ریلوے سٹیشن۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

ٹرین کی سیٹی بیک وقت خوشی و مسرت اور اطمینان بخش بھی ہوتی ہے۔ تکلیف، سوگواری، اور رنج آوری کی کیفیت بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ آنے والوں کے لیے یہ صبح ن خوشی کا پیغام لاتی ہے۔ اور جانے والوں کے دل پر بجلی بن کر گرتی ہے۔

اسٹیشن پر ایک افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ آنے والوں کو لینے آنے والے ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیے آنکھوں میں مِلن کی امید لگائے ہوئے دل میں وصل کا چراغ جلائے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
جانے والوں کو چھوڑنے آنے والے دردناک آنکھوں میں سفید موتی سجائے، بھاری دل اور دل گیر اداسی کے ساتھ، ہجر کے جرم ماتھے پر لکھوائے اپنے پیاروں کو اس امید کے ساتھ رخصت کرتے ہیں کہ شاید ہی اب پھر وصال ہو سکے۔ شاید ہی ملن کی اب کوئی صورت نکلے گی۔
میں چاہتا ہوں میں اپنا مستقل ٹھکانا اسٹیشن کو ہی بنا لوں۔ تاکہ آنے والوں کا کشادہ دل کے ساتھ خیر مقدم کروں۔ انہیں بتاؤں ان کے آنے سے مجھے اس مادی دنیا میں کس قدر خوشی ملی ہے۔ اگر وہ نہ آتے تو میں ایسے ہی اُن کی راہ میں آنکھیں بچھائے رکھتا اور نہ جانے کتنا عرصہ ایسے ہی غمگین و ملول رہتا۔
جانے والوں کو غمزدہ آنکھوں، آزردہ طبیعت اور رنجیدہ دل کے ساتھ رخصت کرتا۔ میں چاہتا ہوں اُن کے جانے پر آہ و بکا کروں۔ اُن کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کروں، چاہے انہیں روکنے کے لیے مجھے اُن کے پاؤں ہی کیوں نہ پکڑنے پڑیں۔
انہیں سمجھاؤں اُن کے جانے سے میرے گلشن کا کاروبار رکا رہے گا۔ بہار کے روٹھ جانے سے میرے ناتواں کندھے خزاں کو آنے سے روک نہیں پائیں گے۔ انہیں کسی طرح سمجھاؤں کہ خزاں کا موسم تو درختوں کو ویران کر دیتا ہے، جنگلوں کو اجاڑ دیتا ہے، پرندوں کو در در بھٹکنے پر مجبور کر دیتا ہے، تو میں کیا ہوں! ایک حقیر سا ابنِ آدم۔۔!۔ میں اُن کے جانے کا ماتم بھی نہیں کرسکتا کیونکہ جن کے آنے کی رمک بھر بھی امید باقی ہو، اُن کے لوٹ آنے کی دعائیں کی جاتی ہیں نہ کہ  اُن کے بچھڑنے کا ماتم، کیونکہ اعزاداری تو کبھی نہ آنے والوں کے غم میں کی جاتی ہے۔

اے کاش میں جانے والوں کو سمجھاتا جو مل رہا ہے اسی پر قانع ہو جائیں، بہتر کی تلاش چھوڑ کر اپنے چاہنے والوں کو ہجر کا زخم مت لگاؤ۔ لیکن اب تو وہ نسل آ گئی ہے جو تھوڑے پر قانع ہی نہیں ہوتی شاید یہ لوگ نہیں جانتے کہ بہتر اور بہتر کی جستجو میں بہت کچھ کھوتے جا رہے ہیں۔ اب اور نہ جانے کتنی مدت بہارِ   کو آنے میں لگیں گے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *