اے دسمبر تو نہ آیا کر۔۔۔۔۔۔ انیس الرحمٰن باغی

دسمبر کے آغاز سے ہی دل کچھ اداس اداس ہو جاتا ہے اور اس اداسی کی وجہ روایتی باتیں جو شاعروں نے اس دسمبر سے متعلق مشہور کر رکھی ہیں وہ نہیں ہے بلکہ۔۔۔اسکی وجہ بابری مسجد کی شہادت ہے۔۔۔ اور بچپن کی وہ تلخ یادیں جو  ذہن سے مٹتی ہی نہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ وہ کس سن کا مجلۃ الدعوہ کا شمارہ  تھا کہ جس پر شہید بابری مسجد کی تصویر تھی جسے بہتے لہو کے ساتھ پینٹ کیا گیا تھا۔۔ غالباً 94 یا 95 کی بات ہے شاید۔۔۔
مجھے ان گرے ہوئے محرابوں کی تو سمجھ نہ آئی لیکن بہتے لہو نے مجھے ہراساں کیا اور والدین سے استفسار کیا کہ یہ کیا تصویر ہے اور اس سے لہو کیوں بہہ رہا ہے؟؟؟

تو والدین نے جانکاری دی کہ یہ بابری مسجد کی تصویر ہے  جسے انتہا پسند ہندؤں نے شہید کر دیا تھا اس لیے اسے لہو رنگ دکھایا گیا ہے۔۔۔

چونکہ میرے معصوم ذہن میں مسجد کا تقدس اور احترام تھا کہ وہاں جوتے اتار کر جانا پڑتا ہے اور عبادت کی جگہ ہے وہ اس لیے میں نے پوچھا کہ ہندوؤں نے مسجد کو کیوں گرایا ہے تو والدین کا دیا ہوا وہ سبق تب سے آج تک میرے ذہن میں نقش ہے کہ “بیٹا ہندو ہمارے دشمن ہیں اور وہ ہر وقت مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے مسجد کو شہید کیا”

یہ ہندو دشمنی اور نفرت کا وہ بیج تھا کہ جو آج وقت کے ساتھ ساتھ ایک تناور درخت بنتا گیا ۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت اس مجلۃ پر لکھا جملہ آج بھی یاد ہے کہ
“اے بابری مسجد ہم خطا کار ہیں”
تو تب سے ذہن میں تھا کہ ہندوؤں سے اس زیادتی کا بدلہ لیا جانا چاہیے اور پھر آئندہ  اس بارے میں  مسلسل مطالعہ نے دل میں امت کا درد اور مجاھدین سے محبت کو اور جلا بخشی اور ہوش سنبھالتے ہی دعوت و جہاد کے سرگرم کارکن بنے اور تاحال انہی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں۔۔۔

لیکن ہر سال دسمبر ایک کسک لیکر آتا ہے کہ شاید وہ پیغام  جس نے میرے لاشعور میں ازلی دشمن سے نفرت کو جگایا آج وہ مسئلہ جوں کا توں ہے اور وہ جملے آج میرے دل  پر تازیانے کی طرح لگتا ہے۔
“اے بابری مسجد ہم خطا کار ہیں”

اور حقیقت یہ ہے کہ دل کڑھتا ہے
ہاں اے بابری مسجد۔۔۔۔!!
ہم شرمندہ ہیں۔۔۔
خطا کار ہیں۔۔۔
نادم ہیں۔۔۔
کہ آج بھی تمہاری حالت اسی طرح ہے اور ہم اپنی  زندگی جی رہے ہیں ہر سال دسمبر آتا ہے اور دلوں پر بوجھ کا ایک اور پتھر کا بارِ گراں ڈالتا جاتا ہے جو ہر سال بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔۔۔

ہاں ہم لاچار ہیں۔۔۔
نحیف و کمزور ہیں۔۔۔
اے بابری مسجد بس ہم تیرا قرض ادا نہیں کر سکتے۔۔۔بس دل میں ہی کڑھ سکتے ہیں اور یہی آرزو کر سکتے ہیں کہ
“اے دسمبر تو نہ آیا کر”ہاں۔۔۔۔!
“اے دسمبر تو نہ آیا کر”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *