خواب سے تعبیر تک۔۔عامرعثمان عادل

چند روز قبل ایک 78 سالہ بزرگ کو شدید گرمی میں سڑک کنارے بیٹھ کر جوتے مرمت کرتے دیکھا حالات کا پوچھا تو رونا آیا کہ کن مجبوریوں نے اس عمر میں مشقت پہ مامور کر رکھا ہے
اپنے رب پہ توکل کرتے ہوئے فیس بک فرینڈز اور خاص طور پر سمندر پار پاکستانیوں سے 100 یورو یا 120 ڈالر ماہانہ کے عوض ان باباجی کی مستقل کفالت کا ذمہ اٹھانے کی اپیل کر ڈالی
بنگیال کے ایک نوجوان کا پہلا میسیج آیا کہ مجھے خدمت کا موقع دیجئے شکر ادا کیا
اگلی صبح ایک عرب ملک میں مقیم دوست کا میسیج آیا مجھے خدمت کا موقع دیجیے
مین بازار میں ایک اور بابا جی کا پتہ چلا عمر 85 برس حالات کے جبر نے اس عمر میں جوتے سینے پر مجبور کر رکھا
رب کا شکر ادا کیا کہ ان کی کفالت کے لئے بندہ بھیج دیا
اب میں نے مزید نظر دوڑائی تو دو بزرگ اور مل گئے
ایک کی عمر 76 برس دو بیٹے سپیشل( اللہ لوک ) کنبے کی کفالت کے لئے مجبور ہے کہ اس عمر میں مزدوری نہ کرے تو گھر میں فاقے ۔۔
ایک اور بزرگ ملے عمر ان کی 75 برس کہانی وہی باقی بابوں جیسی روزانہ سفر کر کے کوٹلہ آتے ہیں اور بمشکل دو وقت کے نوالے کا سامان لے کے گھر لوٹتے ہیں ۔
اب میں نے آسمانوں کے رب سے فریاد گزاری۔۔

ربا ان کا بھی کوئی  وسیلہ بنا دے۔
ایک دوست نے میری پوسٹ شیئر کر دی تو امریکہ سے اس کے کسی عزیز نے رابطہ کر کے ایک بابا جی کی کفالت کی  ذمہ داری  لے لی
اب رہ گئے چوتھے بابا جی تو اللہ نے ان کی بھی سن لی۔
ڈنمارک اور آسٹریلیا سے دو اللہ کے بندوں نے پیغام بھجوایا کہ ہم ان شاء اللہ ان کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔
ڈرتے ڈرتے ان بابوں سے مل کر عرض گذاری کہ ہم آپ کو ریٹائر کرنے جا رہے ہیں آپ کو ایک معقول رقم ہر ماہ گھر بیٹھے مل جایا کرے گی آپ نے بس آرام کرنا ہے اور اللہ اللہ۔
پہلے پہل تو ان کو یقین ہی نہ آئے کہ ایسا کیسے ممکن ہے بھلا
یہاں کوئی  وقتی امداد کر کے راضی نہیں تو مستقل بوجھ کون اٹھائے گا
خیر سارے انتظامات بحسن و خوبی مکمل ہوئے ان بزرگوں کے اکاونٹ کھلنے جا رہے ہیں ہر ماہ ان کے بیٹے براہ راست ان کے اکاونٹس میں زر کفالت بھجوا دیا کریں گے جس سے باعزت طریقے سے  ان کی روزی روٹی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
آج اس ضمن میں ایک پروقار تقریب دی ایجوکیٹرز سکول کوٹلہ میں منعقد ہوئی
گویا یہ اللہ کے دوستوں کی تقریب ریٹائرمنٹ تھی۔
پیارے بھائی  امریکہ میں مقیم نوید خالق جنہیں اللہ نے مخلوق کی خدمت کے لئے چن لیا ہے ان کی جانب سے ان چاروں بزرگوں کو دس دس ہزار روہے فی کس اور کپڑے تحفے میں دیئے گئے
آج کی تقریب کے دولہا یہ بابے تھے جو نصف صدی رزق حلال کی جدو جہد میں سڑکوں پہ بیٹھے رہے۔
سلام ہے ان اوورسیز پاکستانیوں کو جن کے دل میں انسانیت کا درد بیدار ہوا اور انہوں نے بیٹے بن کر ان بزرگوں کی کفالت کا ذمہ اٹھا لیا
میرے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں
آنکھوں میں اشکوں کی جھلمل قطاریں ہیں
میرا رب کس قدر مہربان ہے میرے گمان سے بڑھ کر
جہاں میری آس امید ختم ہونے لگتی ہے اس کی رحمت کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے
صد شکر یا رب العالمین