• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا قصور بڑوں کا ہے، نوجوانوں کا یا قصور والوں کا ؟ ۔۔۔نذر محمد چوہان

کیا قصور بڑوں کا ہے، نوجوانوں کا یا قصور والوں کا ؟ ۔۔۔نذر محمد چوہان

کل پاکستان میں دندان ساز صدر نے ایوان صدر میں ایک رنگا رنگ تقریب میں ان پاکستانیوں کو ایوارڈ دیے جو اس دندان ساز کے نزدیک آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہوں گے ۔ ایک دفعہ میں نے ایک نیب کے ملزم پر  ذرا سخت رویہ رکھا تو میرے ڈی جی نے بلایا اور کہا کہ یہ شخص رو رہا تھا کہ اسے تو ستارہ امتیاز بھی ملا ہوا ہے پھر بھی ایک کریمینل کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا ہے ۔ میرا جواب تھا کہ  جناب یہ سوال آپ ستارہ دینے والوں سے پوچھیں ۔ جب مشرف کے وقت نیب میں فیصلہ ہوا کہ  ایک مہا کلاکار بیوریوکریٹ حسن وسیم افضل پر کاروائی کی جائے تو اس نے نہ صرف ایوارڈ کا عُذر پیش کیا بلکہ بخوشی نواز شریف اور زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشکش کی جو قبول ہو گئی  اور وہ نہ صرف بچ گیا بلکہ بہت اچھی پوسٹیں ملیں اور مزید چوکے چھکے لگائے ۔

مزے کی بات یہ کہ اس کو نواز شریف نے ستارہ امتیاز سے بے نظیر کے خلاف کاروئیوں پر نوازا تھا ۔ اسی وقت اس کے ایک اور ساتھی شریف النفس شاہد راجہ جو ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل لندن میں مقیم ہیں کو بھی ستارہ امتیاز کی آفر ہوئی  لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ “ہمیں تنخواہ اسی کام کی ملتی ہے “۔ حسن وسیم افضل مشرف کے دور کا کنگ بنا ٹکا کر پیسہ کمایا اور غنڈہ گردی کی ۔ ارشد خان جو آجکل ٹی وی کا چیئرمین ہے میرا بہت کلوز فیملی فرینڈ ہے اس بیچارے نے بھی کوئی  دو سال انتہا کے جتن کر کے مشرف سے ستارہ امتیاز لیا تھا ۔

کل ارشد شریف ایک مشہور نیوز اینکر کو بھی پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا جس نے زلفی بخاری کو ننگا کیا اور عمران کی حکومت آتے ہی سب سے پہلے عمران کی ٹیم پر کرپٹ اور نااہل ہونے کے وار بھی کیے ۔ غالباًًً  مہوش کی طرح ارشد کو بھی ہینڈ سم ہونے کے ناطے یہ ایوارڈ دیا گیا کیونکہ بہتر تھا ایوارڈ کی بجائے اس کی سنی جاتی ۔ عمران کی وہ ساری کی ساری ٹیم نا صرف وہیں ہے بلکہ دبا کے پیسہ بنانے میں اور بدمعاشی میں ۲۴/۷ مصروف ۔ ارشد شریف نے تو ایک معاملہ میں سپریم کورٹ کے سابقہ مداری چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی ناراض کیا تھا اور باقاعدہ بھری کورٹ میں ارشد شریف کو اپنے رویہ پر معافی مانگنی پڑی تھی ۔ کل اسی تقریب میں ایک ماڈل اداکارہ مہوش حیات کو بھی اس کے حُسن اور sex appeal پر ایوارڈ دیا گیا خیر وہ تو ایک اچھا قدم تھا پاکستانی لڑکیوں کو خوبصورت اور فٹ رہنے کی ترغیب ملے گی ۔ ساتھ کے ساتھ میرے دوست پاکستانی لیفٹیننٹ جنرل غفور جس نے مجھے تمغہ غداری سے نوازا ہوا ہے ان کو بھی ٹویٹر پر زبردست ٹرولنگ کی بنا پر ہلال امتیاز سے نوازا گیا جو وہ اب آنے والے دنوں میں مزید زور و شور سے حلال کریں گے ۔ کل ہی ایک غیر ملکی دوکاندار سربراہ جس کا پاکستان سے لینا نہ دینا جو نہ مسلمان نہ عیسائی ، جس کا دین ایمان مادیت ، جو کہتا ہے کوئی  بھی مسلمان ملک مذہب کی وجہ سے ترقی نہ کر سکا اس کو بھی پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشان پاکستان دیا گیا ۔ یہ سب لوگ پاکستانی نوجوان نسل کے icon ہوں گے ، قصور پھر کس کا نوجوان کا یا حکمرانوں کا ؟

سویڈن کا نوبل انعام دنیا کا اعلی ترین ایوارڈ سمجھا جاتا ہے جب ۱۹۶۴ میں ادب میں ژاں  پال ساترے کو دیا گیا تو اس نے یہ کہہ کر واپس کر دیا تھاکہ  وہ institution نہیں بن سکتا ۔ ساترے نے آنے والی نسلوں کے لیے icon بننے سے صاف انکار کیا ۔

مجھے اکثر نوجوان لو گ پیر ، مرشد ، گائیڈ اور استاد کہتے ہیں جو میں ہرگز نہیں ۔ میں ایک عام سادہ انسان ہوں ۔ میری نہ تقلید کی جائے اور نہ تعریف ، بلکہ جو کچھ میں مطالعہ ، مشاہدہ اور تجربات آپ کے ساتھ اپنے تبصروں کے ہمراہ شئیر کرتا ہوں بس اگر ممکن ہو تو وقت نکال کر ان پر غور کر لیں ۔ وہ بھی آپ کی مرضی میری طرف سے کسی قسم کی فرمائش یا پابندی نہیں ۔ مجھے کسی قسم کے عہدے ، ایوارڈ ، پیسہ یا رُتبہ کا لالچ نہیں ۔ فقیری میرے رب نے میری سرشت میں لکھ دی اور میں اس پر بہت خوش اور قائم ہوں ۔

کل میں ایک دوست کو کہہ رہا تھا کہ  میرا اب باقی زندگی شوق ہے کہ کسی امریکہ کی بہت بڑی آبزرویٹری کے کیفیٹیریا میں ملازمت کروں اور فارغ وقت میں دوربینوں سے ستارے دیکھتا رہوں ۔ میری منزل وہ کوسموس ہے جس کے ساتھ ہم جُڑے ہوئے ہیں ۔ وہ ستارے بھی زندگیاں رکھتے ہیں ، انسانوں کی زندگیاں دہائیوں میں ہوتی ہیں اور ان کی ہزاروں سالوں پر محیط ۔ کارل ساگن نے کہا تھا کہ
Blue stars are hot and young; yellow stars, conventional and middle-aged; red stars, often elderly and dying; and small white or black stars are in the final throes of death. The Milky Way contains some 400 billion stars of all sorts moving with a complex and orderly grace.
مجھے ان ستاروں کے ساتھ ایک اپنی دنیا بسانی ہے ۔ ہمیں کیا لینا دینا اس سیاست ، ایوارڈ ز اور مادیت سے ۔ مبارک ہو لیڈران کو ، جرنیلوں کو اور بابوں کو ۔ ان کو شوق ہے ۲۲ کروڑ لوگوں کا خون چُوسنے کا اور ۲۲ کروڑ عوام کو ان سے خون چُوسوانے کا ۔ یہ بُری ریت سقراط کی موت کے بعد ارسطو اور افلاطون ڈال گئے ۔ میرے جیسے فقیر ڈائجنیز نے انہیں بہت سمجھایا لیکن اس کی ایک نہ  مانی گئی ۔ اسکندر کو پوری دنیا پر چڑھا دیا اور غلامی slavery کو فروغ دیا ۔ ڈائجنیز اپنے روحانی علم سے غلاموں کو آزاد کرتا تھا ۔

مسلمان تو بہت خوش قسمت لوگ ہیں کہ  ان کو حضرت محمد ص کی صورت میں ایک ہیرا شخصیت  تقلید کے لیے ملی جس نے روحانیت اور دنیا داری دونوں کو ہی ایک جان کر دیا اور دوبارہ ایک دفعہ غلامی سے بنی نوع انسان کی جان چُھڑوائی ۔ ارسطو اور افلاطون تو کہتے تھے کے جسم اور مائینڈ دو الگ چیزیں ہیں ، لہٰذا  غلامی کا کوئی  فرق نہیں پڑتا

پاکستان کو بنے تین جنریشنز بیت گئیں  ہیں جو مائنڈ سیٹ پہلی جنریشن نے اس ملک کو دیا اس کو ہر آنے والی نسل نے بہت زبردست مزید گند اور توہم پرستی کا تڑکا لگا کر religiously فالو کیا ۔ اب یہ حال ہے کہ  بقول کارل ساگن؛
In third world educated class of children of the wealthy with a vested interest in status quo are against knowledge and experimentation ..
لگتا ہے اب پاکستانیوں کو نسل در نسل ان ایوارڈ والوں کے تلوے چاٹنے پڑیں گے ، یہی ان کے خدا ہوں گے ، یہی علمبردار اور یہی مسیحا ۔ پرسوں کیرالہ ہندوستان سے ایک مسلمان دوست لکھاری نے میرے بلاگ پر لکھا کہ  اب سوائے کسی ہٹلر کے برصغیر میں بہتری کا کوئی  چارہ نظر نہیں آتا ۔ درست فرمایا میرے عزیز دوست نے ، ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ۔ میرے لیے تو یہ سارا غم بقول حمایت علی شاعر ؛

صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے
کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو

سورج کے اجالے میں چراغاں نہیں ممکن
سورج کو بجھا دو کہ زمیں جشن منائے

قصور نہ بڑوں کا ہے نہ ہمارے نوجوانوں کا، قصور ہمارے شریر اور ہماری جینز کا ہے جس میں تابعداری ، غلامی ، ذلت، منافقت اور بے غیرتی کے علاوہ کچھ درج ہی نہیں ۔ فیض صاحب ٹھیک فرماتے تھے یہ معاملات اسی طرح چلیں گے لیکن ہم بد دل ہو کر ہتھیار پھینک کر بیٹھ جائیں ؟ نہیں ، مجھے ہے حکم اذان لا الہ اللہ ۔ اور علامہ اقبال کا اسی نظم کا شعر ؛
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہٰ الا اللہ
بہت خوش رہیں ۔ پاکستان پائندہ باد ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *