پاکستان کی موزہ چور فیمینسٹس (پارٹ ٹو)۔۔۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کہ  جب انسان کی قسمت میں ہی ذلالت لکھی ہو تو آدمی جنگی طیارے پر بیٹھ کر آتا ہے اور جھانپڑ، لاتیں کھانے کے بعد چائے پی کر اطمینان کے ساتھ اگلے روز واپس گھر چلا جاتا ہے ۔

کچھ ایسا ہی معاملہ راقم کے ساتھ بھی پیش آیا جب وومین ڈےکے پر مسرت موقع پر راقم نے کچھ پلے کارڈز سے متاثر ہو کر اپنے ہی انداز سے اپنے ویوز لوگوں کو سمجھا نے کے لیئے ایک مضمون لکھ ڈالا ۔

پاکستان کی موزہ چور فیمینسٹس۔۔۔۔علی اختر

ویسے تو پچھلے کالم میں بھی راقم پیشگی معذرت کر ہی چکا تھا لیکن میری والدہ سمجھایا کرتی ہیں کہ  “بیٹا معافی مانگنے سے کوئی  چھوٹا نہیں ہوتا ” تو ایک بار پھر عمومی طور پر راقم ہاتھ جوڑ کر دل سے معافی چاہتا ہے ۔

سب سے پہلے تو میں اعتراف کرتا ہوں کہ  میرا اسلوب نہایت ہی گھٹیا اور انسلٹنگ تھا جسکا علم مجھے ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی پتا ہے کہ  اس طرح کا اسلوب تہذیب کے خلاف ہوتا ہے ۔ میں ایک طویل عرصہ سے مکالمہ سے وابستہ ہوں اور دو باربہترین مضمون نگاری پر پرائز بھی جیت چکا ہوں ۔ تعلیم یافتہ بھی ہوں ۔ گھر سے سکھایا بھی گیا ہے کہ  خواتین کا احترام کیا ہوتا ہے اور اتنا عرصہ لکھنے کے بعد ویسے بھی سلیقہ آہی جاتا ہے کہ  معیاری تحریر کیا ہوتی ہے ۔

میں نے دانستہ اس مضمون میں یہ پھکڑ پن اپنایا اور اور مجھے توقع بھی تھی کہ  رسپانس کیسا آئے گا لیکن رسپانس میری توقع سے بھی بڑہ کر آیا ۔ ذرا انعام رانا بھائی  کی وال پر میرے مضمون پر آنے والے کمنٹس پڑھیں ۔ جس میں میرے کردار، تربیت، اخلاقیات کو تو نشانہ بنایا ہی گیا ۔ ساتھ ساتھ میری والدہ کو بھی نہ بخشا گیا۔ اور یہ کمنٹس ایک عورت کے لیئے عورتوں ہی کی جانب سے تھے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ  ان بیچاری کو تو پتا بھی نہیں کہ  میں لکھتا بھی ہوں یا کہاں کہاں ان کو رسوا کر رہا ہوں ۔

ہاں ایک خاتون کی جانب سے کمنٹ پر دلی افسوس ہوا جس نے کہا کہ  “اگر راقم کو انباکس میں ہیلو بولو تو یہ ڈک پکس بھیج دے گا” ۔ محترمہ اللہ آپکو ہدایت دے ۔ میں نے تمام تر “پھکڑ پن” کے باوجود اس پلے کارڈ کو ڈسکس بھی کرنا پسند نہیں کیا تھا کیونکہ میں پیغام تو دینا چاہتا تھا لیکن اس کو ڈسکس کرنے پر میرا قلم چلنے سے قاصر تھا ۔ چلیں یہ اچھا ہوا کہ   آپ نے  خود ہی  ذکر کر لیا ۔ یہاں مجھے ایک پرانی کہانی یاد آرہی ہے ۔ جس میں ایک آدمی اور عورت جنگل سے گزر رہے ہوتے ہیں تو عورت اپنے خدشے کا اظہار کرتی ہے کے” مجھے خطرہ ہے کہ  جنگل میں اکیلے تم مجھ سے دست درازی کروگے” ۔ وہ بیچارہ بوکھلا کر جواب دیتا ہے کہ ‘میرے ہاتھ میں تو بکری ہے میں یہ سب کیسے کر سکتا ہوں ۔ “تو جواب ملتا ہے کہ  “مجھے پتا ہے بکری تم درخت سے باندھ دوگے”

محترمہ میں آپکی بات کا آپکے انداز میں جواب دینے سے قاصر ہوں اور معذرت چاہتا ہوں ۔

آپ وال پر دیکھ سکتے ہیں کہ  میری جانب سے جوابات نہایت ٹھنڈے انداز سے دیئے گئے اور کسی سے بھی الجھنے کی کوشش نہیں کی گئی  ۔ ایک بد تمیز آدمی کی جانب سے یہ رویہ جبکہ اسے مسلسل تنقید کا نشانہ بھی  بنایا جارہا ہو شاید آپکو جدا لگے ۔ بہت سے لوگ اس بات کی توقع کر رہے تھے کہ  میں جواب میں اور بھی زیادہ پھکڑ پن کا مظاہرہ کرونگا اور پھر ایک طوفان بدتمیزی اسٹارٹ ہوگا لیکن میرا مقصد کچھ اور ہی تھا ۔

بے شک یہ مضمون نری بدتمیزی اور پھکڑ پن پر مشتمل تھا لیکن میں تھوڑا بہت پھکڑ پن اور بھی دکھانا چاہتا ہوں ۔ بس فرق یہ ہے کہ میرا پھکڑ پن ایک انسان کی جانب سے ایک مضمون پر ہوا اور جو میں دکھانا چاہتا ہوں وہ میدانوں میں مجمع کی صورت میں ہوا جسے میڈیا کوریج بھی ملی اور تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بھی بنیں ۔

“آوارہ آزاد بدچلن”
“بچہ دانی نہیں ، پریشانی نہیں “
“لو بیٹھ گئی صحیح سے (تصویر میں ایک عورت بے باکی سے بیٹھے ہوئے)
“کھانہ میں گرم کرتی ہوں بستر خود گرم کرو “
“تو بس ایک مرد ہے میرے سر کا تاج نہیں “
“طلاقِ یافتہ ،خوش”

درج بالا جملوں کو بغور پڑھیں اور بتائیں کہ  یہ سب کسی عورت کے شایان شان ہیں ؟ کیا  ہماری سوسائٹی میں درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کرنے کا یہ طریقہ ہونا چاہیئے ۔ جو عزت و احترام ہماری سوسائٹی میں عورت کو ماں، بہن ، بیٹی کی صورت میں حاصل ہے کیا وہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ  وہ سینیٹری پیڈ اٹھا کر مظاہرہ کرے ؟۔ عورت کی جو  توہین میں نے کی وومن ڈے پر اس سے بھی بڑی توہین و پھکڑ پن کا مظاہرہ خود عورتوں نے بھی کیا اور ظلم یہ کہ  اس سب کو سپورٹ کرنے والے بھی موجود ہیں ۔

آسان الفاظ میں جس طرح پچھلا گھٹیا اور سطحی مضمون عورت کے شایان شان نہیں تھا بالکل ایسے ہی وہ گھٹیا اور سطحی اور اخلاق سے گرے ہوئے پلے کارڈز بھی  آپکے شایان شان نہیں ۔

میرا پچھلا مضمون ڈاکٹر کی کڑوی گولی تھی جسکا مقصد تکلیف دینا نہیں بلکہ راحت پہنچانا ہوتا ہے۔ الفاظ (چھوٹی، موٹی، پمپل والی، سست رفتار چیز ) جو میں نے استعمال کیے ان پر ایک بار پھر دل سے معذرت آپ سب ویسی بالکل بھی نہیں ہیں بلکہ جن گوریوں سے تقابل کیا گیا وہ آپکے پیر کی دھول کے برابر بھی جذبہ خدمت، ایثار و قربانی سے آشنا نہیں ہیں ۔ آپکا اور انکا کیا مقابلہ ۔ سو مقابلہ بازی میں اپنے اقدار ، عزت و احترام کو خود اپنے ہاتھ سے قتل نہ کریں بلکہ بمبئ بریانی بنائیں اور فیملی کے ساتھ مل کر کھائیں ۔

البتہ “آخر میں اک بار پھر میں ان دوستوں سے معذرت خواہ ہوں جن کا دل میرے پچھلے مضمون سے دکھا۔ اور جو میرا دکھا وہ آپ کو معاف کہ مکالمہ کرنا ہے، مجادلہ نہیں”۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *