معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نشہ انسان کا ابتداء سے ہی مسئلہ رہا ہے کیونکہ انسان شروع سے سرمست رہنا چاہتا ہے۔ وہ دنیا کے دُکھوں پریشانیوں سے بھاگنا چاہتا ہے۔ ایسے میں نشہ ہی وہ عمل ہے جو انسان کے یہ دونوں مسائل حل کردیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب نشئی کا نشہ ٹوٹتا ہے تو زندگی کے دُکھ پہاڑ بن کر اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جس سے نکلنے کے لیے وہ پھر نشے کی طرف راغب ہوتا ہے اور نشہ آہستہ آہستہ اس کی عادت بن جاتا ہے اور وہ اس کی طلب میں بے چین رہنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ رہ جاتا ہے۔

نشہ آور اشیاء میں شراب دنیا کا قدیم ترین نشہ ہے۔ مقدس کتابوں اور تمام تہذیبی آثار میں شراب نوشی کے حوالے ملتے ہیں۔ خاص کر مصر، یونان اور ہندوستان کی تہذیبوں میں اس کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ اہل روم کے حوالے سے بھی یہ بات مشہور ہے کہ وہ انگور کی شراب کشید کرکے اس میں سرخ رنگ ملاکر پیتے تھے۔ جب فرعنہ مصر کی کھدائی کی گئی تو دیگر قیمتی سامان کے ساتھ بڑی تعداد میں آلات مئے کشی بھی برآمد ہوئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں میں نشہ آور اشیا ء کا استعمال ہوتا رہا ہے۔

دنیا بھر میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان!
26 جون کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے ہر سال منشیات کے استعمال اور منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف دن منایا جاتا ہے لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے اور اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر سال نشے کے عادی افراد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے منشیات اور جرائم کی روک تھام کے لیے ایک ادارہ UNODC کے نام سے بنایا ہے جس کا کام بین الاقوامی سطح پر منشیات کے استعمال اور ان کی تجارت سے متعلق حقائق جمع کرنا ہے۔ اسی ادارہ UNODC نے 20 جولائی 2016 کو اقوامِ متحدہ کی ورلڈڈرگ رپورٹ جاری کی جس رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کی آبادی کے 5 فیصد افراد یعنی تقریباً 250 ملین افراد نے 2014 میں کوئی نہ کوئی نشہ آور شے استعمال کی تھی اور اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نشے کی وجہ سے 2014 میں تقریباً 2 لاکھ 7 ہزار افراد کی اموات واقع ہوئیں۔

اسی طرح منشیات کے حوالے سے ایک عالمی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 90 فیصد پوست جس سے ہیروئن بنائی جارہی ہے افغانستان میں کاشت کی جاتی ہے۔ افغانستان میں پوست کی کاشت 1980 کی دہائی میں کل عالمی پیداوار کا 30 فیصد تھی لیکن اب اس میں تین گنا اضافہ ہوگیا ہے اور اَب دنیا کی 90 فیصد ہیروئن اور افیون افغانستان میں پیدا ہوتی ہے اور اس منشیات کا سالانہ 40 فیصد پاکستان کے راستے بین الاقوامی منڈی کو اسمگل کیا جاتا ہے جس کی سالانہ مالیت 130 ارب ڈالر ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ منشیات کے کاروبار کے پیچھے منظم قوتیں موجود ہیں جو صرف معاشی مفادات کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان!
پاکستانی معاشرے میں جہاں دوسری بہت سی برائیاں ہیں وہاں منشیات کی لعنت بھی معاشرے کے ایک طبقے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ UNODC کی تازہ ترین معلومات کے مطابق پاکستان میں نشہ آور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 67 لاکھ ہے ان میں سب سے بڑی تعداد 25 سے 31 برس تک کے لوگوں کی ہے۔ دوسرا بڑا گروپ 15 سال سے 24 سال تک کی عمر کا ہے ،تقریباً 7 ملین افراد میں سے 42 لاکھ ایسے ہیں جو مکمل طور پر نشے کے عادی ہیں۔

پاکستان میں سب سے زیادہ جس نشے کا استعمال کیا جاتا ہے وہ چرس ہے اور منشیات کا استعمال 80 فیصد مرد کرتے ہیں اور 20 فیصد خواتین بھی نشہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 350 ٹن سے زائد افغان منشیات پاکستان میں استعمال ہوتی ہے ۔ حکومت پاکستان کے ایک ریکارڈ کے مطابق 66.22 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 20 سے 29 سال تھی جو مختلف جرائم کے مرتکب ہوئے۔ 18.92 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 15 سے 19 سال تھی جو جرائم کے مرتکب ہوئے۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود پاکستان کی موجودہ اور سابقہ کسی حکومت نے بھی اس حوالے سے کوئی متاثر کن پالیسی تشکیل نہیں دی جو کہ پریشانی کا باعث ہے۔

اسلام میں نشہ آور اشیا کی ممانعت!
اسلام نے ہر شخص کے لیے 5 بنیادی ضروریات کی حفاظت کو لازمی قرار دیا ہے۔ دین، مال، جان، عزت اور عقل ۔اس لیے وہ چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں اور نقصان پہنچاتی ہیں۔ اسلام نے ان کے استعمال سے منع کیا ہے۔ قرآنِ کریم میں نشہ آور اشیا ء میں صرف شراب کی حرمت کا ذکر آیا ہے جسے عربی میں” خمر” کہتے ہیں اور شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، چونکہ قرآنِ کریم، احادیث متواترہ اور اجماع فقہا سے “خمر” حرام ہے، اس لیے شراب کی حرمت قطعی ہے ،جبکہ دیگر نشہ آور مشروب کے حوالے سے فقہا میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ہر نشہ آور مشروب مطلقاً حرام ہے اور خمر کے علاوہ نشہ آور مشروبات میں مقدار کے لحاظ سے نشہ آور ہوں، اس مقدار میں حرام ہیں اور اس سے کم مقدار میں حرام ہیں نہ نجس اور ان کا پینا حلال ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کا استدلال اس حدیث سے ہے۔حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ: ’’خمر کو بعینہٖ حرام کیا گیا ہے، خواہ قلیل ہو یا کثیر اور ہر مشروب میں سے نشہ آور (مقدار) کو حرام کیا گیا ہے۔‘‘ (سنن نسائی، ج8، رقم الحدیث، 5701, 5702, 5700, 5699)

حضرت سلطان باہوؒ کی تعلیمات کی روشنی میں نشہ آور اشیاء کی مذمت!
سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف” عین الفقر “میں نشہ آور اشیا کی مذمت میں باقاعدہ ایک باب رقم فرمایا ہے اور بہت سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں ۔اس باب کے ابتدائیہ میں آپ فرماتے ہیں ’’جان لے کہ شراب پینے والا شیطان کا دوست اور مقرب ہے۔ ام الخبائث شراب پینے والا دونوں جہانوں میں  خراب ہوتا ہے۔ شراب پینی ہی ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ساقی کوثر حضرت محمدﷺ کے عشق و محبت کی شراب پی جائے جس سے یہ شرابی محروم ہیں ۔جو آدمی شراب پیتا ہے وہ گویا 5 مرتبہ خانہ کعبہ کے اندر اپنی ماں کے ساتھ زنا کرتا ہے۔ اس پر 75 مرتبہ اللہ کی لعنت، جو آدمی کھاتا ہے افیم وہ ہے احمق نا فہیم (نادان) جو آدمی پیتا ہے پوست وہ ہے دشمن خدا اور ابلیس کا دوست۔ جو آدمی پیتا ہے تمباکو کا دھواں وہ ادا کرتا ہے رسم کفار و یہود اور وہ ہے صاحبِ مراتب نمرود جو آدمی پیتا ہے بوزہ (ایک قسم کی ہلکی شراب) اس سے بیزار ہے نماز و روزہ۔‘‘ (عین الفقر، باب نہم، ص311، مطبوعہ العارفین، پبلیکیشنز لاہور)

نشہ آور اشیاء سے نجات کے لیے اقدامات !
ہمیں پاکستان کو نشہ آور اشیاء سے پاک کرنے کے لیے چند اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ سب سے بڑی ذمّہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا مکمل خیال رکھیں۔ ان کی تربیت پر خاص توجہ دیں اور اپنی اولاد کو غلط سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے سے روکیں۔
2۔ اس حوالے سے علماء کی بھی ذمّہ داری ہے کہ وہ اس معاشرتی مسئلے کو محراب و منبر سے اُٹھائیں اور اس کے دینی و دنیوی نقصانات سے عوام کو آگاہ کریں ،خاص کر جمعہ کے بیانات میں۔
3۔ نشے میں مبتلاء افراد کے علاج معالجے کے حوالے سے اچھے ادارے بنائے جائیں ، جہاں نفسیاتی طریقوں کو اپناتے ہوئے نشہ آور افراد کا بہترین علاج ہو۔
4۔ نشہ آور چیزیں سپلائی کرنے والوں کو کڑی سزا دی جائے تاکہ کوئی ایسے جرائم میں پڑنے کی جرأت نہ کرے۔
5۔ نشے کے خلاف مہم کو الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلایا جائے اور ٹی وی پر نشے کے عادی فراد کے انٹرویو کیے جائے تاکہ نوجوان نسل کے شعور میں یہ بات بیٹھ جائے کہ یہ خطرناک چیز ہے۔
6۔ پاکستان میں نشہ آور اشیا ء سپلائی کرنے والوں کے خلاف فوج کی زیرِ نگرانی ٹھوس اقدامات کیے جا ئیں ۔
7۔ تعلیمی نصاب میں منشیات کے مضر اثرات کو نمایاں کرکے پیش کیا جائے۔

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر جامعہ کراچی شعبہ علوم اسلامیہ