مائے نی میں کِنوں آکھاں /قسط 2

جب تک میں اپنے گرد چند اور کرداروں کا آپ سے تعارف نہیں کرواؤں گا آپ کو میری آپ بیتی سمجھنے میں مشکل ہی رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔سمجھ تو خیر میں آج تک خود بھی نہیں پایا تو آپ کیا سمجھیں گے ۔۔۔۔۔۔ لیکن انسانی نفسیات پر کام کرنے والے طلباء کے لیے میری آپ بیتی بہت سے اسباق اور مضوعات لیے ہوئے ہے۔یونہی عاملین و ساحرین کے لیے بھی چند کردار دلچسپی کے حامل ہیں ۔۔۔ اور شاید تصوف پر یقین رکھنے والے لوگ بھی اسے ایک نئے زاویے سے دیکھیں ، میں خود ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا، خیر بات ہو رہی تھی میرے گرد چند اور کرداروں کا یا پہلے سے موجود کرداروں کے مزید تعارف کی ۔۔۔۔۔۔ میں اپنے نانا کا تعارف تو کروا چکا ہوں لیکن یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ نانا کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تو فوت ہو چکے تھے، نانا ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور پاکستان میں کلیم کر کے انہوں نے کراچی میں ایک گھر حاصل کر لیا تھا۔۔۔

نانا کے انتقال کے بعد اس گھر کی وارث میری امی  اور میری دو خالہ تھیں جو عمر میں میری ماں سے چھوٹی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ میری نانی کا خاندان انتہائی غریب اور نکما قسم کا  تھا اس خاندان کے افراد میں مرد کام سے جی چراتے تھے، اکثر لوگ ایک ایک کمرے کے گھر میں دس دس افراد کے ساتھ رہ رہے ہوتے تھے،نسل در نسل ان کا یہی حال تھا،میں سمجھتا ہوں کے میری زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے کرداروں کا تعلق نانی کے خاندان سے تھا، انہی میں ایک سب سے پراسرار شخصیت “ماموں بغلولی” کی تھی جو میری نانی کے بھائی اور والدہ کے ماموں تھے لیکن ہوش سنبھالتے ہی میں نے بھی انھیں ماموں کے نام سے بلانا شروع کر دیا۔،۔ ماموں بغلولی کا اصل نام جو بھی تھا لیکن ان کی شخصیت کے مطابق آپ سے ان کا تعارف اسی نام سے کروانا  زیادہ مناسب لگتا ہے،اللہ بہتر جانتا ہے ماموں بغلولی کوئی عامل تھے یا ساحر ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ان کی باتیں اور ان کی حرکتیں انتہائی پراسرار تھیں ، کام وام وہ کچھ نہیں کرتے تھے، ایک کمرہ جس کا حدو دربعہ  اتنا تھا کہ کس سٹور کا گمان ہوتا تھا اس میں ماموں بغلولی کا پورا کُنبہ رہتا تھا، میں نے خاندان والوں سے سنا کہ ان کے پاس کوئی پراسرار علم تھا جس کی مدد سے وہ اپنی موت کو بھی ٹالتے رہتے تھے۔۔

میری بڑی خالہ جب فوت ہوئیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ میری بیوی کی موت آئی ہوئی تھی جو میں نے اس پر ڈال دی ۔۔۔۔۔۔ جب میرا چھوٹا ماموں جو کم عمری میں میری پیدائش سے پہلے قریب المرگ تھا تو مرنے سے پہلے اس نے ماموں بغلولی کو بہت عجیب سے انداز میں میری ماں کی طرف اشارے کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے اسے کچھ نہ کہنا، ماموں بغلولی ایک بار شدید بیمار ہوئے سب یہی سمجھے کہ اب ان کا آخری وقت آن پہنچا ہے ، عزیز رشتہ دار ان کے گرد جمع تھے کہ انہوں نے انتہائی نحیف سی آواز میں گوشت کھانے کی خواہش کا اظہار کیا، ماموں بغلولی کی بیوی جو ان سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں اور انتہائی صحتمند بھی، انہوں نے اپنے میاں کی آخری خواہش سمجھ کر فوراً گوشت پکایا اور انھیں لا کر دیا ۔۔۔

ماموں بغلولی کے گوشت کھانے کی دیر تھی کہ ا ن کی بیوی   چکرا کر  رہ گئیں اور بیہوش ہو گئیں ۔۔۔۔۔ رشتے داروں نے فوراً انھیں اٹھایا اور ہسپتال لے گئے ، تھوڑی دیر بعد ماموں بغلولی اٹھ کر بیٹھ گئے اور ان کی نقاہت و کمزوری جاتی رہی اور جو رشتے دار ان کے پاس رہ گئے تھے انھیں کہنے لگے کہ تم سمجھ رہے ہو گے کہ ماموں بغلولی مرنے والا ہے، ابھی تمھیں تھوڑی دیر تک پتہ چل جائے گا کہ کس نے مرنا ہے ، تھوڑی دیر بعد ان کا بیٹا ماں کو ہسپتال پہنچا کر باپ کی خبرگیری کو پہنچا تو گھر میں داخل ہوتے ہی ماموں بغلولی نے اس سے سوال کیا ” مر گئی ؟”۔۔۔۔۔اور پھر تھوڑی دیر کے بعد اس بیچاری کے جہانِ فانی سے کوچ کر جانے کی خبر پہنچ گئی۔

ماموں اکثر بھیک مانگا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی میری ماں اور خالاؤں کو ساتھ لیجاتے اور لوگوں کو واسطے دیتے کہ یہ بے سہارا اور یتیم بچیاں ہیں ان کی کوئی مدد کرے، میری ماں گھر واپس آ کر چیختی چلاتی، پھر میری نانی کو پتہ چل گیا کہ ماموں بغلولی انھیں کیوں ساتھ لیجاتے ہیں تو انہوں نے ماموں بغلولی کے ساتھ بچیوں کو بھیجنا بند کر دیا، جو شخص ہمارے گھر آتا تھا میری ماں کے ماموں زاد بھائی کا بیٹا تھا اور ماموں بغلولی کا پوتا۔شاید ان کا مقصد گھر پر قبضہ جمانا تھا، میری پیدائش کے ایک سال بعد میری نانی کا بھی انتقال ہو چکا تھا،اب گھر میں تھا ہی کون، سب سے بڑی میری ماں اور میری دو خالہ اور میں ۔۔۔ یہ ایک اچھا ہدف تھا ۔

ماں کے رویے میں تبدیلی کے پیچھے جو عملیات جادو سحر وغیرہ کی کارفرمائی لگتی ہے اس کی اصل وجہ ماموں بغلولی ہی کی شخصیت ہے ۔۔۔ ماں گھر کا انتظام چلاتی تھی جس کے لیے وہ گھر میں ہی چھوٹے چھوٹے کام کرتی تھی مثلاً بچوں کے ہاتھ میں ڈالنے والے موتیوں کے دھاگے بنانا، کاغذی لفافے بنانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ آخر ماموں بغلولی کے پوتے کی طرف سے باقاعدہ رشتہ آیا ، رشتے کی بات آخر کیسے کی جاتی، ماں ہی بڑی تھی اور خود مختار بھی اور وہ تو اس چیز کے لیے رضا مند بھی ۔۔یہاں میری  ماں کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے ، ماں نے یہاں بالکل بھی خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کیا ، شادی کے لیے رضامندی تو ظاہر کر دی لیکن مشروط رضامندی اور شرط یہ تھی کہ وہ پہلے اپنی دونوں بہنوں کی شادیوں کی ذمہ داری پوری کرے گی پھر خود شادی کرے گی ۔

دوسری طرف سے اس شرط کو مان لیا گیا اور یوں ماموں بغلولی کے پوتے کے ساتھ ماں کا رشتہ طے ہو گیا،ماں نے دن رات محنت کر کے پیسے اکٹھے کیے اور ان پیسوں سے جو جہیز بنا سکتی تھی بنا کر دو تین برس کے اندر ہی دونوں بہنوں کی شادیاں کر دیں اور پھر ماموں بغلولی کا پوتا شادی  کے بعد ماں کے گھر سدھار گیا، میں یہ نہیں کہتا کہ ماں کے دل میں میرے لیے پیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔اگر پیار نہ ہوتا تو وہ کیوں مجھے جنم دیتی یا کیوں مجھے پالتی پوستی بلکہ بچپن میں جب میں سخت بیمار ہو گیا تھا تو کسی نے ماں کو بتایا کہ اس کا نام بھاری ہے۔ تم اس کا نام اس کے ماموں کے نام پر ظہیرالدین رکھو تو ماں نے میرا نام بدل کر ظہیر الدین. رکھ دیا، اب بھی میرے عزیز رشتے دار مجھے میرے پہلے نام فیصل سے ہی پکارتے ہیں لیکن میرا کاغذی نام ظہیرالدین ہے اور جہاں میں ملازمت کرتا ہوں وہاں لوگ مجھے ظہیر ہی کے نام سے جانتے ہیں ،اس بات سے قطع نظر کہ نام بھاری ہوتے ہیں یا نہیں یا ناموں سے انسانی زندگی اور صحت کا کوئی تعلق ہے کہ نہیں یا کچھ لوگ اس بات کو ماننے والے ہوں گے تو کچھ اسے اوہام پرستی خیال کرتے ہوں گے، میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ میری ماں اس بات پر یقین رکھتی تھی اور اس نے مجھے بچانے کے لیے میری بہتری اور میری زندگی کے لیے میرا نام تبدیل کیا ۔

ماں کا ظاہری سلوک چاہے میرے ساتھ جیسا بھی رہا ہو لیکن اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں کہیں نا کہیں میری محبت تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ماں نے مجھے سکول بھی تو داخل کرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ماں کی جب ماموں بغلولی کے پوتے “بختو”کے ساتھ شادی ہو گئی تو بختو بھی نانا کے چھوڑے ہوئے اس گھر میں آ بسا جس کی وارث میری ماں اور  میری دو خالہ تھیں۔۔

جاری ہے!

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے