یوم ولادت حضرت عیسی بن مریم (؏)۔۔۔سیدہ ماہم بتول

 

دنیا بھر کے تمام مسلمانوں بشمول مسیحیان عالم کو یوم ولادت باسعادت حضرت عیسی بن مریم (؏) مبارک ہو۔

کل  اس پیغمبر (؏) کا یوم ولادت  تھا  جس نے حضرت مریم (س) جیسی عظیم خاتون کی آغوش عصمت میں آنکھ کھولی وہ پیغمبر جو اقوام عالم کے لئے مہربانی اور عدالت وانصاف کی بشارت دینے والا اور پیغام رساں تھا۔ جس نے گہوارے میں گفتگو کی اور غفلت کے شکار لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: “میں خدا کا بندہ ہوں، خدانے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے”۔ اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں نماز و زکوٰٰۃ کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے۔ اور ظالم وبد نصیب نہیں بنایاہے اور سلام ہے مجھ پر اس دن جب میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ قرآن کریم میں دو ایسے انبیاء ہیں جن پر خدا نے تین سلام بھیجے ہیں، ولادت کے موقع پر، وفات کے موقع پر اور قیامت کے دن مبعوث ہوتے وقت۔ ان میں سے ایک حضرت یحیی علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل کے ایک حکمران کی ہوس رانی کے نتیجے میں شہید ہو گئے اور سید الشھداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے وقت انکا ذکر کیا تھا۔ دوسرے نبی حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو باپ کے بغیر پیدا ہوئے اور خدا کی نشانیوں میں سے قرار پائے۔

حضرت عیسی علیہ السلام خداوند عالم کے اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں اور قرآن نے بڑے احترام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے ۔ آپ کی ولادت کی داستان بھی بڑی حیرت انگیز ہے اور قرآن کریم نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت حق نے بغیر باپ کے پیداکیا آپ کی والدۂ گرامی حضرت مریم(س) کو خدائے قادر وتوانا نے شادی اور شوہر کے بغیر ماں کے عظیم مرتبہ پر فائز کیا قرآن کریم میں مریم بنت عمران کے بارے میں خدا فرماتاہے کہ وہ بڑی پرہیز گار اور پاک دامن خاتون تھیں۔

ول ڈورنٹ، معروف مغربی مصنف اپنی مشہور کتاب “History of Civilizations” میں لکھتا ہے کہ قرآن کریم اور مسلمانوں کا عیسائیوں پر ایک بڑا احسان ہے اور وہ یہ کہ انکے دین اور کتاب میں انجیل اور حضرت عیسی علیہ السلام کو انتہائی عزت اور بزرگی کے ساتھ یاد کیا گیا ہے اور انجیل کی تائید بھی کی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا کیونکہ انکی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی انکا کوئی مزار یا مقبرہ ہے۔ اگر نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن کریم کی جانب سے حضرت عیسی علیہ السلام کی تائید نہ ہوتی تو منکر افراد بہت آسانی سے انکے وجود کا انکار کرسکتے تھے۔ قرآن اور اہلبیت علیھم السلام کی احادیث میں حضرت عیسی علیہ السلام کو اچھے الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔ آپ (؏) آخری زمانے میں بحکم خداوندی اس دنیا میں واپس تشریف لائینگے۔

(چونکہ آپ کو الله نے آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا تھا، سورہ النساء)۔

سیدہ ماہم بتول
سیدہ ماہم بتول
Blogger/Researcher/Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *