مسکرانے والے اور غصہ کرنے والے۔۔۔۔ضیغم قدیر

ایک شخص صبح صبح اٹھتا ہے اور وہ اٹھتے ہی مسکرانے لگ جاتا ہے جبکہ اسکے مقابلے میں دوسرا شخص اٹھتا ہ اور اٹھتے ہی پچھتانا یا غصہ کرنا شروع ہوجاتا ہے تو لانگ ٹرم میں ان دو اشخاص کا دن بہت الگ الگ گزرے گا جو شخص مسکرا کر اٹھے گا اسکا سارا دن خوشگوار گزرے گا بمقابلہ اس شخص کے جو غصہ کرکے اٹھا تھا ک اور غصہ کرکے اٹھنے والے کا سارا دن خراب ہی گزرے گا۔

ایسا سب کیوں ہے؟

کیونکہ ہمارا دماغ ہمارے تاثرات/ایموشنز ہمارے سب کانشش کے تحت آکر بناتا ہے اگر ہم غمگین ہیں لیکن پھر بھی ہم مسکرانے کی کوشش کرتے ہیں تو چند منٹوں بعد ہمارا غم کم ہوجاۓ گا کیونکہ ہمارے دماغ میں سمائیلی نے غم کو اوور کم کر لیا ہوگا۔ایک سمائیل کرتے ہوۓ ہمارے دس مسلز کام کرتے ہیں اور سمائیل کے تاثرات بناتے ہیں۔جبکہ غصہ کرنے میں کم مسلز استعمال ہوتے ہیں لیکن پھر بھی سمائیل کرنے آسان ہے۔

سائیکولوجیکلی دیکھیں تو کئی سائیکولوجیکل ٹیسٹس میں یہ بات تصدیق ہوچکی ہے کہ وہ لوگ جو کام کرتے ہوۓ مسکراتے ہیں وہ کام زیادہ جانفشانی کیساتھ انجام دیتے ہیں بمقابلہ انکے جو غصے کے تاثرات میں کام کرتے ہیں،اسی طرح ان لوگوں کے کام کی استعداد بھی کافی مختلف ہوتی ہے۔

ہماری ایک سمائیل ہمارے دماغ کر ٹرک کرسکتی ہےڈاکٹر گریسن کیمطابق جب ہم مسکراتے ہیں تو ہمارا دماغ سمجھتا ہے کہ کچھ مزاحیہ یا خوشگوار ہورہا ہے سو وہ متلقہ کیمیکلز ریلیز کرتا ہے اور پھر ہمارے موڈ کو خوشگوار بنادیتا ہے۔ اور ایسا کرنے سے ہماری قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے۔اس سب کے علاوہ اگر ہم کنفیوژ ہوں تو ایک سمائیل ہمارا کانفیڈنس واپس لا سکتی ہے جبکہ اسوقت غصہ کا ایک تاثر بھی ہمارا سب کچھ بگاڑ سکتا ہے۔

اس لیۓ مسکرایا کریں۔ہمارا دماغ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ دھوکہ کھا جاتا ہے اور اسے اچھی باتوں میں دھوکہ ہی دیا کریں کیونکہ یہ ہماری صحت کے لیۓ بہت ٹھیک ہے۔

ہاں ہمیشہ یاد رکھئیے

Fake it till you make it

آپکا دماغ ہے آپکی ایموشنز ہیں آپکا کنٹرول ہے سو اسکو مثبت سمت کیطرف ہی رکھیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *