متنازعہ موضوعات سے متعلق مکالمہ پالیسی پر ایک جائزہ

۲۰۱۶ میں انٹرنیٹ پر دائیں اور بائیں بازو کی نمائیندہ ویب سائیٹس اور ان کے جملہ منتظمین آزادی اظہار رائے سے کچھ زیادہ اپنے نظریات کا پرچار اہم سمجھتے تھے۔ پس ان پسندیدہ افکار سے ہٹ کر پیش کردہ مضامین کو رد کیا جانا ایک عام سی بات رہتی۔ کسی ایک نظریے کا پیروکار کسی ایک سائٹ سے ہمیشہ نالاں ہی رہتا۔ سائٹ کے لیے اس میں دو فائدے تھے۔ ایک یہ کہ اپنے افکار سے میل کھانے والوں کے لیے یہ قدرتی انتخاب بنتی اور یوں ایک سوچ کے حامل جوق در جوق اس سائٹ کو اپنی بات کہنے کے لیے منتخب کرتے۔ نظریات کے پرچار کے لیے یہ حکمت عملی بہترین ثابت ہوتی ہے۔ نام لیے بغیر میں اگر لبرل اور بنیاد پرست ویب سائٹس کی بات کروں تو آپ کے ذہن میں فوری طور پر ایک ایک مثال سامنے آجائے گی۔ 

یہ حقیقت ہم کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ حکمت عملی ہمیشہ ایک خاص طبقے کے لیے کارگر ثابت ہو سکتی ہے، پھر وہ اصحاب الیمین ہوں یا اصحاب الشمال۔ لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ مجموعی طور پر کوئی واضح سوچ نہیں رکھتا اور نہ ہی مستقبل میں ایک خاص سمت میں رواں ہونے کو تیار ہے۔ آپ کا تعلق چاہے جس بازو سے ہو، آپ اس حقیقت کو ناپسندیدہ قرار دے سکتے ہیں مگر تبدیل نہیں کر سکتے۔ ایسے میں ایک ہی فریق نظریے کی ترویج و تبلیغ کا نتیجہ ہماری رائے میں معاشرے کے لیے مجموعی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ہی سلسلے کی تبلیغ دوسرے فریق میں ضد کا عنصر پیدا کرتی ہے۔ معاملات کی ایک اور فقط ایک طرح کی منظر کشی آپ کے مخالفین کو بات سمجھنے کی نیت سے پڑھنے کی بجائے فطری ناقدانہ جائزے پر مجبور کرتی ہے۔ 

مکالمہ ایک اردو ویب سائٹ ہے جسے تخلیق کرتے ہوئے محترم انعام رانا کے سامنے مقاصد انتہائی واضح تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انعام بھائی کو دیگر ہم خیال ملتے رہے اور آج مکالمہ ٹیم آپ کے سامنے ہے۔ مکالمہ انتظامیہ کی خاص بات مختلف آرگنائزیشنل درجات میں ٹیم ممبران کا تنوع ہے۔ تاہم مکالمہ کی خوبصورتی وہ روح اور وہ جذبہ ہے جس کے تحت ہم کھلے دل سے انفرادی سطح پر مخالف نظریات کا پرچار اظہار آزادی رائے کے تحت ناصرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ مکالمہ پلیٹ فارم، جیسا کہ نام سے واضح ہے، ایک دعوت ہے جو صرف اپنی رائے کے اظہار کی بجائے دوسروں کی رائے پر سوچ بچار پر زور دیتا ہے۔ ہم صرف انفرادی مؤقف چلاتے ہوئے پیش کروانے کی بجائے مناسب طریقے سے ہر طرف کی بات پیش کرنے کے قائل ہیں۔ 

میں اس ضمن میں حالیہ عورت مارچ کی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ 

مکالمہ پر ہر دو جانب کو اپنی رائے پیش کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ آپ ابھی اور اسی وقت سائٹ کھول کر دیکھیں تو آپ کو عورت مارچ کے حق میں اور اس کے خلاف دونوں طرح کی مضامین قریب قریب ایک ہی تعداد میں دکھائی دیں گے۔ آپ کو مکالمہ فیس بک پیج یا گروپ میں دونوں طرح کے مضامین پر ہر طرح کا ردعمل دیکھنے کو ملے گا۔ 

ہماری ٹیم کسی ایک نظریے سے اپنے خوشگوار یا ناخوشگوار رشتے کی بجائے مضامین کے اسلوب اور دلائل کو پرکھتے ہوئے اسے اپنی ٹائم لائن پر شئیر بھی کرتے ہیں اور چونکہ ہمارے احباب (فرینڈز اور فالوورز) بھی متنوع اور ڈائنامک ہیں لہذا وہاں بھی ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آتا ہے۔ 

زیر قلم اس مضمون کی ضرورت تب پیش آئی جب مکالمہ کے چند قارئین نے عورت مارچ پر رائٹ ونگ کی جانب سے شائع شدہ مضامین پر اعتراض اٹھایا کہ یہ “غلط افکار” معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے خیالات کے حامل قارئین پر میں اس مضمون کے توسط سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مکالمہ حق اور باطل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار ہم قاری پر چھوڑتے ہیں اور اسے اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ کمنٹس میں اپنی جھنجھلاہٹ نکالنے کی بجائے ہمارے ایڈیٹرز کو اپنا جوابی مضمون بھیجیں تاکہ ہم اسے جواب یا جواب الجواب کے طور پر مکالمہ ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر شائع کر سکیں۔ میں مکالمہ کے قارئین کو اس حقیقت کی یاددہانی کروانا چاہتا ہوں کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین اختلافات کا وجود عین قدرتی ہے تاہم انہیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش سے انکار معاشرتی سطح پر ایک جرم کی طرح ہے۔ ہمیں کوئی رائے کتنی ہی لغو کیوں نہ محسوس ہو، جب تک وہ ایک طبقے کی رائے ہے، ہم اسے شائع کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ اہل مکالمہ کے لیے ایک مثبت بحث کا عندیہ ہے جو آگے جاکر ایک معتدل معاشرے کی ترویج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ جب تک ہم اختلاف کو مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کے سامنے پیش نہیں کریں گے، اتفاق و یگانگت کی جانب پیش رفت کیسے ممکن ہوگی؟ کئی رفقاء ہم سے رائٹ ونگ یا لیفٹ ونگ کے نظریات کے پرچار پر شکوہ کرتے ہیں۔ ہم ایسے تمام دوستوں سے اس مضمون کے توسط سے ایک بات پھر درخواست کرتے ہیں کہ مکالمہ انتظامیہ ہر نظریے کو تہذیب و تمدن اور قابل مطالعہ الفاظ کی حد کے اندر رہتے ہوئے شائع کرنے کی ضامن ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی اعتراض کو اپنی جوابی رائے شائع کروانے کی کھلی پیشکش کرتی ہے۔ 

امید ہے آپ سب  نظریات کے ہر قسم کے ٹکراؤ کو مکالمہ کرتے ہوئے حل کرنے میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ شکریہ۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”متنازعہ موضوعات سے متعلق مکالمہ پالیسی پر ایک جائزہ

  1. یہ بات سچ ھے کہ انسان اپنے نظریے کے آگے باقی تمام نظریات کو باطل سمجھتا ہے اور اصل میں یہی غرور اور تکبر ھے ہمیں اپنے نظریے پر قائم رہنے کا حق تو حاصل ہے مگر اسے کسی اور پر مسلط کرنے کا کسی طور حوق حاصل نہیں
    آپ کسی کے نظریہ سے اختلاف دلائل کی بنیاد پر تو کر سکتے ہیں مگر اس پر فتویٰ بازی نہیں کرسکتے
    شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *