پنجاب:تتیاں میریاں چھانواں،کَوڑے میرے گیت۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

واسا اور محکمہ زراعت کو دی گئی سبسڈی روک دی.
ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات متاثر.
لائیوسٹاک ہسپتال و ڈسپنسریاں ادویہ سے خالی.
پی ایچ اے ملازمین نومبر کی تنخواہوں سے محروم.
ویسٹ مینجمنٹ اور میونسپل کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازمین پنشن سے محروم.
چولہے ٹھنڈے اور مہنگے.
صنعتیں بند، پیداواری عمل متاثر، معیشت کا مزید خسارہ.

یہ سب   گذشتہ چالیس برسوں میں دوسری مرتبہ ہو رہا ہے. پنجاب حکومت اوور ڈرافٹ ہو چکی ہے. تیرہ محکمے ایسے ہیں جن کے ملازمین  تنخواہ اور پنشن سے محروم ہیں. جبکہ سٹیشنری و دیگر بلز کی ادائیگی بھی نہیں ہو رہی. یہ محکمے انتہائی مخدوش حالات میں پھنسے ہوئے لگ رہے ہیں. یہ مالی بحران اِن محکموں کی کارکردگی کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے.

پنجاب جیسے گنجان آباد ترین صوبے کو ایک نااہل اور فرنٹ مین جیسے بندے کے حوالے کرنے کے بعد مثبت خبروں کی خواہش صحرا میں ماہیِ آب کی تلاش کے مترادف ہے. یہ کیسے ریت نما راہنما ہیں. تاریخ میں پہلی مرتبہ سرزمینِ پاکستان کو ایسے حکمران میسر آئے ہیں جو بیک وقت اپوزیشن بھی ہیں. اگر کوئی اِن سے یہ سوال کرے کہ فلاں جگہ پر فلاں مسئلہ ہے تو جواب میں یہ فرماتے ہیں سابقہ حکومتیں یہ کرتی تھیں وہ کرتی تھیں وغیرہ. مسلسل ریت نما بےبنیاد وعدوں کا سلسلہ جاری ہے. انڈوں والا معاملہ تب سنجیدگی سے لیا جاتا جب اُس پراجیکٹ کی کچھ بریفنگ دیتے لیکن کیونکہ پنجاب میں تحریک انصاف کے اولین دن کا حساب انتہائی غیرسنجیدہ ہے. ماں بیٹی کے عدالت کے باہر دوہرے قتل کے اندہناک واقعہ پہ وزیراعلیٰ کی جانب سے مکمل خموشی بتا رہی ہے کہ وہ یا تو قاتلوں کے محافظ ہیں یا پھر اُن کو معلوم ہی نہیں یہ اُن کی ہی ڈومین ہے. اسی طرح پنجاب کے شہر قصور میں آج ہی ایک جوڑے کو قتل کرکے اُن کی لاش کو درختوں سے لٹکا دیا گیا. یہ صوبے بھر میں بدمعاشوں، دہشت گردوں اور قاتلوں کو عوام کے ساتھ خونی کھلواڑ کھیلنے کی مکمل آزادی کا اعلان ہے.

پورا صوبہ پہلے زہریلے سموگ میں ڈوبا ہوا تھا. صوبائی حکومت کے عوام کی صحت کے لیے گئے اقدامات کہیں دکھائے جانے کے لیے بھی نہیں کیے گئے تھے. اب پورا ملک دھند کی شدید لپیٹ میں ہے. مثالی پولیس شاہراہوں پہ کہیں نظر نہیں آ رہی. شاہرات ٹریفک سے بھرپور ہیں مگر شدید دھند کے دوران محکمہ صحت اور محکمہ پولیس کا بینر تک کہیں نظر نہیں آ رہا.

پنجاب کی نئی حکومت نے اپنی مزدور پالیسی کا اعلان سات دسمبر کو صوبائی وزیر عنصر مجید نے کیا جس میں انہوں نے مزدور کی کم از کم اجرت 15 ہزار روپے رکھی. یہ مزدوروں اور اُن کے اہل خانہ کے ساتھ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں، یہ حکومتی بےبسی اور ریاستی بےغیرتی کا تسلسل ہے. کہاں ہے عوام دوست نعروں کی حامل تحریک انصاف کی حکومت، پنجاب کے مزدور بدحال ہیں. اُن کے گھروں میں کھانے، پہننے اور رہائش کی مخدوش حالات اُن کی زندگیوں کو اُن کے لیے بوجھ بنا رہے ہیں. پندرہ ہزار میں دو بچوں کے گھر کا بجٹ یہی وزیر صاحب بنا کر دکھا دیں. اُس لیبر پالیسی میں گھروں کے اندر کام کرنے والے مزدوروں، نجی اداروں کے مزدوروں اور بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی نئی بات یا اصلاح کی کوئی بات نہیں کی گئی. کام کی جگہوں سے ہراسمنٹ اور کام کو محفوظ بنانے کے لیے روایتی باتیں دہرائی گئی ہیں. عنصر مجید نے وہاں بھی یہی کہا کہ گذشتہ حکمران مزدوروں کے لیے کچھ کرکے نہیں گئے. لیبر پالیسی میں کہیں بھی مزدوروں کے بچوں کی صحت، تعلیم اور لباس کے لیے کچھ ایک قدم بھی کہیں اٹھایا گیا ہے. ایسے کوئی ایک پلان کا ذکر کہیں نظر نہیں آیا جو کام کی جگہوں پہ خواتین کے ساتھ روا امتیازی سلوک اور بچے کی پیدائش کے دنوں میں خاتون مزدوروں کے ایک لفظ نہیں بولا گیا.

عثمان بزدار ڈیرہ غازی خان گئے. تاریخ کے عظیم ترین فنڈز جاری کیے، قابل تعریف! لیکن آخر ایسا کیوں ہوا کہ وہ لوگ جو جام پور کو ضلع بنانے کے لیے منت کرنے گئے تھے اُن کو ملنے سے روک دیا گیا. آخر ایسا کیوں ہوا کہ راجن پور سے آئے پرائمری سکول کے مرد و عورت اساتذہ کو ملنے سے روک دیا گیا جو روزانہ ڈیڑھ ڈیڑھ سو کلومیٹر یخ سردی اور جلا دینے والی گرمی میں گھر سے سکول اور سکول سے گھر کا سفر موٹر-سائیکل پہ کرتے ہیں. کیا وسیب کے وزیراعلیٰ کو وسیب کی مشہور و معروف قاتل شاہراہ ایم ایم روڈ پہ روز کچلی ہوئی وسیب کی لاشیں نظر نہیں آتیں؟ فتح پور سے شہریوں کو وہ وفد جو ایم ایم روڈ بارے ملنے کے لیے گیا تھا اُس کو آپ نگ ملنے سے کیوں انکار کیا؟

صبح شام کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے ہلکان پارٹی و اسٹیبلشمنٹ کی پنجاب حکومت نے ابھی تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے سندھ حکومت سے مذاکرات کے لیے صرف ایک مراسلہ بھی جاری نہیں کیا جو اِن کی اِس بارے ماشاءاللہ سے سنجیدگی کا ثبوت ہے. پانی کی تقسیم پہ بھی پنجاب حکومت نے سندھ کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا. بس یہی کہا جا رہا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور ویسا ہو سکتا ہے.

پنجاب بھر میں آدھا دسمبر گزر جانے کے باوجود اکثر شوگر ملز بند پڑی ہیں. پندرہ نومبر تک گندم کی کاشت ہرحال میں ضرور کرنی چاہیے ورنہ روزانہ کی بنیاد پہ پیداواری نقصان کا تخمینہ بہت زیادہ ہے. لیکن پندرہ دسمبر تک اگر شوگر ملز چلنا شروع نہیں ہوئیں تو مطلب گندم کی کاشت بہت دیر سے ہو گی جس کی بدولت کاشتکاروں کا کم از کم پچاس فیصد پیداواری ہو گا نتیجتاً گندم کی اوسط پیداوار 25 من فی ایکڑ سے نہ بڑھ پائے گی جبکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک میں گندم کی پیداوار 100 من فی ایکڑ سے بڑھ چکی ہے اور کئی ایک ممالک تو یہ پیداوار ڈھائی سو من تک پہنچ چکی ہے. ایسے حالات میں اگر پنجاب حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ہم خالی باتوں اور نعروں سے نئے پنجاب کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتی ہے تو یہ دیوانے کا خواب ہے.

پنجاب کے صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی نے فرمایا ہے کہ سی پیک کے منصوبے میں جنوبی پنجاب ہمارا خاص فوکس پوائنٹ ہے. بیرونی سرمایہ کاری کا اکثر حصہ جنوبی پنجاب اور خصوصاً زراعت پہ لگایا جائے گا. لیکن گذشتہ حکمرانوں کی طرح اِس وزیر نے بھی کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ یہ سرمایہ کاری کن شعبوں میں کن شرائط اور کس شرح پہ کی جائے گی. لیکن قوی امکان یہی ہے کہ وزیر موصوف کو خود بھی اِس بارے کچھ معلوم نہیں ہے. یہ سیکرٹری صاحبان کی طرف سے رٹے رٹائے جملوں سے حکومت چلانا چاہ رہے ہیں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *