ریشم ۔۔۔۔طاہر حسین

گاؤں میں ہمارے گھر کے صحن میں ایک کنواں تھا جس پر سارا دن خوب چہل پہل رہتی۔ بیچ گاؤں واحد واٹر سورس یہی تھا جو ایک اچھی خاصی آبادی کی ضرورت پوری کرتا تھا۔ صبح تڑکے بوکا کھینچتے ہوئے “اللہ ھو، اللہ ھو” اور کنوئیں کی زنگ آلود پُلی سے “چوں، چوں” کی آوازیں میرا الارم کلاک تھیں۔ دن چڑھتے ہی آس پاس کی خواتین اور بچیاں کنویں سے پانی بھرنے اور میلے کپڑوں کے ڈھیر اٹھائے ہمارے گھر آجاتیں اور یہ چلت پھرت شام دیر تک رہتی۔

تمام چہرے میرے جانے پہچانے تو تھے ہی لیکن ان میں سے چند ایک کے ساتھ مجھے خاص انس تھا۔ ریشم بھی ان میں سے ایک تھی۔ عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھی لیکن میرے ساتھ اس کی بہت نبھتی تھی۔ اور نبھتی بھی کیوں ناں؟ ایک زندگی سے بھرپور لڑکی جو صرف ہنسنا اور ہنسانا جانتی تھی۔ وہ تقریباً روزانہ دن چڑھے آتی، کنوئیں سے پانی بھر کے ملحقہ غسل خانے سے نہاکر نکلتی، گیلے بالوں میں کنگھی کرتی، اپنی میک اپ کٹ جس میں تیز خوشبو دار کریم، سرسوں کے تیل کی ایک شیشی سے لیپا پوتی کے بعد دنداسے کے چند ٹکڑے لے کر پہلے سے ہی دمکتے ہوئے دانتوں کو اور چمکاتی اور ہار سنگھار کے دوران ہر کسی سے ہنسی مذاق۔ اس دوران میں اس کو بس سامنے بیٹھ کر دیکھا کرتا اور وہ مسکراتی رہتی۔

وقت گزرتا گیا، ہمارا خاندان گاؤں چھوڑ کر شہر میں آباد ہوگیا لیکن گاؤں کا حال احوال تو پہنچتا ہی رہتا تھا۔ ایک روز خبر آئی کہ ریشم کی منگنی ہمارے کسی دور پار کے رشتہ دار سے ہو گئی ہے۔ میں شائد پانچویں جماعت میں تھا جب ریشم کی شادی میں شرکت کیلئے گاؤں آیا تھا۔ شادی تو ویسے ہی تھی جیسی دیہاتوں میں ہوتی ہے لیکن ریشم بہت خوش تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ دلہن بن کر وہ روائتی طور طریقے سے رو کیوں نہیں رہی؟ ہر کسی سے وہی ہنسی مذاق جس پر بڑی بئیاں ناک بھوں چڑھا رہی ہیں کہ دیکھو کس قدر بے حیا لڑکی ہے۔

چند سال پہلے میرا گاؤں جانا ہوا تو ایک مفکوک الحال عورت ملی، بال بکھرے ہوئے، میلا اور بد بو دار لباس، پیروں میں پرانے ٹائر کو کاٹ کر بنی چپل، اور شائد اسے مجھے پہچاننے میں بھی دقت ہورہی تھی۔ جب اس نے بولنے کے لئے منہ کھولا تو وہ دمکتے ہوئے دانت غائب تھے اور ان کی جگہ سیاہ مسوڑے۔ یہ وہی ریشم تھی زندگی سے بھر پور اور روشن آنکھوں والی۔

معلوم ہوا کہ شوہر نامدار اس کی ہنسی سے نالاں رہتے تھے تو مار مار کر یہ حشر کر دیا ہے کہ اب اس کا ذہنی توازن بھی درست نہیں۔ کئی دفعہ تنگ آکر میکے واپس آئی لیکن بھائیوں اور بھابھیوں نے واپس چلتا کر دیا اور بالآخر ریشم نے بھی اسی جہنم سے سمجھوتہ کر لیا۔

لیکن یہ بھی ایک عام سی کہانی ہے جس کی مثالیں ملک کے ہر گلی محلے میں ملتی ہیں۔ کہانی میں ٹوسٹ یہ ہے کہ چند ماہ پہلے ریشم کو اس کے بڑے بیٹے نے اس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئی۔ وجہ یہ کہ اس کے ننگے پاؤں اور ننگے سر گلیوں میں پھرنے سے جوان بیٹے کی غیرت کو ٹھیس لگتی ہے۔ ریشم کو کوئی اندرونی چوٹ لگی تھی اور چند روز اسی بے ہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد وہ اس مایا جال سے مکت ہو گئی۔

اب وہ مفلوک الحال ریشم کسی کو بھی ہنستی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔ میرا یوم خواتین اسی کی گم شدہ مسکراہٹ کے نام ہے۔ اور ہاں، ہمارے صحن میں موجود وہ کنواں بھی کب کا خشک ہو چکا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *