اعتراف

اعتراف
ابنِ فاضل
اگلے روز انتہائی ناگزیروجوہات کی بنا پر بروز جمعہ سفر کرنا پڑا .دوران سفر نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے دور افتادہ قصبہ کی چھوٹی سی مسجد پر گاڑی روکی اور باوضو ہو کر مسجد کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گیا۔ خطیب صاحب نے غالباً بیان شروع ہی کیا تھا، کیونکہ مسجد میں ابھی صرف درجن بھر کے قریب نمازی تھے جو اندرونی حصہ میں ہی بےترتیب بیٹھے تھے۔نمازیوں کی غالب تعداد باریش بزرگوں کی تھی جن میں سے اکثر سفید دھوتی کرتا میں ملبوس تھے۔ صحن ِمسجد میں چند میلے کچیلے بچے بے مقصد گھوم رہے تھے ،مسجد کی دیواریں لال اینٹوں اور سیمنٹ ریت کی چنائی سے تعمیر کی گئی تھیں۔ اور خاصی پرانی ہونے کے باوجود پلستر سے محروم تھیں۔
لکڑی کے بالوں اور سرکنڈوں سے بنی چھت کے وسط میں تین پنکھے ایک قطار میں برابر فاصلے پر جھول رہے تھے-جن میں سے فقط درمیان والا پنکھامدھم رفتارسے چلتے ہوئے وہاں پر کثیرتعداد میں موجود مکھیوں کو فضا میں معلق رکھنے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے ایک سرسری سی نگاہ سارے منظر پر ڈالی اور دوسری صف کے ساتھ بنے اینٹوں کے ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ کیا۔خطیب صاحب پنجابی میں واعظ کر رہے تھے۔ انہوں نے بارہا سنی ہوئی حدیثِ مبارکہ سنانا شروع کی کہ جس کی مطابق تین دوست ایک غار میں پھنس گئے تھے اور غار کا منہ بھاری پتھر سے بند ہوگیا تھا ۔ جب ہر طرح کی کوشش کے باوجود وہ پتھر نہ ہٹا پائے تو انہوں نےاپنی اپنی نیکیاں اور احسانات یاد کرکےدعا شروع کر دی. اوربقول خطیب صاحب نیکیوں اور احسانات کے حوالے سے مانگی گئی دعا فوراً قبول ہو جاتی ہے۔ لہٰذا پتھر ہٹ گیا اور وہ آزاد ہوگئے۔ جانے ماحول کی اجنبیت کا کرشمہ تھا یا پنجابی زبان کا جادو میں نے وہیں بیٹھے، بیٹھے یہ نسخہ کیمیا آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے سوچا کہ بچپن سے لیکر جوانی اور جوانی سے لیکر اب تک کی ساری نیکیاں اور احسانات کی ایک لسٹ تیار کرتے ہیں اور اس لسٹ کا حوالہ دیکر اب تک کی ساری محرومیوں کی ڈیمانڈ لسٹ پیش کردیتے ہیں اور سمجھو کام ہو گیا۔
بس پھر کیا تھا،میں نے دونوں گھٹنے اوپری طرف کر کے چہرہ ان پہ ٹکا دیا اور آنکھیں موندھ کر لگا اپنا ماضی کھنگالنے! سارا لڑکپن ٹٹولا, دورِ نوجوانی کو چھلنی ماری, عہدِ شباب کے بخیے ادھیڑے, پیرانہ سالی کا جائزہ لیا۔ ادھیڑ عمری پر نگاہِ تنقید ڈالی. ہیں یہ کیا ؟ یہاں تو کچھ بھی نہیں۔ ایک بھی قابلِ ذکر نیکی, ایک بھی احسان ایسا نہیں کہ جسکا حوالہ دیا جا سکے ۔ ایک بھی نہیں. نہ کبھی بچپن میں عید پر اپنے کپڑے کسی غریب بچے کو دیکر پرانے کپڑوں سے عید کی۔نہ کبھی نوجوانی میں اپنا کھانا کسی بھوکے کو دیکر خود بھوکے رہے.نہ کبھی عہدِ شباب میں کوئی ہاتھ آیا شکار چھوڑا. نہ کبھی راہ چلتے کسی بڑھیا کی بھاری گٹھڑی اٹھا کر اسے منزلِ مقصود تک پہنچایا,نہ تو کبھی کسی غریب طالبعلم کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا خیال آیا اور نہ کسی بیمار کے علاج معالجے کے, نہ کبھی بیمار باپ کے سرہانے کھڑے ہو کر رات جاگتے گزاری،اور نہ ہی کبھی سگے بہن بھائیوں کی خوشی پر اپنی خوشی قربان کی.اور تو اور,ایسا بھی کھبی نہ ہوا تھا کہ دوستوں کے ساتھ بیٹھے تاش کھیلتے ہوئے ماں نے پکارا ہو, اور اس کی ایک پکار پر تاش کی بازی تج کر کے حاضرِ خدمت ہوئے ہوں کہ جی امی جان!
خزانہ تو بالکل خالی ہے. ایسا نہیں ہے کہ کچھ نگاہوں سے فرو ہو رہا تھا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ کچھ حافظہ سے چوک ہو رہی ہو, جب وہاں کچھ دھرا ہی نہیں تھا تو برآمدگی کیسی ؟بہت پچھتایا, بہت گھبرایا, قرطاسِ حیات کو دو چار با رالٹ پلٹ کر دیکھا ,نتیجہ وہی صفر! سارا سفرِ زیست بیکار ہی گیا تھا۔ مایوسی اور افسوس سی آنکھیں بھر آئیں. جی چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رؤوں. اسی اثنا میں ساتھ والے نمازی نے کندھے سے پکڑ کر ہلایا. سر اٹھا کے دیکھا تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ یکبارگی اٹھا اور اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گیا. امام صاحب نے صدا لگائی,
الحمد للہ رب اللعالمین. الرحمن الرحيم. اور ادھر ضبط کے بندھن پارہ پارہ ہوگئے۔ ایسا ساون برسا کہ روح تک جل تھل ہوگیا۔ کیفیت یہ تھی دربارِ ایزدی میں کھڑا ہوں اور رحمان سامنے عرش پہ جلوہ گر ہے. کب رکوع ہوا, کب سجدہ ہوا کب سلام پھرا کچھ خبر نہیں. امام صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے. میں نے بھی اٹھا دیے. اے رحیم وکریم اللہ,
اے رب العالمین, میرے پاس کچھ نہیں ہے حوالے کیلئے، سوائے ان دو رکعتوں کے اور سوائے تیری رحمت کے, تُو میری دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرما۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”اعتراف

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *