گھٹیا افسانہ نمبر بارہ۔۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

ہم صبح سے واٹس ایپ پہ میسج کر رہے ہیں، بلکہ لگے ہوئے ہیں. کبھی سِم پہ میسج تو کبھی واٹس ایپ تو کبھی فیس بک میسنجر پہ لگے ہوئے ہیں. فلمی گیتوں کے مختصر ٹیزر سے لیکر چیف جسٹس کے فقروں پہ مبنی قلیل دورانیے کی ویڈیو تک، ایک دوسری کی نیوڈ فوٹو سے لیکر پورن سٹاز کے مختلف فوٹوز تک کیا کچھ ہے جو شیئر نہیں ہوا. رات کے ایک ہو رہے ہیں. میں چرس کے کئی سگریٹ پی چکا ہوں. یہ تو چرس ختم ہو گئی ہے ورنہ میں نے دو چار مزید کھڑکا دینے تھے. خیر ابھی اُس نے شعر بھیجا ہے.

بھوک تخلیق کا ٹیلنٹ بڑھا دیتی ہے
پیٹ خالی ہو تو ہم شعر نیا کہتے ہیں

یہ خالد عرفان کے فیس بک پیج پہ پہلے بھی پڑھ چکا ہوں، خیر وہ لہجے کا شاعر ہے. بلکہ معتبر ہے. میں نے جان بوجھ کر اعتبار ساجد کا شعر جواباً بھیج دیا کہ

ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے
ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا

پھر وقفہ، واٹس ایپ کی گھنٹی بج رہی ہے، اُس نے ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں ہندوستان کے ایک واقعے کا تجزیہ ہے کہ کچھ مردوں نے کسی گائے کے ساتھ جنسی فعل سرانجام دیا ہے وغیرہ وغیرہ. میں نے اُس کو بتایا ہے:

“میرے خاندان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو گھر کی پالتو کھوتی کے ساتھ جنسی عمل میں ملوث پائے گئے تھے”
“تمہارے خاندان میں؟ کیا تم سچ کہہ رہے ہو”، اُس نے حیرانی سے حسب توقع جواب بھیجا ہے.
“جی ہاں میرے خاندان میں”
“لیکن کیوں؟”
“کیونکہ کھوتی سب سے آسان شکار ہوا کرتا ہوگا”
“تو کھوتی تو دولتی مار دیتی ہیں”
“وہ نیچے ٹانگوں میں رسے کا ڈھنگا مار لیتے تھے”
“کیا مزہ آتا ہو گا”
“جنسی لطف اور مزے کی جن نوعیتوں سے ہم آج واقف ہیں وہ لوگ اُس وقت اِن سے نابلد تھے، ہمارے لطف اور مزے کا منبع پورن کلچر کا اینڈرائیڈ کے زریعے فروغ میں موجود ہے”
“پورن؟”
“جی بالکل. یہ صوتی شہوت اور مختلف طریق ہائے مباشرت، اور امور قبل از مباشرت جیسے انواع و اقسام کے ذوق پورن کی ہی عطا ہیں”
“کیا اُن کی بیویاں نہیں ہوتی تھیں جو یہ کھوتیوں کے ساتھ ذلیل ہوئے پھرتے تھے؟”
“نہیں. اکثر کنوارے لونڈے لپاٹے ہوتے تھے، جبکہ کچھ تنہائی میں جوانی کی یاد تازہ کیا کرتے تھے”
“حیرت میں پڑی ہوں. اس منظر کو ذہن میں لانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ کیسے کھوتی کے ساتھ سیکس کیا جاتا ہو گا. اور اُس فرد کے کیا احساسات ہوں گے”

میں نے فیس بک سے تایا کے بڑے بیٹے کی فوٹو ڈھونڈ کر اُس کو واٹس پہ بھیج کر بتا رہا ہوں کہ میرا یہ کزن اپنے منہ سے خود کئی کھوتیوں کے ساتھ جنسی عمل کا اعتراف کر چکا ہے. تصویر اور کیپشن دیکھ کر اُس نے کہا ہے کہ:

“شکل سے تو بندہ لگ رہا ہے”
“تو یہ بندے ہی تو ہوتے ہیں، ہمارے اردگرد، ہم سب، ہمارے گھر والے، ہمارے ملازم، ہمارے خاندان کے سبھی لوگ، بہن بھائی، ماں ماپ، کوئی بھی”
“تم بھی ایسا کرتے تھے”
“مجھے کمی یا ضرورت محسوس نہیں ہوئی”
“شادی سے پہلے بھی”
“ہاں”
“اچھا میں سونے لگی ہوں، بائے، لَو یُو”
“بائے جانی، لَو یُو، گڈ نائٹ”

ثقافتی فروغ میں حائل رکاوٹوں کے عنوان کے تحت سیمینار جاری ہو ساری ہے، میں نے کھانے کے وقفے کے بعد اپنا مقالہ پیش کرنا ہے. ہمارے سامنے ایک بندہ عجیب مشکل مشکل گفتگو کر رہا ہے. آٹھ دس لوگوں کے سوا تو کسی کو شاید اُس کی سمجھ نہیں آ رہی. اب خود ہی سنیں یہ بندہ کیا کہہ رہا ہے، “لبرل حکیم موجودہ بحران سے سرمایہ دارانہ نظام کو نکالنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اِس نظام کی بدولت جو ترقی اور ثمرات حاصل ہوئے انہیں برقرار رکھنا دشوار ہوگیا ہے۔ جب ریاستیں اپنے عوام کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پیسہ نہیں ہے ، گذارہ کرنا ہو گا، ایسے میں ثقافتی مظاہر کا تحفظ بھلا کیسے ہوگا؟” کوئی پوچھے کے ثقافتی فروغ کا لبرل ازم اور سرمایہ داری سے کیا لینا. یہ کمیونسٹ بھی چول پہ چول مارتے رہتے ہیں. جہاں اینگلس نہ بھی گُھس رہا ہوں وہاں مارکس کو بھی ساتھ گُھسا دیتے ہیں. اِن سے پوچھو سردی بڑھ رہی ہے. اِن کی تقریر شروع ہو جائے گی کہ سرمایہ داری کیسے کیسے موسمیاتی تبدیلیوں پہ اثرانداز ہوتی ہے. بس بٹن ہو جائے گا کمیونسٹوں کی مشین کا. اب یہ بندہ چپ کر گا تو کھانے کا وقفہ ہو گا ناں. لیکن انقلابی صاحب یہاں ہال میں انقلاب لا کر ہی دم لیں گے، لگتا تو یہی ہے. جی جی بس یہی کہنا باقی رہ گیا تھا جو اب کمیونسٹ صاحب نے کہا ہے کہ “پاکستان میں کثیر آبادی کی بنیادی انسانی ضروریات تک پوری نہیں ہوتیں، یہاں صحت عامہ کی سہولیات کے فقدان اور وسائل کی کمی کے باعث بچوں کی بڑی تعداد قابلِ علاج بیماریوں سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ ان حالات میں تاریخی و ثقافتی مقامات کے تحفظ کے لیے ریاستی اخراجات کا مطالبہ مذاق سا لگتا ہے۔ عجب نہیں کہ موہنجوداڑو، ٹیکسلا، تخت بائی، شہرِ بہلول، ٹھٹھہ میں مکلی کے مقامات اور قلعہ روہتاس وغیرہ سرکار کی بے توجہی کا شکار ہیں”. بھائی کوئی پوچھے کیوں چین کمیونزم سے تائب ہوا؟ کیوں روس بھاگ گیا، کیوبا اور کوریا بھی سنا تھا سوشلزم ہے، کیا حالت ہے وہاں کی؟ کتابوں اور اجلاسوں میں بہت انقلاب آ چکے. دنیا بھر میں مسلسل معدوم ہونے والا کوئی طبقہ اگر ہے تو وہ پرولتاریہ ہے، جب مزدوروں کی جگہ ہی روبوٹوں نے لے لینی ہے پھر کیسا مورچہ کیسا جلسہ کیسا یکم مئی کیسی یونین. اب روبوٹ تو مارکس کا کہا مان کر انقلاب برپا کرنے سے رہے. اِن جاہلوں کی گفتگو ختم نہیں ہوتی، نجانے کیا کیا بھونکتے رہتے ہیں، جدلیات مدلیات، یار بس کر دو اب تو. بھئی بس کر دے، لیکن نہیں، اِس کی اب مزید بھونک بازی کو ملاحظہ فرمائیں، کیا کہہ رہے ہیں بھائی جان، پتہ نہیں کہاں کہاں سے جھوٹے اعدادوشمار لے آتے ہیں، سنیے اب نہیں بات کہ “فقط امریکا کی مختلف کارپوریشنوں کے بینکوں میں دو ٹریلین امریکی ڈالر ایسے پڑے ہیں جن کو طویل عرصے سے استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ منافع کی شرح کم ہے۔ ریاست کیلیفورنیا جہاں دنیا کے امیر ترین افراد میں سے 131 رہتے ہیں، وہاں کی لگ بھگ 20 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی ہاؤسنگ سکیمیں اور رہائشی پلازے خالی پڑے ہیں، مگر کروڑوں لوگ بے گھر اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ انیس نومبر 2015ء کو رائٹرز میں رہائش اور شہری ترقی کے امریکی محکمے کی ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق صرف امریکا میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں جس میں 25 فیصد بچے ہیں۔ انسانی سماج کی بے پناہ ضروریات پوری نہیں ہورہیں، ریاستی عدم توجہی کا گلہ عام ہے، کروڑوں بے روزگاری کے سبب سماجی بیگانگی کا شکار ہیں، بہت بڑی تعداد دو دو ملازمتیں کرنے پر مجبور ہے۔ تو پھر سرمایہ دارانہ نظام کیسے اور کیونکر ایک مؤثر نظام ہے؟”. اللہ اللہ کرکے اِس بندے کی بکواس ختم ہوئی ہے. کان پک گئے تھے سرمایہ داری یہ سرمایہ داری وہ

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *