رشوت خوری سے بچاو ممکن ہے۔۔۔۔محمدابرار

آج  ایک سرکاری دفتر میں کسی کام سے جانا ہوا۔ ۔ صاحب کو اپنا کام بتایا تو انہوں نے کچھ وقت انتظار کرنے کو کہا، میں ایک بینچ پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا، اتنی دیر میں ایک سفید ریش بزرگ تشریف لائے تقریباً ساٹھ سال عمر ہو گی انھوں نے متعلقہ افسر کو اپنا مسئلہ بتایا، افسر نے سکون سے ان کی بات سنی اور ان کو بتایا کہ آپ فلاں فلاں کاغذات لے کر اٹک ہیڈکوارٹر آفس چلے جائیں آپ کا مسئلہ وہاں  باآسانی حل ہو جائے گا، آپ کا یہ مسئلہ ہمارا آفس حل کرنے کا مجاز نہیں ہے، یعنی ہمارے آفس کے پاس اتنے اختیارات نہیں ہیں کہ آپ کا مسئلہ حل کر سکے۔ ۔۔ ۔

بزرگ نے کچھ دیر  سوچا پھر گویا ہوئے، بیٹا ناراض نہ  ہونا ایک بات بولوں اگر کچھ روپے پیسے سے یہ مسئلہ یہیں پر حل ہو سکتا ہے تو وہ میں دینے کو تیار ہوں آپ لوگ یہیں سے میرا مسئلہ سیٹل کر دیں۔  دفتر میں موجود عملے کے تینوں آدمیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر میری طرف دیکھا (میں نے خود کو جان بوجھ کر موبائل میں مصروف کر لیا) انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ فیصلہ کیا پھر ان میں ایک بولا۔۔۔۔۔
دیکھ چاچا ہم آپ کو سیدھا اور آسان راستہ بتا رہے ہیں کہ اٹک جا کر اپنا کام کروا لو آپ کا نہ تو کوئی پیسہ خرچ ہو گا اور نہ بار بار دفتروں کے چکر لگانے پڑیں گے،ادھر والے دفتر میں بھی آپ کا اتنا ہی ٹائم لگے گا جتنا یہاں لگ چکا ہے اور آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔۔ ہم نے آپ کو تکلیف سے بچانا چاہا اور آپ ہمیں حرام کھلانا چاہتے ہیں۔۔ سارا دن ہمارا ایمان آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے خطرے میں پڑا رہتا ہے، آپ لوگ تھوڑی سی تکلیف سے بچنے کے لیے ہمیں رشوت کی پیشکش کرتے ہیں تو ہمارا بھی دل ڈگمگا جاتا ہے ہمیں وہ جوتے کپڑے یا سامان یاد آ جاتا ہے جو ہم نے گھر واپسی پر اپنے بچوں کے لیے لینا ہوتا ہے لیکن بوجہ کم تنخواہ نہیں لے پاتے۔ ۔ ۔ جاؤ چاچا جی کل اٹک جا کر اپنا مسئلہ حل کروا لینا بغیر رشوت دیے۔  ۔

چاچا جی صاحب کی یہ باتیں سن کر شرمندہ سے ہو گئے اور اچھا جی بڑی مہربانی بول کر چلے گئے۔۔۔۔
وہ چلا گئے تو صاحب کی آنکھیں مجھ سے ملیں، میری آنکھوں میں اپنے لیے ستائش اور شاباشی دیکھ کر صاحب مجھ سے کہنے لگا یار ہم بھی ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں، ہمیں بھی حلال روزی اچھی لگتی ہے، ہم سرکاری افسروں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں، لیکن جب لوگ اپنا ناجائز کام کروانےکے لیے ہمیں  رشوت کی پیشکش کرتے ہیں تو ہم میں سے اکثر کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے، ہم ابھی لوں یا نہ  لوں کی کشمکش میں ہی ہوتے ہیں کہ سامنے والا اپنی پیشکش میں اضافہ کر دیتا ہے۔۔
“صاحب جی دو سو کی بجائے چار سو لے لینا لیکن ہمارا کام ذرا جلدی کروا دو”

جب پیشکش ایک دم سے ڈبل ہو جاتی ہے ہم سرکاری افسروں میں سے اکثر کا ایمانداری کا بھرم تراخ سے ٹوٹ جاتا ہے، اور اس بھرم کے ٹوٹنے کی آواز اتنی لمبی ہوتی ہے کہ پھر ریٹائرمنٹ تک آتی ہی رہتی ہے۔

صاحب اپنی بات ختم کر کے کام میں مصروف ہو گیا اور میں سوچنے لگا، کاش ہم لوگ جلدی کام کروانے کی بجائے لائن میں لگ کر اپنی باری پر کام کروانے کے عادی ہو جائیں، کاش ہم شارٹ کٹ کی بجائے سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرنے لگیں، کاش ہم ناجائز کام کروانے کی بجائے جائز کام کروانے کو ترجیح دینے لگیں ۔ رشوت وہیں لے جاتی ہے جہاں دینے والے موجود ہوں. رشوت لینے والا جتنا قصور وار ہے رشوت دینے والا بھی اسی کا ساجھے دار ہے اسی لیے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے دونوں کے لیے جہنم کی وعید ہے۔ ۔ ۔
اللّہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ۔ آمین!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *