ایک تھا گینڈا، بابو کی تصویر۔۔۔۔وہارا امباکر

ساتھ لگی تصویر آج واشنگٹن میں نیشل آرٹ گیلری میں لگی ہے۔ یہ ایک نادر فن پارہ ہے۔ اس میں ایسا کیا؟ اس کے لئے پانچ سو سال پہلے کی دنیا میں چلتے ہیں۔ یہ کہانی سلطان مظفر شاہ کے دئے گئے ایک تحفے کی ہے۔

یورپ اور برِصغیر کے درمیان پرانا تجارتی تعلق تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کی بڑھتی طاقت اور ڈپلومیسی کی وجہ سے پندرہویں صدی میں اس سلطنت نے یہ راستہ منقطع کر دیا اور تجارتی پابندی لگا دی۔ انسانی فطرت ہمیشہ سے پابندیوں کے گرد کچھ راستہ نکال ہی لیتی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پابندی یورپی مہم جوئی کے دور کا اور دنیا کے نئے خطوں پر یورپی قبضے کا پیش خیمہ بنی۔ بحرِاوقیانوس بحری سفر کے لئے آسان نہیں لیکن پرتگال اور ہسپانیہ نے اس میں بھی بحری جہاز دوڑا دئے۔ سفر اور دریافت کا دور شروع ہوا۔ برِصغیر کی تلاش میں ہسپانیہ نے مغرب کی طرف امریکہ کو پا لیا جبکہ پرتگال نے جنوب کی طرف افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ سے ہوتے ہوئے برِصغیر کو۔ نئے تجارتی راستے بنے جنہوں نے پابندی لگانے والی سلطنت کو غیرمتعلقہ کرنا شروع کر دیا اور دنیا کا نقشہ بدلنے لگا۔

پرتگال نہ صرف ہند سے تجارت کر رہا تھا بلکہ اتنے لمبے فاصلے پر تجارت کے لئے مستقبل بیس بھی چاہیے تھیں۔ ان کی کامیابی کی ایک وجہ الفونسو البقرقی تھے جو ہند میں پرتگال کے کامیاب سفارتکار اور پھر گورنر بنے۔ الفونسو گجرات کے سلطان مظفر کے پاس 1514 کو پہنچے۔ مذاکرات ہوئے جس میں ایک قلعہ بنانے کی اجازت لی، تحائف کا تبادلہ ہوا۔ سلطان کی طرف سے دیا جانے والا ایک تحفہ ایک ڈیڑھ سے دو ٹن وزنی گینڈا تھا، جس کا نام بابو تھا۔ الفونسو نے یہ گینڈا پرتگال کے بادشاہ کو بھجوا دیا۔ گینڈا، اپنے کیپر عاصم کے ساتھ جنوری میں ہند سے چلا اور ۲۰ مئی ۱۵۱۵ کو پرتگال پہنچا۔

یورپ میں رومی سلطنت کے وقت سے گینڈے ختم ہو چکے تھے۔ جب یہ یورپ پہنچا تو اس کو جہاز سے اترتا دیکھنے کے لئے مجمع اکٹھا ہو گیا۔ یہ نہ صرف ایک حیران کن جانور تھا بلکہ ماضی کا ایک نشان تھا۔ پرانی رومی یادگارں میں گینڈوں کے مجسمے اور پلائنی کی لکھائی میں اس جانور کی تفصیل ملتی تھی۔ اگرچہ ایک ہزار سال سے کسی گینڈے نے یورپ میں اپنا قدم نہیں رکھا تھا لیکن یہ جانور اصل تھا، دیومالائی نہیں۔ اس سے پلائنی کی باتوں کی اور قدیم لکھائی کی تصدیق ہوتی تھی۔ یہ گینڈا یورپ کے لئے ماضی سے ملانے والی ایک زنجیر تھا۔

اس بڑے جانور کی شہرت یورپ بھر میں پھیل گئی۔ اس پر نظمیں لکھی گئیں اور کہانیاں۔ یہ وہ وقت تھا جب پوپ کا یورپی سیاست میں بہت عمل دخل تھا۔ پرتگال کے بادشاہ نے اس گینڈے کو پوپ کو بطور تحفہ دینے کا فیصلہ کیا تا کہ مشرق کی طرف سلطنت بڑھانے کے دعووں پر پوپ کی حمایت لینے میں آسانی ہو۔ مگر بابو یہ سفر مکمل نہ کر سکا۔ اس کو لے جانے والا بحری جہاز طوفان کی نڈر ہو گیا۔ گینڈے اگرچہ تیر سکتے ہیں لیکن زنجیر سے بندھا گینڈا غرق ہو جانے والے جہاز میں نہ بچ سکا۔

بابو کی یہ تصویر ڈورر نے بنائی ہے۔ ڈورر نے کبھی گینڈا نہیں دیکھا تھا۔ صرف سنی ہوئی بات سے اور اپنے تصور سے اس کو پینٹ کیا گیا ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک انڈین گینڈا لگتا ہے۔ دوسری نظر میں کچھ چیزیں عجیب لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جلد پر سکیل، جیسے کچھوے کا خول ہو۔ کٹے اور پھیلے ہوئے پنچے۔ گردن کے نیچے نکلی ہڈی اور unicorn کی طرح کا سینگ۔ یہ تصویر مقبول ہوئی۔ ڈورر نے اس کی پانچ ہزار کاپیاں مہنگے داموں فروخت کیں۔ اسی کی لاکھوں نقلیں بکیں۔ جرمنی کی نصابی کتابوں میں گینڈے کی یہ تصویر 1930s تک یہی والی رہی۔

یہ تصویر نقوش کی نفسیات کی سٹڈی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ڈورر کے بنائے گئے ابتدائی پرنٹس میں سے بہت کم باقی بچے ہیں۔ ان کی نیلامی مہنگے داموں ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال 2013 میں نیویارک میں بکنے والا پرنٹ ہے جس کی قیمت دس کروڑ روپے لگائی گئی۔

گجرات سے نکلا تحفہ پوپ تک تو نہیں پہنچ سکا لیکن ایک آرٹسٹ کا اس کا بنایا گیا عکس صرف بابو کی نہیں، پانچ سو سال پہلے کی دنیا کی ایک کہانی ہے۔

پہلی تصویر ڈورر کی بنائی گئی جبکہ دوسرے میں انڈین گینڈا دکھایا گیا ہے۔

اس کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/D%C3%BCrer%27s_Rhinoceros

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *