گناہ بدتر از ثواب۔۔۔۔۔عارف خٹک

کالج کی چھٹیاں گاوں گزارنے آیا ہوا تھا تو شغل میلے کیلئے غلیل گردن میں حائل کرکے اپنے ہم عمر کزنوں کیساتھ پرندے مارنے کیلئے صبح سویرے بیری کے درختوں کے جھنڈوں میں گھس جاتے تھے۔اور دوپہر کو گھر روانہ ہوجاتے تھے۔ گلے میں پچاس یا ساٹھ شکار شدہ پرندوں کا ہار لٹکا رہا ہوتا اور ہلاکوخان والے احساسات کیساتھ گاوں میں قدم رنجہ فرما ہوتا اور پورا گاوں دب سا جاتا کہ عارف جیسا شکاری ہر والدین کو نصیب ہو۔
روز کا یہی معمول ہوتا تھا اور احساس تفاخر کے جذبات تھے جو دن بدن بڑھتے جارہے تھے۔ کہ ایک دن اماں کو معلوم پڑا کہ اس کے صندوق سے پیسے دن بدن کم کیوں ہوتے جارہے ہیں۔ لہذا تھرڈ ڈگری انوسٹیگیشن کے بعد جو معلومات حاصل ہوئیں اس میں سب سے زیادہ شرمندگی مجھے اٹھانی پڑی کہ فی پرندہ میں دوسروں سے مبلغ ڈیڑھ روپیہ خرید کر فروختگان کو اماں کے صندوق میں چھپے خزانے سے ادا کرتا تھا۔ جس کی وجہ سے اماں کو مبلغ دو سو چھپن روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ میرا اپنا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس جھوٹی عزت کیلئے عارف خٹک کو اپنے ہاتھوں گولی سے اڑا دوں۔
جب یہ مشغلہ ختم ہوا تو وقت گزاری کیلئے گاوں سے ملحقہ پہاڑیوں میں کھوتا گردی کرنے لگ گئے۔ ایک کھوتی جس کی وفاداری پر آج تک دشمن بھی شک نہیں کرسکتے ہیں کہ سوائے مالک کے کسی اور کو ہاتھ لگانا بھی نہیں دیتی۔ میں نے کزنوں کو یقین دلایا کہ آج اس وفا دار اور بی اے دار کھوتی کو میں پکڑ کر دیکھاتا ہوں۔ کھوتی کو بھگاتے بھگاتے کب میں گاوں میں داخل ہوا یہ مجھے معلوم نہیں ہوا۔ معلوم اس وقت پڑا جب کھوتی اپنے گھر میں گھس گئی اور میں اس کے پیچھے پیچھے گھس گیا۔ وہ مالک کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور میں مالک کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ دیکھا مالک کلاشنکوف کو تیل پانی دینے میں مصروف تھا۔ میرے ہوش اڑ گئے۔ میں رونے لگ گیا کہ آپ کی کھوتی نے مجھے لاتیں ماریں ہیں۔ میں چھوڑونگا نہیں۔ مگر میں یہ ثابت نہیں کرسکا کہ لاتیں کہاں ماریں تھی۔اور کیوں ماری تھی۔ مالک نے بازو سے پکڑ کر چچا کے حوالے کردیا کہ بھتیجے سے یہ پوچھو کہ کھوتی نے لاتیں کیوں ماریں تھی۔ شام تک چچا جان پوچھنے سے پہلے تھپڑ جوڑ دیتے کہ کھوتی نے لاتیں کیوں ماری تھی۔اور کہاں ماریں ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن سوال و جواب سے شدید نفرت ہوگئی ہے۔
گاوں میں عزت کا جنازہ نکل گیا۔ اب عزت بچانے کا واحد رستہ یہی تھا یا تو گوشہ نشینی اختیار کی جائے یا کچھ ایسا کیا جائے کہ عزت بحال ہو۔ کافی دیر سوچنے کے بعد فیصلہ کیا کہ تبلیغی جماعت والوں کیساتھ ایک سہہ روزہ لگایا جائے۔
گھر میں اعلان کیا کہ مجھے مبلغ پانچ سو روپے دیئے جائیں میں نے اللہ کی راہ میں نکلنا ہے۔ اماں کو ہماری اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا لہذا بڑی چچی نے ہزار روپے یہ کہہ کر دیئے بیٹا خیال سے کہیں کھوتی لات نہ مار دیں۔۔۔۔۔۔

ہماری جماعت کی تشکیل چار کلومیٹر دور دوسرے گاوں میں ہوگئی۔ سر پر ٹوپی رکھ کر اپنا بیگ کندھوں پر رکھا تو واقعی دل کو ایک سکون ملا کہ انشاءاللہ اس سہہ روزے کے بعد اگلا ارادہ چالیس روزہ چلہ لگانے کا تھا پھر بیرون ملک ایک سالہ وقت لگانے کا تھا۔ کالج کو خیر باد کہونگا کیونکہ دنیاوی تعلیم میں کچھ بھی نہیں رکھا۔ یہ سوچتے سوچتے ہم دوسرے گاوں کی ایک مسجد میں پہنچ گئے۔ ہمارا تعارف شروع ہوا۔ ہماری جماعت کے امیر صاب وزیر قبیلے سے تھے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ وزیروں میں بھی مسلمان پائے جاتے ہیں۔ مگر اس کی لمبی گھنی داڑھی، سرمہ لگیں آنکھیں اور ملیح گفتگو نے میرا یہ نظریہ بھی غلط ثابت کیا کہ وزیر قبیلے میں مسلمان بھی ہوتے ہیں اور تبلیغی بھی ہوتے ہیں۔
مسجد میں پہنچ کر سامان کھولا۔ تو کھانا بنانے کی ذمہ داری مجھے دے دی گئی۔ امیر صاب نے سختی کیساتھ منع کیا کہ کھانے پینے کا سامان گاوں والوں سے لینا ممنوع ہے۔ اسلام میں کسی کو آزمائش سے دوچار کرنے منع کیا گیا ہے۔ میں نے گیس سلنڈر پر دیگچی رکھ دی تو گاوں کے بچے اس پاس جمع ہوکر دیکھنے لگے۔ جب کھانا بن گیا تو میں نے بچوں سے پوچھا کہ کسی کے گھر میں لسی ہے؟۔ بچوں نے باجماعت کہا ہے۔ ہاں جی۔ میں نے درخواست کی کہ لیموں بھی ساتھ لیکر آنا۔ پندرہ منٹ کے بعد دو بالٹی لسی اور پانچ لیموں حاضر کر دیئے گئے۔ امیر صاحب نے ناپسندیدگی سے مجھے دیکھا اور ناپسندیدگی سے لسی کو دیکھا۔ دوبارہ امیر صاحب کو دیکھا تو اس کے چہرے پر خوشی تھی۔ کہنے لگا کہ اللہ کی نعمتیں ہیں جو ہمیں عنایت کی جارہی ہیں۔ لاو۔۔۔۔
کھانا دل کھول کر کھایا گیا اور ساتھ میں اللہ کی نعمت پی لی گئی۔ تو ظہر کی نماز سے پہلے قیلولہ کیلئے سب جماعت کو باجماعت لٹا دیا گیا۔
عصر کی نماز سے پہلے گاوں کی مشترکہ کوششوں سے ساری جماعت کو باجماعت اٹھایا گیا۔تو معلوم ہوا کہ ظہر کی نماز تو کب کی قضاء ہوچکی ہے۔
عصر کے بعد گشت پر جانا تھا۔ امیر صاب نے سختی سے تاکید کی کہ نظریں نیچے رکھو۔ ہم سب نیچے نظروں کیساتھ گاوں کی گشت پر نکلے تو سامنے سے خواتین پانی کی مٹکے سر پر رکھ کر آرہی تھی امیر صاب نے کہا اذکار زیادہ اور نظریں نیچے۔ انسان غلطی کا پتلا ہے اور میں کچھ زیادہ ہی تھا۔ نظر اٹھ گئی۔ دیکھا امیر صاب خود خشوع و خضوع سے خواتین کو یک ٹک گھور رہے تھے۔
عشاء پڑھی۔ بیان ہوا۔ امیر صاحب نے تقاضہ کی اجازت دے دی۔ امیر صاحب نے مجھے کہا کہ اندھیرے میں شیطان کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے لہذا کم عمر لڑکے ایک ٹولی میں جائیں گے۔ مجھے امیر صاحب نے اپنے پاس بلا لیا۔ کہنے لگا  آجاو۔ مسجد سے تھوڑا دور آکر بیٹھ گئے۔ امیر صاحب نے کہا کہ کیا مشاغل ہیں۔ ان کو مشاغل بتائے تو توبہ استغفار کرنے کے بعد فرمایا کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ آئندہ اختیاط کرنا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ امیر صاحب نے بتایا کہ نوجوانی میں اس سے بھی بڑی غلطیاں ہوئیں ہیں۔ اس کو ڈومیل میں کسی خوبصورت لڑکے سے عشق ہوا۔ تو عشق نے اسے شاعر بنا دیا۔ وہ لڑکا اس سے بات نہیں کرتا تھا۔اور اس کے بغیر اس کا پل پل جیسے بھاری ہوتا جارہا تھا۔ دن بدن اس کی حالت غیر ہورہی تھی۔ بالآخر وہ اس لڑکے کے عشق میں نیم پاگل ہوگیا۔ گھر والے پریشان رشتہ دار پریشان۔ بالآخر ان کی شادی کروا دی گئی۔ مگر دو مہینے کے بعد اس کی بیوی بھی پریشان ہوگئی۔ کہ کسی نے مشورہ دیا کہ جوان کو اللہ کے راہ میں وقف کردو۔ سدھر جائیگا۔ دس سال ہوگئے تبلیغ میں الحمداللہ اب اپنی گناہوں کی معافی مانگ رہا ہوں۔
امیر صاحب کی غم ناک دستان سن کر میں بھی  آبدیدہ ہوگیا کہ امیر صاحب واقعی اپنا بھی ایسا ہی حال ہے۔ کالج کو خیرباد کہونگا۔انشاءاللہ اب زندگی تبلیغ کیلئے وقف کرونگا۔
امیر صاحب نے اپنے واسکٹ میں ہاتھ ڈالا اور ایک سگریٹ نکالی۔ اور بھرنے لگ گیا۔ میں حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ چرس کا سوٹا لگا کر میری طرف جھک گیا اور سرگوشی کی کہ آج آپ کو دیکھ کر مجھے میرا دس سال والا پہلے کا محبوب یاد آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں نے بھی ناڑے کیساتھ بندھے ہوئے ہولسٹر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ امیر صاب ہوش میں آیئے ورنہ آپ بھی جماعت والوں کو بتا نہیں سکو گے کہ لات کہاں لگی ہے اور کیوں لگی ہے!

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *