گھٹیا افسانہ نمبر 13۔۔۔۔۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

میں ابھی چوک سے بس میں چڑھ کے سیٹ پہ سنبھل ہی رہا ہوں کہ کنڈیکٹر نے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کر دیا ہے. کنڈیکٹر میرے پاس سے گزرا تو بہت غور سے دیکھ کر گیا. مجھے اندازہ ہوا ہے کہ میرے ناک سے پانی بہے جا رہا ہے. یہ سب یخ سردی کا نتیجہ ہے. میں نے ناک کو رومال سے صاف کرنا ہی شروع کیا ہے کہ کنڈیکٹر نے میرے سے پچھلی سے بھی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی پردہ پوش خاتون سے کہا ہے کہ
“اماں آپ بس سے اتر جاؤ، ناراض بھی نہ ہونا”
“مگر کیوں” اُس بوڑھی خاتون نے جواباً حیرانگی سے پوچھا ہے. بلکہ جس جس نے بھی سنا سبھی حیران ہو کر کنڈیکٹر اور خاتون کو دیکھ رہے ہیں.
“اماں آپ ہزارہ ہیں، ہمیں ڈر لگتا ہے، آپ کی وجہ سے باقی اتنے سارے لوگ تکلیف میں آ جائیں گے. سیکورٹی والے یہی کہتے ہیں کہ ہزارہ سواری کو نہ بٹھایا کرو تاکہ دہشت گردی نہ ہو جائے”
“میں یہاں کہاں اتروں، مجھے یہاں سے رکشہ بھی نہیں ملے گا”
“آپ ہماری ماں ہیں. بس آپ اتر جائیں، سیکورٹی والے  کہتے ہیں کہ ایک ہزارہ سواری بِٹھا کر ساری بس کی سواریوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے، آپ بس مہربانی کریں اتر جائیں”.
“بیٹا تو پہلے بتاتے اب یہاں کیسے اتر جاؤں”
“پہلے میں نے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، آپ ہزارہ ہیں بس آپ اتر جائیں”
“بھائی یہاں مت اتارو، بوڑھی خاتون یہاں کہاں اترے، اگلی چوک پہ اتار دینا علمدار روڈ کی طرف والی چوک کے ساتھ”، میں نے بیچ میں آنا بہتر سمجھا ہے، باقی سواریاں بھی میرا ساتھ دے رہی ہیں.
“ٹھیک ہے مگر چوک کی چیک پوسٹ پہ اہلکاروں نے مجھے کچھ کہا تو جواب آپ دینا”. کنڈیکٹر کا جواز بھی درست ہے. ہم نے بھی ہامی بھر لی ہے. خدا خدا کر کے بس روانہ ہوئی ہے. وہ بوڑھی ہزارہ مجھے ممنونیت سے دیکھ رہی ہے. کیسا کوئٹہ ہے یہ؟ جہاں میں نے چلنے کے لیے صرف راستہ دیا اور خضر ٹھہرا ہے. قحط الرجال!!!

جس جس کو معلوم ہوا کہ فلان بندہ کمیونسٹ یا سوشلسٹ یا کامریڈ یا مارکس وادی وغیرہ وغیرہ ہے، فوری ملنے والا ردعمل حسب توقع ہوتا ہے، لیکن عمومی طور پہ یہی ردعمل سننے میں آتا ہے کہ سوشلزم تو ناکام ہو گیا. سوویت یونین کے انہدام کے بعد لبرلزم کے بہی خواہوں نے تاریخ کے خاتمے، خوشحالی اور امن کی پیشین گوئیاں کی تھیں. یہی وہ دن تھے جب یوشیہیرو فرانسس فوکوہاما نے خوشی سے لبریز اپنی مشہور پشین گوئی کی تھی کہ تاریخ کا خاتمہ ہو چکا ہے. مارکسسٹوں کو یہ کہہ کر دبا دیا گیا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تمہارا بولنا بیوقوفی اور جنونیت ہے. میں سانس لینے کے لیے رک گیا ہوں.

سوشلسٹ روس کے انہدام کے ساتھ ہی سرمایہ دار حکومتوں کی جانب سے جنگی اخراجات سے خلاصی کے بعد سارا سرمایہ سکولوں، ہسپتالوں، رہائشی منصوبوں سمیت دنیا کو مہذب بنانے پہ لگا دیئے جانے کے خواب دکھائے گئے. خواہشات بَر آئیں گی، پیداوار بڑھتی چلی جائے گی اور انسانی نسل تصورات سے بھی آگے پرسکون و خوشحال ہوگی. جب سوشلزم دنیا بھر میں سوویت روس کے انہدام کے روپ میں رسوا ہو گیا تو ایسے کئی خواب دنیا بھر کی محکوم آبادی کو دکھائے، سنائے اور رٹائے گئے. لیکن آج پچیس سال بعد دنیا کا نقشہ پہلے سے کہیں بدتر ہے. اب اگر کوئی سوشلزم کی ناکامی کا اعلان کرتا ہے تو اُسے سویڈن سے لیکر ایران تک، جرمنی سے لیکر پاکستان تک جگہ جگہ ہوتے عوامی احتجاج دیکھ لینے چاہئیں. فرانس کے حالیہ احتجاج، امریکہ کے حالیہ احتجاج، بھارت میں لاکھوں خواتین کی چھ سو کلومیٹر کی حالیہ انسانی دیوار….. اچانک ابرار نے ہاتھ اٹھا کر مجھے رکنے کا اشارہ کر دیا ہے. ابرار بول پڑا کہ کہیں پہ کوئی چھوٹی سی دھرنی ہو جائے، کہیں کوئی ہڑتال ہو جائے. بات کرتے کرتے ابرار کے لہجے میں تحقیر عود آئی ہے. تم کمیونسٹ پھدکنے لگتے ہو کہ وہ انقلاب آ گیا انقلاب آ گیا انقلاب آ گیا. ایسا کچھ نہیں ہونے والا. وہ دور گزر گیا جب کمیونسٹ انقلاب آ گیا تھا. اب ویسا کچھ نہیں ہونے والا… ہاں ہلکے پھلکے انقلاب آتے رہیں گے، ملکوں ملکوں، چہرے اور نام بدلتے رہیں گے. وسیع پیمانے پہ کچھ نہیں ہونے والا. علاقائی تبدیلیاں آئیں گی. باقی جیسا انقلاب آپ لوگ لے کے آئے تھے وہ نہیں آنے والا، اُس کی توقع نہ ہی رکھیں تو بہتر ہے. کیونکہ وہ انقلاب مسلسل قحط، مسلسل بھوک اور مسلسل جنگوں کا نتیجہ تھے. اب وہ حالات نہیں رہے کمیونسٹ صاحب. نکل آئیں ماضی سے. ابرار چپ ہو گیا ہے.

میں بھی اُس کے پیروں میں مسلسل جھانک رہا ہوں. جان بوجھ کے اُسے بولنے کا وقت دے رہا ہوں. مگر وہ خاموش ہے. مجھے بولنے کا حق ہے؟ میں نے جان بوجھ کر پوچھ لیا ہے تو ابرار قہقہہ لگا کر مجھے دیکھ رہا ہے.

تم اگر یہ گفتگو نہ کرتے تو میں کبھی نہ مانتا کہ تم سی ایس ایس کی اچھی تیاری کر رہے ہو، میں نے جان بوجھ کر ابرار پہ طنز کیا ہے تاکہ وہ مزید کھُل جائے. ابرار نے کچھ سوچتے ہوئے بالآخر بول دیا ہے کہ چلو آپ مجھے پرسوں فیصل آباد میں ہونے والے پاور لومز کے مزدوروں کے احتجاج کی وجہ اور فائدہ بتا دیں، چھوڑیں ساری بحث، دفع کریں میری سی ایس ایس، مجھے روزانہ کی بنیاد پہ ہونے والے ٹکے ٹکے کے احتجاجی مظاہروں کی کہانی سمجھا دیں. بلکہ آپ کیا کہتے ہوتے ہیں؟ اوہ ہاں جدلیات، آج  ذرا احتجاج کی جدلیات ہی سمجھا دیں. ابرار کا سوال چبھنے والا ہے. کیا کر لیا فلاں نے فلاں نے؟ کتنے بھوک ہڑتالوں پہ بیٹھے، کتنے دھرنے ہوئے، کتنی ریلیاں نکلیں، کتنی ہڑتالیں ہوئیں، کیا ہو گیا؟ خیر ابرار شوخی سے میری طرف دیکھ رہا ہے.
میں نے بولنا شروع کیا ہے کہ ابرار جب دنیا بھر کے سرکاری و نجی تمام آلات مالکوں کے ہاتھ میں ہوں، اور محکوم صرف اور صرف دو وقت کی روٹی کی تلاش میں ہوں. باپ کو نہ بولتے ہوئے بھی انسان کو تیس سال لگ جاتے ہیں. لیکن جس شخص کی خوشنودی سے ہمارا گھر چلتا ہو، اُس کے خلاف سڑک پہ آ کر چیخنا چلانا اگر بغاوت نہیں کہلاتا تو کیا کہلاتا ہے؟ جب سارے کا سارا دھندہ ہی آقا کے ہاتھوں میں ہو، غلام تکلیف پہ چیخنے کے علاوہ کر سکتا ہے؟ سوال یہ ہے؟ اِس سے سادہ احتجاج کی جدلیات کیا ہوں گی؟ اگر مزدورں کا مالکوں کے خلاف احتجاج کرنا ایسا ہی معمولی کام ہے تو مالک اگلے دن اُن احتجاجی ورکرز کو کام پہ آنے سے کیوں روک دیتے ہیں؟ ابرار پھر ٹوک کر بولا کہ پرسوں فیصل آباد والے مزدوروں کے مظاہرے کا مقصد کیا تھا جو حل ہو گیا؟؟۔۔۔۔ ابرار کے پھر سے زور دینے کے بعد میں نے موبائل فون سے فیصل آباد والے مظاہرے کی تصویر نکال کر دکھائی کہ یہ مزدور اجرت میں اضافے، EOBI، کام کی جگہوں کو محفوظ بنانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں. اب بھی آپ مقصد پوچھ رہے ہیں؟ حاصل کچھ نہیں ہوا کیونکہ مالکان کو ایسے مزدور درکار نہیں جو پندرہ ہزار روپے ماہانہ سے زاید تنخواہ مانگتے ہوں. رہ گئی بات کہ انقلاب یا تبدیلی تو نہیں آئی، ہاں تبدیلی نہیں آئی. کس نے کہا کہ انقلاب آ رہا ہے. انقلاب اپنے آپ آتا ہے، حالات اُس کی پرورش کرتے ہیں. میرے لانے سے اور آپ کے روکنے سے انقلاب نہ ہی آئے گا نہ ہی رُکے گا. یہ معروضی عناصر کے تحت چلنے والا ردعمل ہوتا ہے. بعض دفعہ ایسا ردعمل شدید ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک معمولی زرعی ملک دنیا کی سوپر پاور بن جاتا ہے. بعض دفع یہ بغاوت ایسی ناکام ہوتی ہے کہ ہندوستان میں جہازیوں کی بغاوت بن جاتا ہے. سب حالات کے تحت چلتا رہتا ہے. ابرار نے پھر ٹوک کر پوچھا ہے کہ اِس سارے معروضی – معروضی ڈرامے میں پھر آنجناب کا کیا کردار ہے. میں نے گلاس کو منہ سے لگاتے ہوئے جواب دیا ہے کہ میں محض عمل انگیز ہوں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *