ہمارے دل بیمار ہیں۔۔۔نذر محمد چوہان

یارہ ز غیب سماجی رابطوں اور میگزینز پر لکھنے والی امریکہ کی بہت مشہور لکھاری ہے ۔ اسے فرانسیسی ، عربی ، انگریزی اور ہسپانوی زبانوں پر عبور حاصل ہے ۔ اس نے اپنا پہلا فکشن ناول ایک مہینے پہلے بہت ہی دلچسپ کہانی پر لکھا ۔ مجھے وہ لکھاری بہت پسند ہیں جو فکشن میں بھی موجودہ مسائل کو فوکس کر کے ایسے کردار اور مسائل کے حل نکالتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے بہت کارآمد ہوتے ہیں ۔ یارہ کا اس ناول میں مرکزی کردار چھبیس سالہ پروفیشنل ڈانسر کا ہے جس نے اپنی پسند کے خاوند کے لیے پیرس سے میسوری تک کا سفر کیا ۔ سب کچھ مل جاتا ہے ، دولت ، شہرت اور خاوند لیکن سکون نہیں ۔ یہ اس مادی زندگی کے مقابلے اور پرفیکشن کی جدوجہد کی قیمت ہے جو این روکس چُکاتی چُکاتی اس عمر میں انوریکسیا اور ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اور آخر ایک ریحیب سنٹر میں جمع کروا دی جاتی ہے جس کا پتہ اس کتاب کا عنوان بھی بنتا ہے “ دی گرلز ایٹ سیونٹین سوین سٹریٹ “میں جب اسپوکین میں رہتا تھا تو میرے ہمسائے میں ایک ایسا ہی گھر تھا وائٹ ہاؤس کے نام سے جہاں معاشرہ کے ستائے ہوئے لوگ رہتے تھے ، ویسے تو ان کو  ذہنی مریض کہا جاتا تھا لیکن مجھے وہ باقی سب لوگوں سے جنہوں نے اس دنیا کو برباد کیا ہوا ہے بہت اچھے لگتے ۔
اس ناول میں جو بہترین جملہ این روکس بولتی ہے وہ ہوتا ہے؛ “میرا دماغ بیمار نہیں بلکہ دل بیمار ہے “ یہ ہے اصل مسئلہ ۔ کاش ماہر نفسیات یہ سمجھیں ۔ میں اُس اسپوکین کے وائیٹ ہاؤس جاتا تھا ان کو دودھ پتی چائے بنا کے دینے کے لیے، تو یہی محسوس کرتا تھا ۔ جس چیز کا مجھے بہت دکھ ہوتا تھا وہ یہ کہ  سینٹر والے بھی ان کا استحصال کرتے تھے ۔ پیار محبت سے عاری برتاؤ ، صرف پیسہ بٹورنے کا دھندہ ۔ اس ناول میں این روکس کو ان خوش قسمت پندرہ ساتھی لڑکیوں نے تندرست کیا ۔ وہ بھی اس سینٹر میں انہی مشکلات سے دو چار لائی  جاتی ہیں اور سب ایک دوسرے سے اپنے آپ کو ریلیٹ کر پاتی تھیں ۔ اسی طرح ، وائیٹ ہاؤس اسپوکین کے سارے مکین بہت ہی اچھے دل کے مالک ہوتے ہیں اور یہی ان کا قصور بنتا ہے ۔بڑے سچے اور کھرے لوگ کیسے بی دردی سے معاشرہ ان کو ان سینٹروں میں پھینک دیتا ہے ۔ ان کی سچائی  اور دل کا اچھا ہونا ہی ان کا جرم ہوتا ہے اور سوسائٹی کو چُبتا ہے ۔ وہ منافق نہیں تھے ، تقلیدیوں کا رقص نہیں کر سکے ۔ لہٰذا ان کو تنہا کر دیا گیا جس سے وہ مزید بیمار ہو گئے اور ہوتے گئے اور آخر کار کچھ مر گئے اور کچھ ان سینٹرز میں پھینک دیے گئے ۔ ان کا ضمیر زندہ تھا ، ضمیر کا کینسر بہت جان لیوا ہوتا ہے۔ امریکہ میں ان سینٹرز کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔ لگتا ہے یہ مقابلہ اب اپنے اختتام پر ہے ۔ یہ اب کہاں جا کر رکتا ہے یقیناًًً  کوئی نیا انسانی ارتقاء یا ایولوشن ہی اس کو نیا موڑ دے گا ، نئی روشنی پھُونکے گا، نئی  زندگی بخشے گا ۔
ہمارا اپنے رب اور قدرت سے رابطہ خالصتاًًً  دل کے  ذریعے ہے ، دماغ تو دل کے تابع ہے ۔ میری بلی سِمبا اور نواسا زین دونوں اپنے دل سے آپریٹ کرتے ہیں ۔ بہت مزہ آتا ہے ان کی کمپنی کا ، ہم انسان  ذہن سے آپریٹ کر رہے ہیں ، اسی لیے اپنے سمیت سب کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں ۔ ہمارے  ذہن میں ہی ساری نفرتیں، مقابلے ، جنگیں اور حسد جنم لیتے ہیں ۔ اس وقت برصغیر میں تقریباً دو ارب لوگ دن رات جنگ کی باتیں کر رہے ہیں ۔ نہ کھانے کو کچھ ، نہ پہننے کو کپڑے ، نہ علاج معالجہ کی سہولتیں ، نہ تعلیم ، بس ٹینک پر بیٹھ کر بھارت فتح کرنا ہے ۔ مادہ پرستی کا جتنا بھی کھیل ہے یہ سارے کا سارا پیسہ کا کھیل ہے ۔ جو دل اور پیار محبت کی بات کرتے ہیں وہ غدار ہیں ، وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ۔ ہاں البتہ اگر آپ کے پاس پناما والوں جتنا پیسہ ہے پھر آپ جو مرضی کہیں وہی سچ اور وہی حدیث ۔
کل مجھے برطانیہ سے ایک پاکستانی نے لکھا کہ  اب جب مغرب جنگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے تو ہم کیوں ان میں جا رہے ہیں ؟میں نے کہا بھیا ، ہم تقلیدی لوگ ہیں ، شوبازی اور منافقت ہمارا اوڑھنا بچھونا ، ہم نے بھی مغرب والا ہی راستہ اختیار کرنا ہے جہاں سے وہ واپس ہوئے وہاں تک ضرور پہنچنا ہے چاہے آدھی آبادی مر جائے ۔ ان جنگوں سے خوف اور غربت نے لوگوں کو  ذہنی طور پر بیمار کر دیا ہے

اس پندرہ سوین اسٹریٹ کے گھر میں جس چیز نے ان سب لڑکیوں کو اس بیماری سے نکالا وہ اندھی تقلید کا احساس جُرم تھا جس سے سب نے ملکر چُھٹکارا حاصل کرنے کی قسمیں کھائیں ۔
جب این نے سینٹر جائن کیا تو وہ کہتی تھی کے گو وہ سُپر مارکیٹ میں کیشئر کا کام کرتی تھی لیکن اس کا پیشہ دراصل یہ  ذہنی بیماری انراکسیا تھا ۔ بیماری سے اس کی باڈی چھبیس سال کی بجائے باسٹھ سالا عورت کی لگتی تھی۔ ایناریکسیا جو کھانے کے معاملات میں بدنظمی کی بیماری ہے اسے لے بیٹھی اور تقریباً موت کے دہانے پر پہنچا دیا تھا ۔ پندرہ سٹریٹ کا فلیٹ بھی امریکہ میں ہونے کی وجہ سے اپارٹمنٹ کہلواتا اور ساری عورتوں کی کمپنی زندگی کا نیا ولولہ ، نئی اُمنگ پیدا کرتی ۔

ہمیں آج کی زندگیوں میں روحانی لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔ ڈبہ پیر نہیں بلکہ وہ لوگ جو دل سے سوچتے ہیں ، دل کی مانتے ہیں ، گراہم گرین جیسے لوگ ، سلویا پلاتھ جیسی خواتین ، یارہ ز غیب جیسی لکھاری ۔ ایک کینیڈین خاتون جولیانا میکلین بھی سچائی  اور حقیقت کو جتانے والی فکشن لکھتی ہیں ۔ میں نے پچھلے سال اس کا ناول “کروو ان دی روڈ” پڑھا ۔ وہ بھی ایک بہت زبردست کہانی جہاں ایک ڈاکٹر ایک کار کے حادثہ کے بعد سچائی  کی زندگی کی طرف راغب ہوتی ہے ۔ سرجن ڈاکٹر ایبی بہت زبردست دنیاوی کامیابی اور تقلید کی زندگی گزار رہی ہوتی ہے ۔ خاوند کارڈیوجسٹ اور بیٹا ماڈل ۔ وہ زیادہ تر والدہ اور بیٹے کے ساتھ سفر کرتی ہے اس دن اکیلی کار پر جا رہی ہوتی ہے ۔ کار ایک سامنے سے آنے والی کار سے ٹکرا جاتی ہے اور کار کو کاٹ کر ایبی کو باہر نکالا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس کی ساری زندگی مشکلات سے بھرپور گزرتی ، وہ سرجری نہیں کر سکتی ۔ لیکن وہ زندگی پہلی زندگی سے بہت سچی ، بہت کھری اور بہت راحت والی ۔ وہ پہلی دفعہ زندگی میں اپنے آپ کو قدرت کے قریب پاتی اور حقیقی پیار اور محبت میں گُم ہو جاتی ۔ کئی  دفعہ انسان کو کوئی  بیماری ، حادثہ یا انہونا واقعہ سچائی  کی زندگی کی طرف لے آتا ہے ۔ اس لیے اس سے گھبرائیں نہ ، اللہ تعالی نے آپ کے لیے کیا کیا خوبصورت پلان بنائے ہیں کیونکہ آپ اس کی محبوب ترین مخلوق ہیں ،  ذرا حوصلہ تو رکھیں ، پھر دیکھیں اس کی کرامات ، اس کی عنایات اور سورہ رحمن کے فضائل ۔
میری دعا ہے کہ سوہنے رب کے فضل و کرم سے آپ سب پیار اور محبت کی زندگیاں گزاریں اور صرف دل کی مانیں نہ کہ  دماغ کی ۔ آمین!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *