گھٹیا افسانہ نمبر 22۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں ایسا بھی گنوار نہیں ہوں. لوگ میری اچھی خاصی عزت کرتے ہیں. میں نے بدن بولی پہ تحقیقی کام کیا ہوا ہے. مجھ سے چھپنے کی کوشش ناکام ہو گی. اباجی مجھ سے ایسا کیا چھپا سکتے ہیں. اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ کھڑے ہوئے جیبوں میں زور سے ہاتھ ٹھونسنا، زمین پر پیر پٹخنا، بازوؤں یا ہاتھوں کو بھینچنا اور کھولنا، ہونٹوں کو چبانا، بالوں کو بار بار چھونا، کھینچنا، سامنے پڑی پنسل سے آڑی ترچھی لکیریں کھینچنا یا فضول لفظ لکھتے جانا، یہ سب اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ بندہ ذہنی تناؤ یا دباؤ کا شکار ہے. اباجی تو دفتر میں ہمیشہ ہشاش بشاش روٹین گزارا کرتے تھے. مگر وہ کچھ چھپا رہے ہیں. میرا خیال ہے ابا کے دماغ پہ پھر وہی جویریہ آنٹی سوار ہیں. میں نے اباجی کو کھلے الفاظ میں بتا دینا ہے کہ بیمار ماں کے ہوتے ہوئے آپ آنٹی سے شادی نہیں کرو گے. یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ میری بات ٹال سکیں. وہ ایک ایجوکیٹڈ بندے ہیں. اماں ڈیڑھ سال سے کومہ میں ہیں اور اباجی ہیں کہ جویریہ آنٹی کے ساتھ دوسرے بزنس ٹور پہ دبئی جا رہے ہیں. اب بی ایم ڈبلیو منگوائی اپنے لیے. میں نے فارچونر کی درخواست کی تو کہتے ہیں جب تم لوگوں کو اپنے اپنے بزنس کر دئیے تو گاڑی بھی اپنے پیسوں سے خریدو. اب کہتے ہیں دبئی میں اپنا آفس جویریہ صاحبہ کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں بنانا ہے. وہ اباجی کو لفٹ نہیں کرواتی مگر ابا اُس کی تعریف کرتے کرتے تھکتے نہیں ہیں. اچھا جویریہ آنٹی اماں جی کے برابر کچھ بھی نہیں ہیں.

“سر جی تو پھر اصل مسئلہ کیا ہے”… میرا مودبانہ سوال سن کر پروفیسر نادر نے میری طرف دیکھا ہے. اُن کی کاٹ دار آنکھیں ریڑھ کی ہڈی میں محسوس ہوئی ہیں. اُن کا رعب کئی سالوں سے یونیورسٹی کے ماحول کا حصہ بن چکا ہے. نادر صاحب ایک عرصہ سے بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات پہ لیکچرز دے رہے ہیں. ایم فل کے تیسرے سمسٹر میں سی پیک کے حوالے سے بات چلتے چلتے بلوچستان آن پہنچی ہے. جرمنی، روس، برطانیہ، چین، بھارت، امریکہ اور عرب ممالک کے بلوچستان بارے کردار پہ تفصیلی لیکچرز سننے کو مل رہے ہیں. فوج کا کردار بھی زیر بحث آیا ہے. فوج کا پیشہ ورانہ کردار قابل تعریف ہے. وہاں غیرملکی ایجنسیوں کے کردار اور میڈیا وار کے پروپیگنڈہ کے باوجود فوج اپنے ایک ایک چپے کا دفاع کر رہی ہے. پروفیسر نادر کے لیکچر کے دوران چونکہ سوال کرنے اور اپنی بحث کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے اس لیے بلوچستان سے آئے ہوئے طلباء میں سے دو لڑکوں نے تو پروفیسر کو وقت ڈال دیا ہے. لیکن لڑکی ہے وہ بھی شاید بلوچستان سے ہے وہ کرتی تو کبھی کبھار بات ہے مگر ہوتی ایسی کوئی جاندار ہے کہ پروفیسر بھی ایک بار رکتا ضرور ہے. اُن لڑکوں کی بات میں وزن نہیں ہوتا. بس بلوچ قوم، بلوچ، قتل، فوج کی رٹ لگائے رہتے ہیں. نہ کوئی ثبوت نہ کوئی دلیل نہ کوئی ریفرینس نہ کوئی پکی ٹھکی رپورٹ، بس ریاست یہ کر رہی ہے ریاست وہ کر رہی ہے. بندہ پوچھے بھائی کون ریاست؟ کوئی نام؟ کوئی پہچان؟ ایک بندہ کہے کہ میری چوری ہوئی ہے، میں چور کو جانتا ہوں، وہ ایک ادارے نے چوری کی ہے. بھائی کونسے ادارے نے کی ہے؟ یا پورا دفتر کا ہیڈکوارٹر اینٹوں سمینٹ کے ملبے کے ساتھ آپ کی چوری کرنے آیا تھا؟ یا اُس ادارے کا کوئی بندہ جس کا کوئی نام کوئی شکل کوئی خاکہ کوئی وردی کوئی لباس کوئی نمبر یا بس فلاں ادارہ ہی آپ کا چور ہے؟ بس یہی کہانی ہے اور مظلوم بن کر یونیورسٹی میں اوپن کے ساتھ ساتھ الگ بلوچ کوٹہ مل رہا ہے. مگر پھر بھی ریاست کوئی بہت ہی ظالم ہے. مفت میں حکومت کی امداد سے یہاں ہوسٹلوں میں مظلوم غنڈے بنے پھرتے ہیں. مگر ریاست ان کی چور ہے. لیکن وہ لڑکی کچھ رٹے مار کر آتی ہے. ابھی کہہ رہی ہے کہ بی بی سی کوئٹہ سے ریاض سہیل کی تحریر شائع ہوئی ہے. جس میں کوئٹہ سے تھوڑے سے فاصلے پہ کسی قبرستان کا ذکر ہے جہاں ایدھی والوں نے 131 تشدد زدہ لاشیں جن شناخت نہیں ہوسکی ہے کو بطور امانت دفنایا ہے۔ “دیکھو تنزیلہ مجھے جب یہ رپورٹس سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں تو میں روہانسا ہو جاتا ہوں. میں مضبوط اعصاب کا بندہ ہوں. ایک تو یہ کہ میرے اپنے 131 بھائی پاکستانی بھائی بغیر شناخت کے قبروں میں تشدد زدہ اتار دئیے گئے. دوسرا درد یہ کہ الزام بھی میرے اوپر لگایا جاتا ہے. ہم جو مرکز کی وفاداری اور سسٹم کے تسلسل کی بات کرنے والے لوگ ہیں اُن کو طعنے دئیے جاتے ہیں کہ ہم کس ریاست کا ساتھ دے رہے ہیں جو بلوچوں کی قاتل ہے. میں ہر مرتبہ ہر موقع پہ ہر فورم پہ یہی کہتا آیا ہوں کہ ملزم کا ساتھ چھوڑنا ہمارے خاندان کا وطیرہ نہیں ہے. لیکن ہم مجرم کا ساتھ کسی بھی قیمت پہ نہیں دیتے. پچھلی کانفرنس پہ بھی یہی بات کہی تھی کہ ہماری فوج کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں، سوال یہی ہے کہ کہاں؟ کدھر؟ کیسے؟ کسی ایک بات کا جواب تو دیں. آج اگر فوج نہ ہوتی تو نجانے بلوچستان سمیت کئی علاقوں کے کئی ٹکڑے ہو چکے ہوتے. میں مانتا ہوں کہ رواں سال جنوری میں بھی پہاڑوں سے تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں. لیکن سوال وہیں کھڑا ہے کہ ایسے ظلم کے پیچھے کون ہے؟ اگر ہماری فوج ہے تو کیا فوج کے یہ کہا کہ ہم نے قتل کیے ہیں؟ اگر ایک فوج ہندوستان کے جہاز گرا کر دلیری سے تسلیم کر لیتی ہے کہ یہ جہاز ہم نے گرائے ہیں تو کیا ہماری فوج اتنی بھی دلیر نہیں کہ کسی معمولی دہشت گرد کو قتل کرکے تسلیم نہ کرے. کیا فوج نہیں بتایا کہ فلاں آپریشن میں فلاں موقع پہ فلاں فلاں دہشت گرد فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے. فوج میڈیا ساتھ لے جاتی ہے کہ آؤ دیکھو یہ مقتول کیسے کیسے پاکستانی کاز پہ حملہ آور ہوئے اور ہم نے ایسے ایسے اِن سے لڑتے ہوئے ایسے ایسے ان کو مارا ہے. فون نے تو آج تک اپنے کسی عمل کو نہیں چھپایا ہے. لیکن اِن کو قتل کسی دوسرے ملک نے کسی دوسرے ملک دشمن عنصر نے مارا ہے. ہو سکتا ہے یہ وہاں کے ڈرگ لارڈز یا دیگر گینگسٹرز کی آپسی لڑائیاں ہوں. ویسے بھی تو وہاں قبائل موجود ہیں. یہ سلسلہ پاکستان بننے سے پہلے بھی جاری ہے. کیا پاکستان بننے سے پہلے وہاں ایسے قبائلی قتل و غارت نہیں ہوتی تھی. یہیں میانوالی میں ایسے کئی قتل ہیں جن کے قاتل نہیں ملے. بس چونکہ بلوچستان پہ ساری دنیا کے سامراج کی نظریں ہیں، لہذا یہ جھوٹ بار بار سنوایا جاتا کہ فوج یہ کام کر رہی ہے تاکہ فوج کو بدنام کرکے پاکستان کو کمزور کیا جا سکے. اِس کے علاوہ تنزیلہ آپ خود بتاؤ کہ کون سا دوسرا ادارہ ہے پاکستان میں جن پہ اعتماد کیا جا سکے؟” پروفیسر کے تفصیلی لیکچرز میں کئی بار پن ڈراب سائیلنس دیکھا ہے مگر آج تو سب پہ سکتا طاری ہے. مگر تنزیلہ شاید کچھ کہنا چاہتی ہے تو پروفیسر نے ریسٹ واچ کر طرف دیکھا ہے اور پھر باہر برستی روٹین کی بارش کو دیکھا ہے.”اچھا بولو کیا بولنا ہے مگر مختصر اور اِس کو جواب بھی کل دوں گا، بولو شاباش”. پروفیسر کے اعصاب اور اُن کی شخصیت قابل تعریف ہے. “سر ہم بلوچستان کا لوگ بھی ٹیکس دیتے ہیں، ایک چائے کی پیالی سے لیکر سڑک تک ہر وہ ٹیکس دیتے ہیں جیسے یہاں دارالحکومت کے لوگ دیتے ہیں. سوال یہ ہے کہ ہمارے مقتولوں کا قاتل کون ہے پھر؟ اُس کو کون ڈھونڈے گا؟ کیا بلوچستان کے مقتولین کو انصاف دینا ریاست کی ذمہ داری نہیں ہے. ہمیں تو سیدھے سے سوال کا جواب دیں کہ ہم اپنے قاتل کہاں ڈھونڈیں؟”. تنزیلہ کے خاموش ہونے پہ پروفیسر نے گھڑی کو دیکھا ہے اور دو ٹوک انداز میں جواب دیکر دروازے سے نکل گئے ہیں کہ”اپنے قاتل اپنی کمیونٹی میں اپنے اردگرد ڈھونڈنے کی کوشش کی ہوتی تو آج ہماری ریاست ملزم نہ ہوتی”.

ہم کوئی تین بجے کمرے میں داخل ہوئے ہیں. کتاب کی تقریب رونمائی باقاعدہ شروع ہو چکی ہے. بچوں کے جنسی استحصال اور پیڈوفیلا بارے بھائی حسنین کی کتاب اشاعت کے بعد ادبی حلقوں میں زیرِبحث آ چکی ہے. حسنین بھائی سامنے کرسی پہ سر جھکائے ایسے بیٹھے ہیں جیسے یہ کتاب لکھ کر غلطی کی ہو. ناصر اعوان اپنا مقالہ پڑھ رہے ہیں. ہم لوگ بھی ناصر صاحب کو سننے آئے تھے مگر کار پنکچر ہو گئی تو ہم لیٹ پہنچے ہیں. شاید اب تقریر کا آخر چل رہا ہے. وہ کہہ رہے ہیں کہ “بچوں کا جنسی استحصال کسی مذہب، مسلک، نظریئے یا مخصوص علاقے سے متعلق نہیں ہے. مگر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ آج تک ایک دوسرے پر اُنکی مذہبی جگہوں پر بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے شدید الزام تراشی کرتے ہیں. اِسی طرح اسلامی مدارس میں بھی بچے بچیوں کے خلاف جنسی استحصال کے واقعات سننے کو ملتے ہیں. اور ایسی جگہوں پہ ہونے والے ایسے واقعات منظرِ عام پہ بھی آتے رہتے ہیں. کام کی جگہوں پہ بھی بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے. غربت کے ہاتھوں مجبور بچے ہوٹلوں، ورکشاپوں، فیکٹریوں، گھروں، بھٹہ جات پہ سخت کام کاج کرتے ہیں. ایسی جگہوں پہ بھی بچوں کا جنسی استحصال و استعمال کیا جاتا ہے. ایسے بچے مسلسل اِس اذیت سے گزرتے رہتے ہیں. گھروں میں کام کاج کرنے والی بچیوں کو مسلسل کئی سالوں تک مالکان کی جانب جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بچوں کے جنسی استعمال کو دنیا کے بہت سے ممالک میں کاروبار کے طور پہ بھی لیا جاتا ہے. سیاحتی لوگوں کو چائلڈ سیکس ٹورزم ویسے تو تمام دنیا میں میسر آتی ہے مگر اِس حوالے سے ایسے سماج زیادہ بدنام ہیں جہاں سیاحت کیلئے آنے والوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہوتی ہے. چائلڈ سیکس ٹورزم جیسا کاروبار کئی ہزار ملین ڈالرز کا حجم رکھتا ہے. مائیکل بی فیرل نے کرسچن سائنس مانیٹر میں اپریل 2004ء کو ایک رپورٹ شائع کروائی جس کے مطابق دنیا بھر کے دو کروڑ بچے سیاحت کے لیے آنے والے لوگوں کی جنسی تسکین کیلئے پیش کیے جاتے ہیں. 27 جولائی 2007ء کو اے بی سی نیوز نے برٹینی بیکن کی رپورٹ میں ایسے ہی اعداد و شمار بتائے تھے. اِسی رپورٹ کے مطابق ایسے بچوں کی اکثریت کی عمریں بارہ سال سے کم ہوتی ہیں”.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *