زرتاج گل کی ڈائری سے ایک اقتباس ۔۔۔ معاذ بن محمود

خوش قسمت ہیں عوام جو ریاستِ مدینہ دوئم اور عمرِ ثانی کے دور میں جی رہے ہیں۔ میں نے ایک عالم سے سنا تھا کہ بارشیں زیادہ ہونے لگیں تو سمجھ جاؤ نیکو کار حکمران آچکا ہے۔ میرے قائد کی نیکیاں میں ویسے بھی بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ سیلاب کا خوف ہے۔ کل ہی بلیک بیری پہ اس موضوع پہ سیر حاصل بحث ہوئی۔ بحث کیا تھی التجا ہی سمجھیے کہ قائد محترم نیکیاں کم کیجیے مجھ میں رجوع المعروف یو ٹرن کا وہ حوصلہ و ہمت نہیں جو خداوند کریم نے آپ کو عطا فرمائی ہیں۔ کہنے لگے میں گناہ کو تیار ہوں پر دوسرا فریق راضی نہیں۔ ایسے میں نیکیاں ہی بچتی ہیں۔ کہا پھر کچھ تو بتائیں یہ بارشیں کیسے روکی جائیں۔ کہنے لگے ثقہ علم والی کا وظیفہ اختیار کرو۔ پوچھا وہ کیا ہے۔ کہنے لگے صبح بتاؤں گا ابھی اس دور کی ولی اللہ مؤکلوں سے روزانہ کی میٹنگ میں مصروف ہے۔ اگلی شام پیغام موصول ہوا کہ گوشت لے آؤ وظیفہ میں خود ادا کر لوں گا۔ تھوڑی دیر بعد میسج ڈیلیٹ ہوگیا۔ شاید موکل کے خوف سے۔ 

ریاست مدینہ میں انصاف کا دور دورہ ہے۔ انصاف انصاف ہوتا ہے۔ حقیقی ہو یا مجازی۔ میں جہاں جاتی ہوں لوگ انصاف کی بابت پوچھتے ہیں۔ میں کہتی ہوں میں آپ کے سامنے ہوں۔ مجھے انصاف سمجھیں۔ کئی ناہنجار طنزیہ مسکراہٹ بکھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جی تو کرتا ہے ایسوں کا منہ ادھیڑ دوں کہ انصاف مانگنے والوں کے ساتھ بہترین انصاف یہی بنتا ہے مگر پھر خیال آتا ہے کہ ایسا کیا تو یہ نجی چینل میرے ساتھ انصاف کرنا شروع ہوجائیں گے۔ ریاست میں انصاف کرنے والوں کی حکومت ہے۔ اور کیا انصاف چاہئے؟ کہتے ہیں ساہیوال واقعے پر انصاف دو۔ میں کہتی ہوں کچھ مقدمے انسان کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ ویسے بھی چھوٹا معاملہ ہے۔ فی الحال نواز شریف کے ساتھ ہونے والے انصاف پر اکتفا کیجئے۔ 

آج ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ سندھ کے ہندو باپ کی جانب سے ڈرامے کی جس کی بیٹیاں کریم کے اشتہار کو لے کر سنجیدہ ہوگئی ہیں۔ اس معاملے پر میرے قائد کا مؤقف نہایت ہی انصاف پسندانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ سندھ کا اندرونی معاملہ ہے۔ میرے لیڈر کو یقین ہے کہ والیانِ سندھ اس مدعے پر انصاف نہیں کر پائیں گے۔ ابھی تک لگتا ہے وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں کیونکہ سندھی عوام کے مطابق یہ لڑکیاں پنجاب میں ہیں۔ ویسے بھی یہ اسلام کے پھیلاؤ کا معاملہ ہے۔ قائد اسلام پھیلنے پر خوش ہیں۔ پھر بھی قائد نے وزیراعلی پنجاب سے بات کی۔ واٹس ایپ پر پوچھا ہاں لالے کیا سین ہے۔ کافی دیر تک میسج “سین” رہا جواب نہیں آیا۔ پھر مترجم نے جواب دیا آپ اپنا پیغام سیدھا مجھے بھیج دیا کریں، وزیراعلی ابھی واٹس ایپ پر میسج فارورڈ کرنا سیکھ رہے ہیں اور اپنا فون دکھاتے نہیں۔ کہتے ہیں موبائل اپنا اپنا۔ 

وزیراعلی پنجاب بھی خوب شخصیت ہیں۔ ایک بار موبائل دیا کہ زرتاج اس میں خلیفہ کی تصویریں ڈال دو۔ میں نے برج خلیفہ کی تصاویر ڈاؤنلوڈ کر دیں تو کہنے لگے اس میں بڑا ہونے کے سوا ایسا کیا ہے جو دنیا خلیفہ کی دیوانی ہے۔ تب مجھے سمجھ آئی، وزیراعلی صاحب کسی اور خلیفہ کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے معذرت کی تو کہنے لگے پھر اپنی تصویریں ہی بھیج دو۔ میں نے لعنت بھیج دی۔ مسکراتے ہوئے جوتوں کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔ 

خبیث ن لیگیوں کے واٹس ایپ گروپ سے ایک پیغام موصول ہوا کہ وزیراعظم کی سائیکل ٹھیک کرنے کے لیے چالیس کروڑ کے فنڈ کی منظوری دے دی گئی۔ پہلے سوچا جھوٹی خبر ہوگی۔ میرا لیڈر سادہ ضرور ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ واقعی سائیکل پر بنی گالا سے پارلیمان جائے۔ پھر سوچا فواد چوہدری نے تردید کی ہے، یعنی خبر تو سچی ہے۔ اپنے طور پر پتہ کروایا تو معلوم ہوا خبر سچی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ سائیکل کا برانڈ بوئینگ ہے۔ اطمینان ہوا کہ موری دار کپڑوں کے ساتھ کم از کم سائیکل تو بوئینگ ہی کی ہونی چاہئیے۔ 

پرسوں قائد محترم سے میٹرو کے موضوع پر بات ہورہی تھی۔ پوچھا اے قائد کچھ ابہام ہے، ادراک چاہئے، روشنی چاہئیے۔ قائد اٹھے اور کمرے کا بلب آن کر دیا۔ قائد بہت ہی نرم خو شخصیت ہیں۔ میں نے بتایا کہ نہیں یہ والی روشنی تو کافی ہے، کچھ کنفیوژن ہے حل کر دیں۔ بولے ہارون رشید والی تمہید نہ باندھو، پوائینٹ پر آؤ۔ میں نے کہا اے قائد آپ پر میں اور میرے چاہنے والے میرے والدین میرے ووٹر میرے مخالفین سبھی قربان، پوچھنا یہ تھا کہ آپ ہی فرماتے تھے قومیں میٹرو سے ترقی نہیں کرتیں۔ پھر پشاور میٹرو کیوں؟ قائد وجد کی کیفیت میں تھے۔ اپنی جگہ سے اٹھے اور بلب واپس بند کر دیا۔ قائد کے ایک جانب ڈبو اور دوسری جانب فواد چوہدری دو زانو بیٹھے تھے۔ مجھے فواد چوہدری سے خوف محسوس ہوا۔ قائد جہاں دیدہ گھاگ ہیں۔ بھانپ گئے۔ ڈبو کی جانب گھور کر بولے فواد اٹھو اور وہاں بیٹھ جاؤ بزدار کے ساتھ، جوتیوں کے پاس۔ فواد اٹھے اور اسد عمر کے پاس بیٹھ گئے۔ قائد بولے جوتیوں کے پاس کہا ہے۔ جیم سے جوتیاں۔ چ نہیں۔ فواد معذرت خواہانہ انداز میں اٹھے اور بزدار بھائی کے پاس بیٹھ گئے۔ واپس میری طرف مڑ کر پوچھنے لگے ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں تم؟ میں نے اپنا سوال دوہرایا۔ آپ کہتے تھے قومیں میٹرو سے ترقی نہیں کرتیں۔ پھر پشاور میٹرو کیوں؟ قائد مسکرائے۔ اسد عمر کی طرف دیکھا۔ پوچھے ہے کوئی جواب؟ اسد صاحب ٹھیک سے سن نہ پائے۔ سمجھے ڈالر کا ریٹ پوچھا سو بتا دیا۔ قائد واپس میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے۔ یہ حقیقت ہے کہ میٹرو سے قومیں ترقی نہیں پا سکتیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پشاور آج نیو یارک ہوتا۔ پشاور میٹرو یہی ثابت کرنے کے لیے بنایا جانا تھا۔ الحمد للّٰہ ثابت بھی ہو رہا ہے۔ پھر قائد میری جانب گھورتے کہنے لگے۔ زرتاج جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتیں۔

اس لمحے مجھے میرے نیکوکار حکمران کا ایک ایک لفظ موتی لگا۔ 

خوش قسمت ہیں عوام جو ریاستِ مدینہ دوئم اور عمرِ ثانی کے دور میں جی رہے ہیں۔ میں نے ایک عالم سے سنا تھا کہ بارشیں زیادہ ہونے لگیں تو سمجھ جاؤ نیکو کار حکمران آچکا ہے۔ میرے قائد کی نیکیاں میں ویسے بھی بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ سیلاب کا خوف ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”زرتاج گل کی ڈائری سے ایک اقتباس ۔۔۔ معاذ بن محمود

  1. زبردست تحریر ، کچھ فقرے پڑھ کر بے اختیار ہنسی نکل گئی ، خیر امید ہے اب عمران نیازی کے پجاریوں کی ادب کی نئی مقرر کردہ حدوں میں رہتے ہوئے گلہ شکوہ اور تعریفیں سننے کے لئے تیار ہوں گے

  2. افففففف۔ بہت خوب۔ اسے کہتے ہیں بھگو بھگو کے مارنا۔اور رونے بھی نہ دینا۔ہنسی مزاح ۔سنجیدگی اور طنز کا ملاپ کر کے عمران اور عمرانیوں کو اتنا ذلیل کردیا کے وہ اس اس تحریر سےنہ ہی انکار کر سکتے ہیں نہ اسک سچ کہ سکتے ہیں۔صرف گابی دے سکتے ہیں۔ جو انکا پیشہ ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *