میری بیٹی۔۔۔۔۔۔راحیلہ خان

آرمینہ خطِ مستقیم پر چلنے والا بچہ ہے
جس کام پر لگا دو بس معصوم بچہ پوری دلجمعی اور انہماک سے اس کام کو کریگی۔
ورنہ خوب تنگ کریگی ۔مصروفیت نہ ہوگی تو میری زندگی عجیب عجیب فرمائشوں سے دوبھر کر دیگی۔
تھوڑا سا تعارف کروا دوں ۔یہ ایک سنجیدہ قسم کا بچہ تھی من موجی موڈی ۔۔مسکراہٹ کا جواب یا کسی کے بلاوے پر نظر کرم کرنا اس بچے کی خصلت نہیں رہی ایک برس کی تھی تب سے ہی ایسی ہیں ۔کسی بات سے روکنا یا منع کرنا جب محترمہ کو نہیں آتا تو  دانت سے  کاٹ لیتی ہے۔
تین برس کی تھیں تو ہم انہیں اسکول داخل کروانے کا سوچنے لگے ۔۔ سکول وزٹ کرنے جاتے تو وہاں سے واپس نہیں آتی کہ یہیں چھوڑ دیں اور آپ لوگ جائیں ۔
یہ مجھ سے انتہائی قریب رہی ہے اور میں اسی غم میں ہلکان تھی کہ یہ اسکول میں کیسے اتنا وقت گزار پائیں گی  لیکن خیالات کے عین برعکس ہوا۔
بچوں کو اسکول کےلئے جگانا ایک مسئلہ رہا ہے والدین کے لئے اور اسکول مونٹیسری لیول پر بھاں بھاں کرتے بچے ۔۔افففف۔۔ دیکھ کر میں سخت الجھن محسوس کرتی تھی .خ۔
لیکن میری بیٹی اسکول گئی  اور ایسی گئی  کہ بس ۔۔۔

ہفتہ اتوار  سکول بند ہوتا تھا اور یہ محترمہ یونیفارم پہن کر گھر میں گھومتی ۔۔یا خدا!
پہلے ہفتے کی چھٹی مجھے یاد ہے اتنی ضد کی کہ مجبوراً اسکول جاکر مین گیٹ کا تالہ دیکھ کر واپس گھر تشریف لائیں ۔۔
اگلے ہفتے انکو معلوم تھا لہذا تنگ نہیں کیا.خ۔شکر ہے جو بات سمجھ جائے دوبارہ دہرانے کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔
ہر طرح کے  گانے سنتی اور انکے ساتھ باقائدہ گا گا کر جھومتی ۔گھر پر اور کام ہی کیا تھا ۔۔ بور ہونے سے بہتر بھی ہے اور میرا دل بھی ایسا کرنے کا کرتا تھا ۔
ایک دو سال بعد انکو خیر سے انگلش سانگ پسند آگئے اور یہ مسئلہ حل ہو گیا ۔اب یہ باربی سانگ اور اسی طرح کے سانگ سنتی تھوڑا بھاگتی ۔ جھومتی اور لطف اندوز ہوتیں  اور ابھی تک انڈین سانگ نہیں سنتی اور نہ سننے دیتی ہے۔


پانچ چھ برس کی عمر میں مجھے دیکھ دیکھ کر نماز کا شوق ہوا ۔بس جب شوق ہوتا ہے تب سب کر گزرتی ہیں ۔کبھی اسکول سے چھٹی نہیں کی۔
چھٹیوں میں ٹرپ پر جانے سے پہلے باآواز بلند    بتاتی ہیں کہ فلاں تاریخ پر اسکول کھلے گا اور مجھے ہر حال میں واپس پہنچنا ہے اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو ٹرپ کینسل کردیجئے ۔
اب ہمیں چاہے حالات کیسے بھی ہوں واپس آنا ہی ہوگا ۔
اسکول سے واپس آکر بہت نرم و ملائم انداز میں مجھے آگاہ کرتیں ہیں کہ آدھی جماعت کے بچے نہیں آئے تھے لیکن شکر ہےمیں پہنچ گئی۔
وین جس وقت پرڈراپ کرنے آتی تھی کچھ دنوں بعد لیٹ ہونا شروع ہوگئی ۔وین ڈرائیور انتہائی شریف اور مہذب انسان تھا . میں نے جاکر پوچھا مسئلہ ہے کیا کوئی ؟ آپ آرمینہ کو لیٹ ڈراپ کرنا شروع ہوگئے ہیں۔۔
تو مسکین سا منہ بنا کر کہتے باجی آرمینہ نے کہا ہے مجھے سب سے آخر میں ڈراپ کجئیے میں سب بچوں کو انکے گھر جاتے دیکھنا چاہتی ہوں ۔یہ کہہ کر وہ مسکرایا اور میں نے آرمینہ کو گھورا ۔۔جو کہ شانِ بے نیازی سے بستہ کندھےپر ڈال کر گھر چلتی بنی۔
اسکول میں اگر یہ کہا جائے کہ اس ویک اینڈ بچوں نے اسکول دس منٹ کے لئے حاضری دینے آنا ہے تو آرمینہ صاحبہ اپنے مقررہ وقت پر تیار ملیں گی بھلے پہنچنا دس بجے ہو ۔
میں کہوں گی رہنے دو بیٹا کیا جانا تو کہتی ہے آپکو نہیں جگاؤں گی ۔آپ آرام کیجیے۔۔بات ختم ۔ نو بحث ۔۔۔ورنہ گھر میں طوفان بھی آسکتا ہے ۔
نماز پڑھنا شروع کی تو ایسی کہ  بس پوچھیے مت ۔۔ نانی کے گھر خالہ کے گھر بس جہاں جانا ہے وہاں نماز ۔
ہماری قانونی رشتے کی بہن کے میاں صاحب فیشن ڈیزائنر اور ماڈلنگ سے منسلک ہیں۔یہ ابھی نئے  شادی شدہ افراد میں شمار ہوتے ہیں ۔ شارٹس پہنتے ہیں ہینڈ فری کانوں میں پی کیپ اور جم جانے کی وجہ سے باڈی شاڈی بنی ہوئی ۔ شعبہ ماڈلنگ ہے تو جم بھی کرتے ہیں اور جب آتے ہیں ہماری طرف تو بچے بہت متاثر ہوتے ہیں ۔
آرمینہ کو پسند ہیں اس لئے ایک دن آکرکہنے لگیں مما مجھے شارٹس چاہیئے ۔۔
ہیں ؟ میں ہکا بکا ۔۔ اسکارف شلوار قمیض پہننے والی بچی اور ڈریسنگ ایسی پسند ؟
میں نے کہا ٹیلر فری ہو جائے تو ڈیزائین کروا کر بنوا دونگی ۔۔میں ایک اچھی ڈیزائنر بھی ہوں۔
کمرےمیں گئیں قینچی پکڑی اور جینز پکڑ کر شارٹس بنا لی۔۔
اور پہن لی ۔۔سونے پر سہاگا یہ کہ ساتھ لوگوں کی نظر میں جو واہیات ٹاپ ہوتی ہے میں نے پہنا دی ۔۔بہت ہی کیوٹ لگ رہی تھی۔انگلش سانگ لگا کر رقص کرنا شروع ہو گئی۔
میں نے فل چھٹی دے دی ۔۔جا ثمرن جی لے اپنی زندگی !!
تین دن بمشکل یہ سب حرکات کیں ہاں لیکن بابا کے آنے کے وقت پر فٹ سے چینج کر لیا ۔۔ ایسا اس نے خود کیا !
تین چار دن یہ تماشا چلتا رہا پھر نارمل ہوگئی۔
پینٹنگ شوق سے کرتیں ہیں اور سارا سارا دن پینٹنگ .۔
پھر ایک دن یوں ہوا کہ آرمینہ تھکی ہوئی تھی ۔۔اسکا بستہ اتنا بھاری ہے کہ جیسے گدھے پر بے تکلفی سے وزن رکھ کر اسکول والے بے فکر ہو جاتے ہیں انکی بھی کسی دن میں نے کلاس کرنی ہے ۔۔ خیر آجکل کے بچے کہاں ہماری طرح کے ہیں ۔۔بیٹھ کر نماز پڑھ رہی تھی ۔
امی نے فوراً دوران نماز ٹوکا۔۔ایک عالمہ والے انداز میں جس سے مجھے شدید چِڑ ہے ۔۔بھئ نماز پڑھنے کے بعد آرام سے سمجھائیں جو سمجھانا ہے ۔ نماز پڑھتے بندے کو کہنا یوں نہیں بیٹھو ۔ یوں نہ سجدہ کرو۔ بیٹھ کر نماز مت پڑھو ۔جلدی جلدی مت پڑھو  وغیرہ وغیرہ ۔۔
پھر معصوم نے مدد طلب نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔ میں نے کہا بیٹا اللہ تعالی تکلیف دینا پسند نہیں فرماتے۔


اتنا لوونگ ہے خدا کہ جب دل چاہے آپ اللہ کے لئے سجدہ کر دو۔۔ شکر ادا کردو۔
نماز کا مطلب خدا کی عبادت ہے کوئی نوکری یا زبردستی مسلط کیا ہوا کام نہیں ۔
جیسے آپ پرسکون محسوس کرو ویسے پڑھو ۔
اللہ فرماتا ہے۔۔
اور اللہ کو صبح شام یاد کرو اور رات کے پچھلے پہر  اور جب سورج طلوع ہو اور جب غروب ہو اور کھڑے ہو کر عبادت کرو اگر نہیں کر سکتے تو بیٹھ کر اللہ کو یاد کرو اور بیماری اور لاچاری میں اللہ کو لیٹ کر یاد کرو ۔۔۔اللہ مہربان رحم کرنے والا ہے ۔
جب اللہ نے خود ایسا کہہ دیا تو کسی اور کو فالو  مت کرنا ۔
امی نے سو تاویلیں بیان کیں۔۔وہ اِس وجہ سے لیٹ کر پڑھنی چاہیئے وہ اُس وجہ سے بیٹھ کر پڑھنی چاہیئے۔۔ مگر میں نے اپنی بیٹی کو ڈسٹریک نہیں کیا ۔میں نے کہا مما نے جو کہا آپ ویسا ہی کرو۔
پچھلے دِنوں اسکول سے واپس آکر کہتی ہے مما ایک بچہ ہے اسکول میں وہ کہتا ہے میں شعیہ ہوں اور یہاں لوگ شعیہ کو پتھر اور ڈنڈوں سے مار دیتے ہیں ۔یہ شعیہ کیا ہوتا ہے مما !
ابھی تک میں نے اسے کسی فرقے ورقے میں نہیں پڑنے دیا تھا اور چاہتی بھی نہیں تھی ۔اس لئے میں نے کہا بیٹا وہ بچے کی مما سے میں ملوں گی کسی روز کہ یہ بچہ شاید ابنارمل ہے ۔
شعیہ مسلمان ہی ہوتے ہیں ۔ بس وہ ایک اور ایریا سے آئے ہیں جیسے انڈیا سے پاکستان ہجرت کرکے آئے تھے  اور جیسے مما کی فیملی بھی شفٹ ہوئی تھی نا ۔ بالکل اسی طرح شعیہ بھی ہوتے ہیں اور آپکو دوبارہ اس بچے کو سمجھانا ہے کہ پاکستان ایک سکیور کنٹری ہے یہاں کوئی کسی کو نہیں مارتا سب لوونگ پیپل  ہیں ۔ اور آپ سب بچے ایک دوسرے کے دوست ہوپھر دوست احباب میں سے ایک دو کی مثال پیش کی کہ وہ جو آنٹی ہیں وہ بھی شعیہ ہے کیا انکو کسی نے ہٹ کیا؟ یا وہ فلاں بابا کے فرینڈ ۔۔کیا کبھی آپ نے سُنا ؟ تو کہتی ہے مما ہم کیا ہیں ؟
میں نے کہا اسکا جواب آپ خود ڈھونڈو گی ۔۔جب آپ قرآن پاک پڑھو گی ٹرانسلیشن کے ساتھ  اور فردر ایجوکیشن حاصل کروگی ۔۔ابھی آپ مسلمان ہو اور آپ کے لئے اتنا ہی کافی ہے !!

پھر ایک دن امی جان نے وضو کرتے ہوئے ٹوکا ۔۔آرمینہ ایسے وضو نہیں ہوتا اگر وضو نہیں ہوتا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔۔
یہ لو آرمینہ بس رو دینے والی تھی ۔ کہتی ہے مما میں نے تو لاسٹ ٹائم بھی ایسے ہی وضو کیا تھا کیا وہ نماز نہیں ہوئی۔۔
اب کی بار میں نے آرمینہ نہیں اپنی اماں کو پوچھا۔
امی ایک بات بتائیں وہ میرے بھائی کی بیٹی اس سے تین سال عمر میں بڑی ہے وہ نماز پڑھتی ہے؟
اچھا وہ فلاں بہن کے بچے پڑھتے ہیں جو شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔۔
امی نے کہا دفع کرو انکو ۔۔لعنت بھیجو ان پر پڑھیں چاہیں نہ پڑھیں۔۔جو پڑھ رہی ہے اسکو تو صحیح سکھاؤ نا!
میں نےکہا امی وہ بچے اسی وجہ سے نہیں پڑھتے کبھی کوئی منہ اُٹھا کر کہہ دیتا ہےنماز غلط پڑھی۔کبھی کوئی کہہ دیتا ہے وضو نہیں ہوا۔کبھی کوئی کہتا ہے لو فجر پڑھنے کا کیا فائدہ جب سارا دن اور نماز پڑھنی نہیں کوئی۔
یہ اس شخص اور اللہ کا معاملہ ہے ۔ وہ لیٹ کر بیٹھ کر جیسے اور جب چاہے عبادت کرے ۔عبادت کیسے کرنی ہے ہر شخص کی اپنی مرضی۔اپنی قبر میں اس نے خود حساب دینا ہے ۔جزا و سزا کا اکیلا خود حقدار ہے تو کسی کو کیا؟؟؟
امی نےکہا تمھارے ساتھ بحث میں جیت نہیں سکتی میں ان پڑھ عورت ۔۔ تمھاری طرح باتیں نہیں آتیں مجھے ۔ بس ختم کرو بات
اور پچھلے ماہ مجھےکہتی ہیں چلو عمرہ کرنے چلتے ہیں۔۔
میں نے کہا ابھی میرا دل نہیں ۔۔ تو کہتیں ہیں تم کافر تو نہیں ہوگئی۔۔۔میں نے کہا  وہ کیسے؟
کہتی ہیں اللہ کے گھر جانے کے لئے لوگ مر رہے ہوتے ہیں روتے ہیں فریاد کرتے ہیں ایسے منع کر دیا تم نے ۔۔
میں نے کہا امی جان اللہ تو ہمارے دلوں کے حال جانتا ہے اور میں تو اللہ تعالی مکمل رابطے میں ہوں ۔ مجھے تو اللہ کے گھر اس بھیڑ بھاڑ میں نہیں جانا ۔نہ واپس آنا ہے  اور نہ کسی کے لئےتسبیح جائے نماز لیکر آناہے ۔ مجھے تو جب جانا ہے تو کسی کو بتانا بھی نہیں !
دنیا کو بتا کر جانے کاکیا فائدہ!

وہاں لوگ معلوم نہیں جاتے کیسے ہیں اِترا اِترا کہ اور واپس آکرکیسے جھوٹ دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں کیسے دنیا کے معاملات دیکھتے ہونگے۔کیسے بڑے بڑے گھروں میں مہنگے اور قیمتی ساز و سامان کے ساتھ زندگی گزار لیتے ہیں ۔
لوگ وہاں دل کا کینہ حرص ہوس دنیا کی لالچ ختم ہونے  کی دعا کے لئے جاتے ہونگے ۔لوگ وہاں من کی مراد پوری کرنے جاتے ہونگے ۔لوگ وہاں دل کے سکون کے لئے جاتے ہونگے۔۔
جب یہ سب میسر ہو تو کون  کافر  کعبہ کے دیدار کو جائے!!
اور آج کل میری بیٹی آرمینہ پاکستانی موویز کے لئے بہت ایکسائٹیڈ ہے میں نے اسے صرف ڈونکی راجہ دیکھنے سے منع کیا تھا کیونکہ یہ جس وقت ریلیز کی گئی وہ وقت میں نہیں سمجھتی اس مووی کے لئے مناسب تھا۔
لیکن موجودہ موویز دیکھنے کے لئے بہت ایکسائٹمنٹ فیل کر رہی ہے   اور اسکول میں جاکر بھی سب بچوں کو مووی بارے بتایا  کہ اپ کمنگ موویز کون کون سی آ رہی ہیں !

میں نے کتاکشا اور عارفہ کے بارے میں بتایا اسکو  تو اس نے کہا عارفہ مووی کا سانگ مجھے بہت زیادہ پسند آیا ہے مما  اور ٹریلر میں جو واٹر ڈراپس گرتے ہیں وہ بہت اچھا لگ رہا ہے مووی دیکھنے ضرور جائینگے۔
اسکے بعد اسکے اندر کی پینٹر کو جوش آیا اور اس نے کتاکشا اور عارفہ پینٹ کر دیا ۔۔
بچوں کو نالج دیں روکے ٹوکیں مت ۔۔ اگر وہ بدتمیزی نہیں کرتے ۔۔ جاننا انکا حق ہے ہر موضوع پر ان سے بات چیت کجیے۔ اپنے بچوں پر صرف آپکا حق ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *