانوں میں پھیلایا ہے وہ اِس سے پہلے کبھی نظر نہیں آیا۔ ممکن حل یہ ہے کہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھی جائے اور اپنے گھروں میں آنے والوں کے ساتھ بچوں کو زیادہ گُھل ملنے کی اجازت نہ دی جائے، کیونکہ کسی کے چہرے پر نہیں لکھا ہوتا کہ
“وہ ایک جنسی درندہ ہے جو اپنے شکار کو ڈھونڈنے نکلا ہے”

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جنسی درندہ ۔۔۔ عبد اللہ خان چنگیزی

  1. مشت زنی کے بارے میں آگاہی ان مسائل کا حل ہے۔ ‏شادی شدہ حنفی علماء اسے بے کار اور مکروہ ضرور سمجھتے ہیں لیکن اہل حدیث علماء کے نزدیک یہ مباح ہے۔ مولانا مودودی نے فرمایا کہ محلے کی عورتوں کو بری نظر سے دیکھنے کے بجائے بہتر ہے کہ آدمی اپنا پانی نکال لے۔ قیامت کے عذاب اور ہاتھ حاملہ والی روایت جھوٹی ہے۔
    مشت زنی صحت کیلئے مفید اور کئی بیماریوں کا علاج ہے۔ مزید معلومات کیلئے اس مضمون کا مطالعہ کریں:-
    ‎https://www.mukaalma.com/79086/

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *