• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • ہمارے سورج کا پڑوسی سُرخ بونا ستارہ (پروکسِما سینٹوری) ۔۔۔۔محمد یاسر لاہوری/قسط2

ہمارے سورج کا پڑوسی سُرخ بونا ستارہ (پروکسِما سینٹوری) ۔۔۔۔محمد یاسر لاہوری/قسط2

*ہمارے سورج کا پڑوسی ستارہ*
میری یہ تحریر اُس مُمکِنہ خلائی مخلوق کے نام جو کائنات کے کسی گوشے میں اپنی ہی نوعیت کی زندگی گزار رہی ہوگی، ایک ایسی زندگی جو ہمارے شعور سے بالاتر ہے

ہم  پروکسِما سینٹوری (Proxima centauri) کے متعلق پڑھ آئے ہیں کہ ایلفا سینٹوری سسٹم کے تین ستاروں میں سے یہ ستارہ ہمارے سورج کے سب سے نزدیک ہے۔اس ستارے کو اتنی اہمیت دینے کی وجہ صرف اس کی ہمارے سورج سے نزدیکی ہی نہیں بلکہ وہ سیارہ ہے جو اس کے گرد چکر لگا رہا ہے۔جی ہاں پروکسما سینٹوری ستارہ بھی ہمارے سورج کی طرح اپنی کششِ ثقل کے بل بوتے پر اپنے ارد گرد ایک سیارے کو گھما رہا ہے جس کو پروکسِما سینٹوری بی Proxima centauri کا نام دیا گیا ہے۔24 اگست 2016ء کا دن تھا، دنیا بھر سے اکٹھے ہوئے اکتیس سائنسدانوں کی ٹیم نے پروکسِما سینٹوری کے گرد گھومتے اس سیارے کو ڈھونڈ نکالا۔ کئی ہزار ارب کلومیٹر دوری سے ہم کسی ستارے کے گرد گھوم رہے سیارے (Exoplanet) کو کیسے دیکھ پاتے ہیں؟

یہ سوال بہت اہم ہے، جس ستارے (پروکسما سینٹوری ) کو ہم دور بین کے بغیر نہیں دیکھ سکتے “جو کہ خود روشن ہے” ایسے میں اس کے گرد گھوم رہے ایک سیارے کو کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں جو کہ اپنی روشنی بھی نہیں رکھتا اور جسامت میں بھی اس ستارے سے نہایت چھوٹا ہے۔دور دراز کے ستاروں کے گرد موجود سیاروں کو تلاش کرنے کے لئے انیسویں صدی سے چلے آ رہے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں اور کچھ طریقوں پر کام ہو رہا ہے جو مستقبل میں ہمارے اس تجسس بھرے سفر کے ساتھی بنیں گے۔جو طریقے ایسٹرونومی کے ابتدائی دور سے استعمال ہو رہے ہیں اور ابھی تک کاریگر ہیں ان میں سے Radial velocity method وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے 24 اگست 2016 کو پروکسما سینٹوری بی سیارہ کی موجودگی کو ثابت کیا گیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ستاروں کی انتہائی طاقتور کشش ثقل سیاروں کو اپنے ستارے کے گرد گھومنے پر مجبور کر دیتی ہے، لیکن کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ سیاروں کی کشش ثقل بھی ستاروں پر اثر انداز ہوتی  ہے۔۔۔ستارے کا اپنی جگہ سے تھوڑی سی حرکت کرنا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حرکت کرنے والے ستارے کے قریب کوئی سیارہ ہے جو اپنی کشش ثقل سے سیارے کے استحکام میں لڑکھڑاہٹ پیدا کر رہا ہے۔Radial velocity method میں اہم کردار The Doppler effect یا The Doppler shift بھی ادا کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یعنی ستارے کے گرد گھومتے سیارے کی تلاش میں Doppler shift اہم کردار ہے جس کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ باآواز بلند ایک موٹر سائیکل آپ کی طرف آرہا ہے، جب موٹر سائکل آپ کی طرف بڑھ رہا ہوگا تو آواز بلند ہوتی چلی جائے گی جیسے ہی وہ موٹر سائیکل آپ کو کراس کر کے آگے بڑھے گا تو اس کی آواز کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ایسے ہی روشنی کا اصول ہے۔کسی ایسی گاڑی کی (جو آپ کی طرف آ رہی ہے) ہیڈ لائٹس تب بہت روشن محسوس ہوں گی جب وہ گاڑی آپ کی طرف آ رہی ہو گی لیکن جیسے ہی وہ گاڑی آپ کے پاس پہنچ کر آپ کو کراس کرے گی تو روشنی کم ہوتی چلی جائے گی۔دراصل روشنی، آواز اور ہیٹ وغیرہ لہروں کی صورت میں سفر کرتی ہیں۔جب یہ waves سکڑتی ہیں تو ان کی طاقت زیادہ ہوتی ہے اور ہم سے دور جاتے ہوئے جیسے جیسے پھیلتی ہیں ان کی طاقت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔روشنی کی سکڑتی ہوئی Waves ہمیں نیلی دکھائی دیتی ہیں جو کہ اس بات کی نشانی ہے کہ روشنی کا مرکز و منبع ہمارے قریب آ رہا ہے لیکن اس کے برعکس روشنی کی پھیلتی ہوئی Waves ہمیں سرخ دکھائی دیتی ہیں جو کہ اس بات کو واضح کر رہی ہیں کہ روشنی کا منبع و مرکز ہم سے دور جا رہا ہے۔جب کوئی سیارہ اپنے ستارے کو کشش ثقل کی طاقت سے اپنی جگہ سے ہلاتا ہے تو وہ ستارہ اپنی حرکت کو نہایت محدود علاقے میں چکر کی صورت میں جاری رکھتا ہے۔اس چھوٹے سے چکر کے دوران جب ستارہ ادھر سے ادھر جاتا ہے تو اس سے آنے والی روشنی کی waves کبھی سکڑتی ہوئی ہمیں نیلی دکھائی دیتی ہیں اور کبھی پھیلتی ہوئی سرخ دکھائی دیتی ہیں جس سے ہم اس کے گرد چکر لگاتے سیارے کی یقینی طور پر نشاندہی کر سکتے ہیں۔ستارے کی حرکت کرنے کی رفتار سے ہم اس کے گرد موجود سیاروں کی جسامت، کشش ثقل اور تعداد کا پتہ لگاتے ہیں۔یہ تھا ہمارے سوال کا جواب کہ چالیس ہزار ارب کلومیٹر دور ایک نیم روشن ستارے (Proxima centauri) کے اندھیرے میں ڈوبے سیارے (Proxima centauri B کو کیسے ڈھونڈا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔پروکسِما سینٹوری کے اس سیارے کی تلاش کے دوران جو بات سب سے فرحت بخش تھی وہ اس سیارے کا اپنے ستارے سے مناسب فاصلے پر ہونا ہے۔کسی بھی سیارے پر انسان تب ہی آباد ہو سکتا ہے جب وہ سیارہ اپنے ستارے سے مناسب فاصلے پر ہوگا۔پروکسما سینٹوری B سیارہ اپنے ستارے سے ساڑھے سات لاکھ کلومیٹر (750000دور ہے اور اس سیارے کا ایک سال زمین کے گیارہ اعشاریہ دو (11.2) دنوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ہماری زمین کا سورج سے پندرہ کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ اور اس سیارے کا اپنے ستارے سے ساڑھے سات لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ۔۔۔ان دونوں فاصلوں میں بے انتہاء فرق ہونے کے باوجود دونوں سیارے اپنے اپنے ستارے کے گرد قابلِ سکونت (Habitable zone or Goldilocks zone) میں چکر لگا رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج پروکسِما سینٹوری ستارہ کے مقابلے میں بہت زیادہ گرم اور سائز میں بڑا ہے، اس لئے زندگی کے موافق ماحول کے لئے ضروری تھا کے زمین کا سورج سے کم و بیش پندرہ کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہو۔پروکسِما سینٹوری ستارہ نہایت چھوٹا اور کم گرم ہے اس لئے اس کا اپنے سیارے سے ساڑھے سات لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ مناسب ہے۔Habitable zone کسی ستارے کے گرد وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں درجہ حرارت مناسب ہوتا ہے اور پانی مائع حالت میں موجود ہو سکتا ہے۔جیسا کہ ہماری زمین پر مائع پانی کے سمندر موجود ہیں۔مطلب نا ہی ستارے سے اتنی دوری ہو کہ درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے اس سیارے کا پانی جم کر برف بن جائے اور نا ہی اتنا نزدیک ہو کہ وہاں موجود پانی ستارے سے آنے والی گرمی کی وجہ سے بھاپ بن کر اُڑ جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیارہ (Proxima centauri B اپنے ستارے سے مناسب فاصلے Habitable zone میں ہے تو ضروری نہیں کہ وہاں زمین جیسا ماحول بھی ہو اور زندگی بھی ہو کیوں کہ اگر ہم غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارا چاند بھی تو Habitable zone میں ہے لیکن یہاں تو ویرانگی کے سوا کچھ نہیں حالانکہ ہمارا چاند بھی ہماری زمین کے ساتھ ساتھ سورج کے گرد Habitable zone میں رہ کر ہی چکر لگاتا یے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے تجربات و مشاہدات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہم سے چالیس ہزار ارب کلومیٹر کی مسافت پر موجود پروکسِما سینٹوری B پر بہت حد تک ممکن ہے کہ وہاں زندگی کے لئے سازگار ماحول ہواور بہت حد تک ممکن ہے کہ کسی مختلف شکل و صورت میں زندگی بھی آباد ہو۔کسی سیارے پر انسانی زندگی کے موافق ماحول ہونے کے لئے صرف ستارے سے مناسب فاصلہ ہونا ہی لازمی نہیں، بلکہ Atmosphere کا ہونا بھی لازمی ہے۔پروکسما سینٹوری B سیارے پر نہایت ہی دلکش منظر کے بارے میں بتاتا چلوں کہ اس سیارے پر اپنے ستارے کے علاوہ دو اور ستارے بھی نظر آتے ہوں گے جو سب سے روشن بڑے اور قریب ہوں گے۔ایک ایلفا سینٹوری A اور دوسرا ایلفا سینٹوری B.کیوں کہ یہ دونوں ستارے پروکسما سینٹوری B سیارے سے نوری سال “یعنی بہت دوری” کی مسافتوں پر نہیں ہیں بلکہ فلکیاتی اکائیوں کی مسافتوں پر ہی ہیں۔زمین کے قریب سورج کے علاوہ ایسا کوئی ستارہ نہیں جس کی مسافتوں کو ناپنے کے لئے نوری سال کی پیمائشوں کا سہارا نا لیا جائے۔جبکہ وہاں پروکسما سینٹوری کے سیارے پر ایک ہی وقت میں تین تین سورج اپنا جلوہ بکھیرتے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے مزاج کے ہاتھوں مجبور انسان کو نظامِ شمسی کے سیارے اب جانے پہچانے اور اپنے سے لگنے لگے ہیں اسی لئے اب اس کی سوچوں و نگاہوں کا محور و مرکز ایلفا سینٹوری سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے۔کائنات میں کوئی دوسری مخلوق ہے یا نہیں یہ ایک الگ بات ہے لیکن کیا کوئی ایسی وجہ سامنے آئی ہے جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ کائنات میں کوئی اور دوسری مخلوق موجود نہیں ہے؟ جو کچھ زمین پر ضروریات زندگی کی شکل میں موجود ہے کیا وہ کہیں اور موجود نہیں ہو سکتا؟ کیوں نہیں! ہو سکتا ہے کہ زمین پر موجود معدنیات کسی اور انجان زندگی کے حامل سیارے کی معدنیات کے مقابلے میں ایک ذرے کی حیثیت بھی نا رکھتی ہوں۔زحل کے چاند ٹائٹن پر قدرتی گیس (میتھین) کے سمندر پائے گئے ہیں جو زمین پر موجود گیس سے کہیں زیادہ مقدار میں ہیں۔یعنی کوئی شخص یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ جو کچھ زمین پر موجود ہے وہ کہیں اور نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ صرف ہماری سوچ ہے (مطلب کہ صرف ہماری انسانی زندگی کے لئے لازم ہے) کہ زندگی کے لئے آکسیجن، فضاء، پانی، ہوا مناسب درجہ حرارت، خام مال اور مختلف چیزوں کی ضرورت ہے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر زمینی مخلوق ایسی بھی ہو جس کے لئے آکسیجن مُضِر ہو، پانی اس مخلوق کے لئے مُہلک ہو، ہمارے لئے تیس سے چالیس ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت زندگی کی علامت ہے لیکن ہو سکتا ہے یہی درجہ حرارت اس مخلوق کے لئے کٹھن ثابت ہو۔جیسے وہ غیر زمینی مخلوق انسانوں سے مختلف ہوگی یقینا ویسے ہی ان کا ماحولیاتِ زندگی بھی مختلف ہوگا۔اس لئے ہمیں اس بات سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا کہ ہم نے خلائی مخلوق کو ڈھونڈ لیا، کسی خلائی مخلوق کے مل جانے سے تو صرف تجسس کی بھڑکتی آگ بجھے گی۔اصل فائدہ تو تب ہی ہوگا جب ہمیں زمین جیسا کوئی سیارہ ملے گا، جس پر ہم زمین کی یادوں کو لئے آباد ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پروکسِما سینٹوری B سیارے کی موجودگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ملکی وے کہکشاں میں زمین ہی ایک ایسا سیارہ نہیں جو اپنے ستارے سے مناسب فاصلے پر ہے بلکہ زمین جیسے کئی کروڑ ایسے سیارے ہوں گے جو اپنے ستارے کے گرد قابلِ رہائش جگہ (Goldilocks zone) میں ہو سکتے ہیں۔کائنات کے مقابلے میں انسانیت اپنی مختصر سی زندگی میں اپنے خد و خال کائنات کے مختلف گوشوں میں بکھیرنے کے لئے شب و روز لگا رہی ہے۔۔۔کون جانے آنے والا وقت انسانیت کی تاریخ کو کس انداز میں دیکھے گا لیکن ایک بات تو یقینی ہے کہ جو بھی حاصل ہوتا ہے وہ شعور، محنت اور وسائل سے ہی حاصل ہوتا ہے۔۔۔اگر ہمارے بنانے والے نے ہمارا مستقبل زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر بھی لکھا ہے تو عنقریب ضرور ہم زندگی کی گہما گہمی کو کسی ویران سیارے کی وادیوں میں بِکھرتا، پھلتا پُھولتا اور پروان چڑھتا دیکھیں گے لیکن اس کے لئے ہماری طرف سے کوشش اور محنت لازم ٹھہرتی ہے!

 

Avatar
محمد یاسر لاہوری
میں لاہور سے ہوں، دینی و دنیاوی علم حاصل کرنے کے بعد کافی عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا رہتا ہوں۔جن میں سے میرا من پسند موضوع معاشرے میں موجود بگاڑ کا سبب بننے والی اہم اور اصل وجوہات پر لکھنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فلکیاتی موضوعات پر بھی میرے قلم کی نظرِ خاص رہتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *