• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کاش ادیبوں اور دانشوروں کی سُنی جاتی۔۔۔۔نذر محمد چوہان

کاش ادیبوں اور دانشوروں کی سُنی جاتی۔۔۔۔نذر محمد چوہان

یہاں امریکہ میں لائبریریاں ایک بہت بڑا ملٹی ایکٹویٹی کمپلیکس ہوتا ہے کیونکہ یہ امریکیوںکی جان ہیں اور آج امریکہ کا ہیومن ریسورس ان لائبریریوں کا ہی مرہون منت ہے ۔ ہر ہفتہ ان لائبریریوں میں کوئی  بہت تعمیری اور تاریخی فلم دکھائی  جاتی ہے ۔ کل جس فلم کو وُڈ برج لائبریری کے اسٹوڈیو حال میں دکھایا گیا وہ بہت ہی مشہور برطانوی لکھاری گراہم گرین کی کتاب The quiet American سے ماخوذ فلم Quiet American تھی ۔ گراہم گرین کی اس کتاب کو دو دفعہ فلمایا گیا ایک دفعہ بلیک اینڈ وائیٹ میں ۱۹۵۹ میں اور دوسری دفعہ ۲۰۰۲ ، کلر فارم میں miramax movies نے ۔ اس کے علاوہ اس کتاب پر سینکڑوں دفعہ بحث ہوئ اور کوئی  درجنوں چھوٹے کلپ بھی بنے ۔ جب ۱۹۹۸ میں ہمیں ہالینڈ میں سیمئول ہٹنگٹن کا ۱۹۹۶ والا مقالا clash of civilisations پڑھایا گیا تو میں نے اس کو گراہم گرین کی اسی کتاب کے حوالے  سے رد کیا ۔ میری بالکل گراہم گرین والی ہی دلیل تھی کہ  آپ لوگ خود تہذیبوں کی جنگ چاہتے ہیں وگرنہ وہ   اپنے اپنے الگ سرکل میں بہت ہنسی خوشی جی رہے ہیں ۔ وہی ہوا کہ  ۹/۱۱ کروایا گیا اور تہذیبوں کو لڑانے کی پھر ایک دفعہ آگ لگائی  گئی، جس نے ایک ہی مذہب اسلام والوں کو آپس میں لڑایا ۔ کروڑوں معصوم لوگ   اس کی لپیٹ میں آ گئے ۔ افغانستان ، ایران ، عراق ، شام اور یمن میں یہ آگ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ ہر  انا پسند حاکم ، چاہے ایم بی ایس ، بشارالاسد ، روحانی یا اشرف غنی ، مودی اور اردگان ہو ، نے اس میں کُود کر جلتی پر تیل پھینکا۔ ساری دنیا تماشائی، نہ صرف تماشا دیکھ رہی ہے بلکہ واہ واہ بھی کر رہی ہے

بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ فلم ۲۰۰۲ میں بنائی  گئی  تو ۹/۱۱ ہو چکا تھا اور امریکہ کی face saving کی خاطر اس فلم کو دکھانے سے ایک دو سال روکا گیا ۔ ابھی بھی یہ فلم گو کہ  ادبی حلقوں میں بہت زیادہ مقبول ہے لیکن انٹرنیٹ پر مفت فلمیں دیکھنے والی ویب سائیٹس  پر نہیں ہے ۔ آپ سب یہ فلم ضرور دیکھیے گا اور ہو سکے تو گراہم گرین کی کتاب بھی ضرور پڑھیے ، اس کا غالباً  penguin ایڈیشن جو میں نے کافی سال پہلے پڑھا تھا کوئی  صرف ۱۰۸ صفحوں پر مشتمل تھا ۔
کہا جاتا ہے کہ  اگر امریکی اسٹیبلشمنٹ نے یہ کتاب پڑھی ہوتی یا گراہم گرین کی مانی ہوتی تو امریکہ ویتنام پر کبھی جنگ نہ مسلط کرتا وہ ویتنامی جنہوں نے چین اور فرانس کو ناکوں چنے چبوائے، امریکہ کس باغ کی مُولی تھا ۔ دراصل دوسری جنگ عظیم کے جیتنے کے بعد امریکہ نے ارسطو کے شاگرد اسکندر اعظم کی طرح یہ طے کر لیا تھا کہ اب اس نے پوری دنیا کو اپنے رنگ میں رنگنا ہے اور وہ موت کا رقص آج تک جاری و ساری ہے ۔ امریکہ نے بقول گراہم گرین یہ نہیں سوچا کہ  شاید ویتنامیوں کو کوکاکولا نہ پسند آئے اور ان کے لیے  ان کی تہذیب چھوڑنا موت ہو جس طرح طالبان کو ہے ، جو اشرف غنی ، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کے پیسے کی بوریوں اور بارود کے باوجود وہیں اپنے موقف پر قائم ہیں اور بدستور ڈٹے ہوئے ہیں ۔ گراہم گرین نے درست کہا تھا کہ  تہذیبوں سے پنگے بازی بہت بڑا فتنہ ہے اور اگر ایک دفعہ چِھڑ جائے تو یہ کبھی کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ۔
اس فلم میں جو سب سے خوبصورت بات ہے وہ “انسانی محبت کا جذبہ “ جس کو بہت شاندار اُجاگر کیا ہوا ہے جو جنگوں میں بھی نہیں دبتا ، بلکہ اور نمایاں طور پر ابھرتا ہے ۔ جیسے مرکزی کردار فاؤلر اس فلم میں محبت کے ساتھ محبوبہ  کو کہتا ہے؛
Fear of losing Phong is worst than fear of bullet .. if I lose her would be beginning of death ..
فاؤلر اور پائل ایک ہی پھونگ نامی ویتنامی ٹیکسی ڈانسر سے محبت میں گرفتار ہوتے ہیں ۔ پائل امریکی نوجوان امریکی سی آئی اے کا کور ایجینٹ ہوتا ہے اور فاؤلر برطانوی اخبار کا وار کوریسپونڈینٹ /جرنلسٹ ۔ فلم ۱۹۵۲ میں سائیگون کی ہند چین جنگ کا منظر نامہ پیش کرتی ہے جہاں ایک طرف colonial french فوجی دوسری طرف کیمیونسٹ آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں اور امریکی بطور third force اس میں کُودنا چاہتے ہیں اور ایک جنرل تھی اور کاروباری کمپنی کے ذریعے یہ ساری افراتفری پھیلاتے ہیں ۔ پھونگ فاؤلر کی مسٹریس ہوتی ہے اور پائل پھونگ کو فاؤلر سے اس بنیاد پر تڑوا نے میں کامیاب ہوتا ہے کہ  فاؤلر کی بیوی نے اسے طلاق دینے سے انکار کیا ، لہٰذا  فاؤلر سے اب پھونگ کی شادی ممکن نہیں ۔ لیکن کچھ ہی دن بعد پائیل کا کردار افیون ، بم دھماکوں اور جنرل تھی کو  سپورٹ کرنے میں پھونگ کو بہت بد دل کرتا ہے ۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فاؤلر کیمونسٹوں کے  ذریعے پائیل کو قتل کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جس سے پھونگ دوبارہ فاؤلر کی ہو جاتی ہے ۔ فلم کے ایک سین میں جب پائیل پھونگ کو بوسٹن لے جانے کا کہتا ہے وہ اسے کہتی ہے کہ  اسے بالکل اعتبار نہیں ۔ درجنوں فرانسیسی فوجی اپنی گرل فرینڈز کو ایرپورٹ پر ہی چھوڑ کر اکیلے جہاز پر سوار ہوتے ہیں ۔
عمران خان کے امن کے پیغام کو فتوری حلقوں میں بہت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ دنیا جیسا کہ  میں نے ایک بلاگ میں کہا اب جنگوں سے باہر نکل رہی ہے اور ہم پاکستانی ان میں کُود نے کے شوقین ۔ امریکہ میں quiet American اب پبلک لائبریریوں میں دکھائی  جا رہی ہے اور ہم مسلمانوں کو جنگوں میں دھکیلا جا رہا ہے تا کہ امریکہ اور چین کا اسلحہ بکے ، قتل و غارت ہو اور divide and rule سے چین اب ایک اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں برصغیر پر مسلط ہو جائے ۔ امریکہ تو اب ہیومن ریسورس کے  ذریعے ہی دنیا پر ہاوی ہونا چاہتا ہے جو کام اس نے Huawei کمپنی کے چیف کی بیٹی کے ٹرائیل سے شروع کر دیا ہے ۔
گراہم گرین میری طرح ڈیپریشن کا مریض تھا ۔ کئی  دفعہ خودکشی کی بھی کوشش کی لیکن پھر بھی ۸۰ سال سے زیادہ کی عمر پائی  اور انسانیت کو بہت کچھ دے گیا ، اگر ہم سمجھیں ۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ  میرے دنیا سے جانے کے بعد یقیناً میرے بلاگز ضرور پڑھے جائیں گے اور شاید یہ کہا جائے کہ“شاید وہ پاگل اور غدار نہیں تھا”۔ گراہم گرین کے ساتھ اس طرح کی بہت بڑی زیادتیاں ہوئیں ۔ اس کے انسانی محبت کے پیغام اور جنگوں کے خلاف بیانیہ کو ٹالسٹائے کی طرح نظر انداز کیا گیا ، جیسا کہ  چیسلو میلوز کو پولینڈ سے ملک بدر کر کے کیا گیا تھا ۔ اللہ تعالی ان انسانوں پر استحصال اور کنٹرول والوں کو نیست و نابود کرے ۔ آمین ۔ میں مکالمہ اور ادراک ویب نیوز والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ  وہ میرے بلاگز چھاپتے ہیں ۔ میرا ایک اپنا موقف اور بیانیہ ہے آپ کا اس سے اتفاق کرنا قطعاًًً ضروری نہیں ۔ ہو سکتا ہے آپ کا دل ان میں سے چند باتوں کی تصدیق کرے ۔ بہت خوش رہیں ۔
پاکستان پائندہ باد!
مارچ ۲، ۲۰۱۹

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *