• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بادشاہت، جمہوریت اور عہد نبوی کا نمونہ (حصہ دوم)۔۔مرزا مدثر نواز

بادشاہت، جمہوریت اور عہد نبوی کا نمونہ (حصہ دوم)۔۔مرزا مدثر نواز

اس وقت کی شاہانہ حکومتوں میں بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد قانون کی زد سے مستثنیٰ تھے مگر یہاں یہ حال تھا کہ ہر قانون الہیٰ کی تعمیل کا اصل نمونہ اس کا رسول اور اہل بیت تھے اور اللہ تعٰالیٰ کا حکم تھا کہ اگر نعوذ باللہ اہل بیت سے اللہ تعٰالیٰ کی نافرمانی ہو تو ان کے لئے دوہری سزا ہے۔ بادشاہوں نے لوگوں کے دلوں میں اپنی عالی نسبی اور بلندی کا یہ تصور پیدا کر دیا تھا کہ وہ گویا ساری مخلوقات سے افضل ہیں‘ بخلاف اس کے آپ نے اپنے لئے جو خاص خطاب اللہ سے پایا وہ یہ ہے کہ آپ اللہ تعٰالیٰ کے بندے ہیں‘ عبدیت کاملہ ہی آپ کا کمال تھا‘ اعزاز کے وہ وہمی طریقے جن کا سلاطین نے اپنے کو ایک زمانہ سے مستحق قرار دیا تھا‘ آپ نے ان سب کو مٹا دیا‘ فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے برا نام یہ ہے کہ کوئی اپنے کو شاہ شاہان کہے‘ ایک دفعہ آپ کو کسی نے سیدنا کہا تو فرمایا: یہ تو اللہ کے لیے ہے‘ آپ کو یہ بھی پسند نہ تھا کہ لوگ آپ کو دوسرے انبیاء پر فضیلت دیں۔ سلطنت کے مفتوحات و محاصل کو دنیا کے بادشاہوں نے ہمیشہ اپنی ذاتی ملک سمجھا اور اپنے ذاتی و خاندانی عیش و آرام کے سوا ان کا کوئی دوسرا مصرف ان کے نزدیک نہ تھا اور اگر وہ اس میں سے دوسروں کو کچھ دیتے تھے تو اس کو اپنا احسان سمجھتے تھے لیکن جو نظام سلطنت اسلام نے قائم کیا تھا اس میں سلطنت کے سارے محاصل مال اللہ یعنی اللہ کا مال کہلاتے تھے اور وہ صرف بیت المال کی ملکیت تھے اور مسلمانوں ہی کے لیے تھے‘ زکوٰۃ صدقہ‘ خراج اور جزیہ جو کچھ وصول ہوتا تھا وہ اگرچہ بحیثیت امیر سلطنت سب کا سب آپ کے ہاتھ میں آتا تھا لیکن آپ نے اس کو اپنا نہیں بلکہ با ختلاف شرائط عام مسلمانوں کی ملکیت قرار دیا اور کبھی اس کو اپنے شخصی تصرف میں نہیں لائے‘ زکوٰۃ کی ساری رقم اپنے اور اپنے اہل و عیال اور پنے خاندان ہاشم پر حرام فرمادی اور اس کو بحکم الہیٰ عام غرباء اور اہل حاجت کا حق قرار دیا۔

عام سلطنتوں میں محاصل کی عطا و بخشش شاہانہ تقرب اور عیش پسند امراء کے موروثی استحقاق اور سعی و سفارش کی بنا پر ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ دولتمندوں کی دولتمندی اور فقراء کی محتاجی میں اضافہ ہی ہوتا جاتا تھا لیکن آپ نے احکام الہیٰ کے تحت جو اسلامی نظام قائم فرمایااس میں دولتمندی اور تقرب نہیں بلکہ حاجت اور ضرورت کو معیار قرار دیا گیاکیونکہ ضعفاء کا حق اقویاء کے مقابلہ میں زیادہ توجہ کے قابل تھا‘ عرب میں لونڈیوں اور غلاموں کا کوئی حق نہیں تھا لیکن آپ نے حقوق میں ان کو بھی آزاد لوگوں کے ساتھ حصہ دیا۔ سلاطین کی بارگاہ میں بے اجازت لب کشائی بھی جرم تھی اور اجازت بھی ہوتی تو تکلفات و تصنعات اور غلامی و عبودیت کے اظہار کے مختلف اسلوبوں کے بعد کہیں حرف مدعا زبان پر آتا تھا۔ اسلام کے نظام حکومت کا یہ حال تھا کہ آپ کی عظمت و جلالت اگرچہ صحابہ کو بارگاہ نبوت میں ایک طائر بے جان بنا دیتی تھی تا ہم ہر شخص کو عام اجازت تھی کہ بے تکلف عرض مدعا کرے‘ نا آشنا بدو آتا تو یا محمد کہہ کر خطاب کرتا اور آپ خوشدلی کے ساتھ جواب دیتے اور مسلمان یا رسول اللہ کہہ کر مطلب کو شروع کرتا تھا‘ آپ کے احکام کی تعمیل ہر مسلمان کا ایمان تھا مگر جب اس کو یہ معلوم ہوتا کہ آپﷺ کا یہ حکم بطور مشورہ ہے تو بے تکلف اپنا خیال ظاہر کر دیتا تھا اور آپ اس کو شفقت سے سنتے تھے اور اس کے قبول پر اس کو مجبور نہ فرماتے۔عمال و حکام درحقیقت خلیفہ یا بادشاہ کے قائم مقام ہوتے ہیں اس لئے ان پر نکتہ چینی کرنا گویا خود خلیفہ پر یا بادشاہ پر نکتہ چینی کرنا ہے‘ عہد نبوت میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ لوگوں نے عمال نبوی کی شکایت کی اور آپ نے بجائے اس کے کہ قانون کی کسی دفعہ سے ان کو خاموش کر دیا ہو یا حکام کی حمایت میں معترضین پر کسی قانونی جرم کو عائد فرمایا ہو‘ اخلاقی طور پر سے دونوں کو سمجھا دیا‘ حکام و عمال سے فرمایا ”ہاں! مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ ان کی دعا اور قبول میں کوئی چیز خارج نہیں ہوتی اور معترضین سے فرمایا کہ تم اپنے عاملوں کو اپنے عمل سے راضی رکھو“۔ (جاری ہے)

tripako tours pakistan

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *