ایک بیٹی کے دل کی آواز۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

کریم ٹیکسی نے ایک اشتہار دیا۔ معاشرے میں فطری طور پر ایک ردِ عمل سامنے آیا۔ لوگوں کی اکثریت نے اس اشتہار کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ شدید الفاظ میں اس کی مذمت بھی کی۔ لیکن کیا کریں کہ ہمارے یہاں ایک اقلیت ایسی ہے جو بزعمِ خود “انسانی حقوق کی ٹھیکیدار“ ہے۔ ہر وہ معاملہ جو معاشرے کی اکثریت کو تشویش میں مبتلا کر دیتا ہے یہ اس پر طنز اور تضحیک کی بندوقیں تانے میدان میں اتر آتے ہیں۔ یہی اس اشتہاری مہم کے ردِعمل کے جواب میں بھی ہوا۔ جہاں لوگوں کی اکثریت نے اس اشتہار کو اخلاق باختہ اور ہماری مذہبی اور سماجی اقدار سے متصادم قرار دے کر مسترد کر دیا۔ وہیں اس اقلیتی طبقے نے، جس میں بد قسمتی سے ادب اور صحافت کے چند بڑے نام شامل ہیں، حسبِ معمول عورتوں کے ساتھ کیے گئے جبر کے معاملات کو بنیاد بناکر معاشرے کو عمومی سطح پر طنز و تشنیع کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس اقلیتی طبقے کے پاس ہر ایک گناہ کا ہمیشہ ایک ہی عذر ہوتا ہےاور جو ”عذرِ گناہ بدتر ازگناہ“ کی عملی تفسیر ہے۔ جب بھی معاشرتی سطح پر کسی بھی غلط سرگرمی پر احتجاجی مہم چلائی  جاتی ہے، یہ معاشرے میں موجود جرائم، غلط رسوم و رواج اور خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تو یہ، یہ اور یہ والی خرابی بھی ہے تو ہمیں اس طرح کے احتجاج کا حق نہیں پہنچتا۔ اور اتنی خرابیوں کے ساتھ ایک خرابی یہ بھی ہو گئی تو کیا فرق پڑے گا۔ کیا کبھی دو غلط چیزیں مل کر ایک صحیح چیز بنا سکتی ہیں۔۔۔؟؟ اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس logic کے کھیل میں بھی یہ لوگ منافقت کے اعلٰی ترین درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ انہیں مرحومہ قندیل بلوچ اور اس کے قبیل کی دوسری لڑکیوں کے اپنا جسم expose کر کے، ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر upload کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کہ ان کا جسم، ان کی مرضی۔۔۔ لیکن اگر چند ایک بے حیإ اور گھٹیا مرد کسی لڑکی کے inbox میں کوئی نازیبا تصاویر بھیجتے ہیں تو یہ چند گنے چنے بیہودہ مردوں کے فعل کا ذمہ دار ساری مردانہ کمیونٹی کو قرار دے کر چوک چوراہوں میں پلے کارڈ لے کے کھڑی ہو جاتے ہیں۔
میں ہر گز نہیں کہہ رہی کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی حق تلفی نہیں ہوتی۔ بالکل ہوتی ہے اور میں بذاتِ خود اس طرح کے رویّوں کی سب سے بڑی ناقد ہوں۔ لیکن خدا کیلئے عمومیت اور مبالغہ آمیزی کی تلوار نہ چلائی جائے جس سے کہ یہ تاثر ابھرے کہ پاکستان کی ساری کی ساری عورتیں مظلوم اور سارے کے سارے مرد ظالم، جلّاد اور سفاک ہیں۔ یا سارے والدین ایسے بدبخت کردار ہیں جو اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں جہنم میں دھکیل دیتے ہیں۔
آج ہم اپنے ارد گرد کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو وہ کونسا شعبہ ہے جہاں عورتیں مردوں کے ساتھ کام کرتی دکھائی  نہیں دیتیں۔ سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں دیکھ لیں تقریباً ہر جگہ لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ کیا یہ سب لڑکیاں والدین کی شفقت اور کاوشوں کے بغیر کسی بھی مقام پر پہنچ جاتی ہیں۔ وہ جو عورت مارچ میں ساری اقدار اور روایات کی دھجیاں بکھیر گئیں ان کے پیچھے بھی یقیناً ان کے باپ اور بھاِئی کھڑے ہوں گے۔ جو والدین بیٹی کی پیدائش سے لیکر اعلٰی تعلیم دلانے تک اپنا تن، من، دھن وار دیتے ہیں، ان کے بارے میں یہ تاثر کیوں عام کیا جا رہا ہے کہ وہ بیٹیوں کی شادی کرتے ہوئے غلط فیصلہ ہی کریں گے اور انہیں جانتے بوجھتے جہنم میں دھکیل دیں گے۔ بالکل بجا کہ معاشرے کا ایک حصہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو بیٹیوں کو شاید اہمیت نہیں دیتے یا ان کی حق تلفی کرتے ہیں یا بنا سوچے سمجھے ان کی زندگیوں کے فیصلے کر لیتے ہیں لیکن کسی ایک طبقے یا معاشرے کے مخصوص ذہنیت رکھنے والے لوگوں کی طرف سے کی گئی حق تلفی کو آپ پورے معاشرے پر منطبق کیسے کر سکتے ہیں۔؟
بالکل بجا کہ شادی کو ایک جوا کہا جاتا ہے، لیکن یہ جوا یا تو فریقین جیت سکتے ہیں یا مرد اور عورت دونوں میں سے کوئی بھی ہار سکتا ہے۔ میں نے اپنے بہت آس پاس مردوں کو یہ جوا بری طرح ہارتے دیکھا ہے۔ یہ تاثر دینا بالکل غلط ہے کہ شادی کے بعد صرف عورت ہی کو مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ غلط عورت سے پالا پڑ جائے تو مرد کی زندگی بھی اسی طرح جہنم بنتی ہے جس طرح غلط مرد سے تعلق قائم ہونے کی صورت میں عورت کی۔
جہاں ایسے والدین ہیں جو ”شرعی حق مہر“ کے نام بیٹیوں کا حق مہر نہ ہونے کے برابر طے کر دیتے ہیں تو وہاں ایسے والدین بھی کثیر تعداد میں ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بیٹیوں کے شایانِ شان اور اپنے داماد کی استطاعت کے مطابق بھاری حق مہر مقرر کرتے ہیں۔
میں اپنی مثال پیش کرتی ہوں۔مجھے میرے والدین نے اعلٰی تعلیم دلائی، شعور اور اعتماد عطا کیا اور میں نے بخوشی اپنے والدین کے منتخب کردہ لڑکے سے شادی کی۔ اور الحمدللّٰہ میں اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہوں الحمدللّٰہ۔ میری شادی کو 12 سال گزر گئے ہیں الحمدللّٰہ اور میرا حق مہر 5 تولے طلائی  زیور مقرر ہوا جو نکاح پہ مجھے پہنایا گیا اور شادی کے فوراً بعد میری تحویل میں دے دیا گیا۔ جسے بعد ازاں میں نے اور میرے شوہر نے باہمی رضامندی سے بیچ کر ایک پلاٹ لیا جس کی رجسٹری میرے نام بھی ہے اور میرے پاس موجود ہے۔ اورمیں نے اپنے ارد گرد کئی ایسی مثالیں دیکھی ہیں۔ مراد صرف یہ ہے کہ جہاں استحصال کرنے والے لوگ اس معاشرے کا حصہ ہیں تو عورت کو عزت، وقار، تحفظ اور ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے رشتوں میں بے پناہ محبت اور شفقت دینے والے لوگ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اور الحمدللّٰہ اس طرح کے لوگ اکثریت میں ہیں۔
کیا ہمارے معاشرے میں مرد کے خلاف جرم نہیں ہوتا؟؟ عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کا ہر وقت یوں مبالغے کی حد تک پرچار کرنا کہ مرد ذات ہی قابلِ نفرت لگنے لگے، کہاں کا انصاف ہے۔ آپ ضرور ان لڑکیوں کو بھاگنے پہ شاباش دیں جو واقعی ظلم و ستم کا شکار ہیں لیکن معاشرے کی ایک واضح اکثریت، جہاں عورت کو ہر روپ میں عزت، محبت، اورشفقت سے نوازا جاتا ہے، سے تعلق رکھنے والی بچیوں کے اذہان کو آلودہ نہ کریں اور کسی کیلئے گناہ کی
ترغیب کا باعث نہ بنیں۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *