سامان سو برس کا—-ربیعہ فاطمہ بخاری

کل بیک وقت دو خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے مجھے حقیقتاً جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ پہلی خبر کے مطابق ایک سفاک عورت نے اپنی نند کے ڈیڑھ سالہ معصوم پھول سے بچے کو قتل کر کے لاش صندوق میں چھپا دی اور انکشاف ہونے پر اعترافِ جر م بھی کر لیا اور اس نے اس فعلِ قبیح کی توجیہہ یہ پیش کی کہ مقتول بچے کو اس کے ساس سسر اس کے اپنے بچے سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ الامان والحفیظ۔ ۔۔ کوئی بھی انسان اور خاص طور پر عورت جسے صنفِ نازک سمجھا جاتاہے اور اس کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ عورت جذبات اور  احساسات سے گندھی ہوئی مخلوق ہے،اس حد تک سفاکی کا مظاہرہ کیسے کر سکتی ہے۔ ۔ وہ بچہ اتنا معصوم، اتنا پیارا اور اتنا خوبصورت تھا کہ اس طرح کا بچہ کسی غیر کا بھی ہو تو اس پہ پیار آجائے۔ کجا یہ کہ وہ اس عورت کے شوہر کی بہن کا بچہ تھا۔

ابھی اس ہولناک خبر کے اثر سے نہیں نکلی تھی کہ کشمیر میں تولی پیر کے مقام پر ایک کار کے کھائی میں گرنے کی ویڈیو نظر سے گزری۔ یہ ویڈیو حقیقتاً رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی کار کے پیچھے آنے والی گاڑی میں سوار مسافر گانوں کی دھن میں مست ہیں اور اپنے سامنے نظر آنے والے نظاروں کی ویڈیو بھی بنا رہے تھے۔ جس کار کو حادثہ پیش آیا۔ اس میں سے ایک شخص گاڑی کی کھڑکی میں سے باہر نکل کر جونہی کھڑا ہوا وہ کار ایک کھائی میں لڑھک گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے دو جیتے جاگتے انسان موت کی وادی میں اتر گئے۔ ان کی کار کو لڑھکتے دیکھ کر پیچھے آنے والی گاڑی کے مسافر، جو ویڈیو بنا رہے تھے اور گانوں میں مگن تھے فورًا ہی کلمہء طیّبہ کا ورد کرنے لگے۔

ان دو واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن۔۔ مجھے جس چیز حقیقتاً جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہ دنیا کی بے ثباتی تو ہے ہی کہ سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں۔ لیکن افسوس ناک بلکہ عبرتناک پہلو یہ ہے کہ اس حقیقت کا مکمل ادراک رکھنے کے باوجود ہم اپنے دلوں میں حسد، بغض، عناد اور نفرت جیسے منفیانہ جذبوں کو اتنا توانا کرلیتے ہیں کہ ان جذبات سے مغلوب ہو کر ایک تعلیم یافتہ نوجوان عورت ایک معصوم کلیوں جیسے بچے کو قتل کرنے تک پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ مجھے کہیں پڑھا ہوا انگریزی کا ایک فقرہ یاد آگیا کہ
How people find time to hate, when life is too short to love..
زندگی اتنی بے ثبات اور مختصر ہے کہ شاید اگر ہم اس مختصر سی زندگی میں محبت ہی بانٹیں تو اس کیلئے بھی یہ زندگی کم ہے لیکن ہم ربِ کائنات کی اس عطا کردہ نعمتِ عظمٰی (زندگی) کو حسد، جلن، بغض اور عناد جیسی عفریتوں کی بھینٹ چڑھا کر اس کا مقصد ہی ختم کر دیتے ہیں۔
‌ہم اس دنیا اور اس کی لذتوں میں اس بری طرح مگن ہیں کہ ہمیں موت اور خدا کے سامنے طلبی شاید بھولے سے بھی یاد نہیں آتی۔ ہم ہر روز اپنی آنکھوں کے سامنے کسی نہ کسی کی ناگہانی موت واقع ہوتے دیکھتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارتے ہیں لیکن ہم۔ بے ایمانی، جھوٹ، رشوت ستانی، فریب کاری، دھوکہ دہی، بے حیائی غرضیکہ کوئی غلط کام کرنا نہیں چھوڑتے نہ ہی کسی نیکی کو اپنی زندگیوں کا شعار بناتے ہیں۔ حالانکہ بطورِ مسلمان ہمارےلئے واضح تعلیم ہے کہ “دنیا آخرت کی کھیتی ہے” اس کھیتی میں ہم جو بوئیں گے بروزِ حشر وہی کاٹنا پڑے گا۔ہم جھوٹ کاشت کر کے شفاعتِ محمدیؐ نہیں پا سکتے، ہم بے ایمانی کاشت کر کے رحمتِ ایزدی نہیں پا سکتے۔ ہم رشوت ستانی، کرپشن اور بد عنوانی بو کر ربِ کریم کی مغفرت نہیں پا سکتے۔ ہم بے حیائی کاشت کر کے جہنم سے نجات نہیں پا سکتے- ہم دین سے دوری کی فصل بو کر ربِ ذوالجلال کا فضل نہیں پا سکتے-

خدارا اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو جو ربِ کائنات کی طرف سے آپ کو عطا کیا گیا ہے , ایک تحفہ سمجھیں-اور اس تحفے کی قدر کریں – اس مہلت کو غنیمت سمجھیں اور اپنی کھیتی میں سچ, دیانتداری,ایمانداری, خلوصِ نیت, محبت, اللّٰہ اور اس کے رسول سے تعلق اور اس کے دین سے قربت کاشت کریں تاکہ روزِ محشر ربِ کائنات کا فضل و کرم,اس کی رحمت, مغفرت اور رسولِ رحمت کی شفاعت کے حق دار ٹھہریں-

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *