مکالمہ کی سالگرہ اور انعام رانا

لکھنے پڑھنے کا مجھے بچپن سے شوق رہا ہے، گاؤں میں کتابیں تو ملتی نہیں تھیں، باقی رہا اخبار وہ بھی گاؤں کی پہنچ سے دور تھا، اگر کوئی پرانا اخبار ایک دو دن بعد گاؤں آ بھی جاتا تو کم از کم گاؤں کے سارے بوڑھے اسے ایک مہینے تک کسی کو ہاتھ لگانے نہیں دیتے تھے.میرا مشغلہ یہ تھا کہ گاؤں کی گلیوں میں اڑتے ہوئے اخباری ٹکڑے جس میں گاؤں والے شہر سے مرچ مصالحہ پیک کرواکر لاتے تھے انھیں جمع کرکے خوب پڑھتا تھا.گزرتے وقت کے ساتھ مجھے شہر کے مدرسے  میں آنا پڑا، اور پھر وہاں سے کراچی، اب تو اخبارات اور کتابوں کی عیاشیاں تھیں، صبح و شام اخبارات اور کتابیں خوب پڑھتا . جب فیس بک پر آمد ہوئی تو ایک سال تک تصویروں پر ہی لائک کرتا رہا، لیکن بعد میں سمجھ   آیا کہ فیس بک کا یہ طریقہ استعمال کسی کام کا نہیں ـ.

فیس بک پر باقاعدہ کچھ لوگ لکھنے اور پڑھنے سے منسلک تھے، اور لکھنے والے اپنی بات کو سوشل میڈیا کے ذریعے آگے پہنچا رہے تھے،مجھے بھی لکھنے کا شوق ہوا، میں جامعہ الرشید کراچی سے باقاعدہ تحریر کا فن سیکھنے لگا، کورس میں شرکت کے فوراً  بعد میرے دو تین مضامین دلیل ویب سائٹ پر شائع ہوگئے، دلیل اس وقت نئی نئی لانچ ہوئی تھی، وہاں خوب رش تھا، ایک تحریر کو مہینہ لگ جاتا تھا.سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ لندن کے کوئی وکیل بابو ہیں، جنھیں ایک خواب آیا ہے کہ وہ مکالمہ کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کر رہے ہیں، جس میں تمام مکاتب فکر، اور مختلف نظریوں کے لوگوں  کو ویلکم کیا جائے گا، اور سب کے ساتھ مکالمہ ہوگا، معاملات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے گا۔

tripako tours pakistan

سوشل میڈیا کے ذریعے مکالمہ سے یہ میرا پہلا تعارف تھا، مجھے  بھی خواہش ہوئی کہ میں مکالمہ پر اپنی تحریریں بھیجوں، تحریر بھیجنے کا طریقہ کار معلوم نہیں تھا، محترم عامر کاکازئی سے تذکرہ کیا تو انہوں نے جھٹ سے اکاؤنٹ بنا کر پاسورڈ بھیج دیا، میری ابتدائی تحریریں  بالکل ناقص تھیں، لیکن مکالمہ کی ٹیم نے مجھے کبھی بھی مایوس نہیں کیا، تحریروں کی نوک پلک سنوار کر وہ اصلاح بھی کرتے اور حوصلہ افزائی بھی خوب کرتے.

مکالمہ کے ساتھ میرا یہ سفر تقریباً  نو ماہ پر محیط ہے ، اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور ان شاءاللہ ہمیشہ رہے گا، لیکن گذشتہ تین مہینوں میں مصروفیات کی وجہ سے  میری صرف تین یا چار تحریریں مکالمہ پر لگی ہوں گی، اس سے قبل تو مکالمہ ٹیم تنگ آگئی تھی، ایک ہفتے میں تین تین تحریریں بھیج دیتا تھا، وہ سب لگ جاتی تھیں، مکالمہ نے میری کسی تحریر کوکبھی رد نہیں کیا، اور بروقت شائع کیا، بسا اوقات کچھ تحریریں ایک آدھ گھنٹے میں بھی لگ جاتی تھیں،تقریبا پچاس سے ساٹھ تک میری تحریریں ویب کی زینت بنی تھیں.

اس وابستگی نے میرے اندر حوصلہ پیدا کردیا کہ میں بھی کچھ لکھ سکتا ہوں، رانا چونکہ فارغ تھا، بال بچوں کی فکر سے آزاد ، اس نے سوچا کیوں نہ لوگوں کو تنگ کیا جائے، چنانچہ لاہور میں مکالمہ کانفرنس منعقد ہوئی، لاہور میں کامیاب کانفرنس کے انعقاد کے بعد وکیل بابو نے کراچی کا رخ کیا، وہاں بھی مکالمہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا.کراچی کی مکالمہ کانفرنس نے مجھے جو عزت اور سوچ دی اس کا شکریہ لفظوں میں کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا.مکالمہ نے میری زندگی میں جو تبدیلی لائی ہے وہ میری تحریروں  سے  چھلکتی ہے، اس تبدیلی کا میں ہمیشہ ممنون رہوں گا.

میں بطور عام قاری اور رائٹر مکالمہ کی ایک سالہ کارگردگی سے دلی طور پر خوش ہوں، نئی جنم لینے والی ویب سائٹس میں سے مکالمہ نے جس طرح اپنی جگہ اور پہچان بنائی، آج بھی وہ بڑی آب وتاب کے ساتھ جاری ہے، مکالمہ ویب کا سر فخر سے بلند ہے.مکالمہ کی ٹیم جس طرح تگ ودو کرتی ہے، اور جتنا وقت ٹیم کے ممبر ہمیں اور نئے لکھنے والوں کو دیتے ہیں شاید ہی کسی ویب سائٹ والے دیتے ہوں.مکالمہ پر جس قدر نئے لکھاریوں کی آمد ہوئی اور ہورہی ہے یہ بھی مکالمہ کے مستقبل کی کامیابی کی نوید ہے، آگے چل  کر وہ جب بھی اور جہاں  بھی اپنے لکھنے کے آغاز کا تذکرہ کریں گے وہاں وہ مکالمہ کا لازمی شکریہ ادا کریں گے.

مکالمہ کی محنت اور کاوش کو پاکستان میں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا جائے گا.مکالمہ کو میرا یہ پیغام ہے جس طرح انہوں نے پہلے دن سے کوشش کی اسی طرح مکالمہ کو آگے ترقی دینے کی ہمیشہ کوشش کریں.کیوں مکالمہ اخلاق کا نام ہے، اعتماد اور سنجیدگی کانام ہے، اختلاف رائےکو برداشت کرنے کا نام ہے، مکالمہ محبتوں کا بیج ہے، اور نفرتوں کے خاتمے کا نام ہے.مکالمہ کی سالگرہ کے دن ہمیں اور لکھاری کو یہ چاہیے کہ ہم اپنے چاہنے والوں کو مکالمہ کا پیغام دیں، اور اگر ممکن ہو تو ہر شہر میں ساتھی حسب توفیق مکالمہ کانفرنس کا انعقاد کریں، اور سالگرہ  کا دن یادگار بنائیں .مکالمہ انعام رانا کا خواب تھا، خوب پورا ہوا، اب رانا کا خواب شادی ہے خدا کرے وہ بھی جلد  ہوجائے، تو رانا کے خوابوں کا سلسلہ منقطع ہوسکتا ہے ورنہ وہ لندن سے بیٹھ کر ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دے گا.

انعام رانا، مکالمہ کی پوری ٹیم، قارئین، اور تمام لکھنے والوں کو میری طرف سے مکالمہ کی پہلی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو!

Avatar
نعیم الدین
عالم ،مفتی ،سندھ یونیورسٹی سے مسلم ہسٹری سے ایم اے کر رہا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *