موت کی پہلی علامت، احساس کا مر جانا ہے۔۔۔۔مظفر

علی عرفان ولد عاشق علی 13دسمبر 2018 کو لاپتہ ہوا تھا۔
اس نوجوان اور اس کے گھر والوں کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ ایک طرف , لیکن میڈیا میں مکمل خاموشی ,تو دوسری جانب پولیس اب تک اس نوجوان کا سراغ تک نہیں لگا پائی۔
سوال یہ ہے کہ تبدیلی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ میڈیا ہائپ ہو تو قانون حرکت میں آتا ہے اور انصاف کو پر لگ جاتے ہیں, عرفان کے والدین اور پنڈ چوہدووال کے باسی ہر دوسرے روز ڈی پی او گجرات سید علی محسن کاظمی کے آفس کے باہر احتجاج  کر آتے ہیں,ہائی کورٹ تک کا دروازہ کھٹکھٹا آئے,لیکن ظلم خدا کا کوئی افسر کوئی میڈیا پرسن ٹس سے مس نہیں ہو رہا, یہ ہے تبدیلی ؟
جرائم ہو ں یا کوئی بھی معاشرتی مسائل ,پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھےجانے والے ٹی وی پروگرام ,, سر عام ,,جو محترم اقرار الحسن کی محنت اور کاوش سے اب پورے پاکستان میں ایک تحریک بن چکی ہے اس سلسلے میں میں نے گجرات میں تحریک ,,سرعام,, کے سرکردہ سے بھی رابطہ  کیا, ان  کو مکمل کہانی بتائی , لواحقین کے احتجاج کی ویڈیوز واٹس ایپ  کیں, ہم سب کو بہت مان تھا کہ یہ تنظیم اس غریب نوجوان کے کیس کو ضرور اٹھائے گی, لیکن ہمیں ان کے رویے نے بھی بہت مایوس کیا,عرفان کے لئے آواز اس طرح نہیں اٹھی کیونکہ وہ بے ضرر غریب کی اولاد تھی
یہاں آواز اس کے لیئے اٹھائی جاتی ہے جسکا کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں اسٹیک جڑا ہو, کبھی مذہب کا تو کبھی مسلک کا, کبھی سیاسی تو کبھی لسانی کہیں پر کاروباری تو کہیں پر ذاتی۔۔۔
باقی رعایا کا خون شاید ریاست پر صدقہ ہے۔۔۔!
ڈی پی او صاحب سے گزارش ہے کہ کیا عرفان کے والدین کا اتنا حق نہیں بنتا کہ وہ جان سکیں کہ انکے بچے نے ایسا کیا جرم کیا کہ پولیس کی حراست میں غائب کر دیا گیا,
احتجاج میں بیچاری ماں رو رو کر پولیس پر الزامات لگا رہی ہے ,کیا کوئی ہے جو اس کے غموں کا مداوا کرے؟

میری  تمام اربابِ اختیار سے درخواست ہےاس سلسلے میں بوڑھے ماں باپ کی مدد کی جائے،اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بھرپور تعاون کیا جائے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *