عوام کو خوار نہ کریں۔۔۔۔عنائیت اللہ کامران

زیادہ عرصہ نہیں گزرا تحریک لبیک نے ناموس رسالت کے مسئلہ پر دھرنے دئیے ،دھرنے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین  احمد نے بھی دئیے تھے لیکن ان کے دھرنے نظم و ضبط کے حامل اور پرامن تھے ،126 دن کا دھرنا عمران خان نے بھی دیا تھا جس میں سپریم کورٹ کے جنگلے پر شلواریں بھی لٹکائی گئیں اور پی ٹی وی پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ،جو کہ کامیاب بھی ہوگئی تھی لیکن پاک فوج کی بروقت آمد نے کسی بڑے سانحہ سے بچالیا۔حال ہی میں آسیہ مسیح کیس پر ملک بھر کے تمام دینی طبقات اور سیاسی و مذہبی جماعتوں میں اضطراب پیدا ہوا اور وہ احتجاج کے لئے باہر نکل پڑے ،تحریک لبیک کے دھرنے کے حوالے سے جو رپورٹنگ کی گئی اس کے مطابق جلاؤ گھیراؤ ،سڑکوں کی بندش اور لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے ،حکومت نے ان میں ملوث افراد کو نظربند کرنے کے لئے احکامات جاری کئے جس کے نتیجے میں لبیک کی قیادت سمیت کارکنان کی بھاری تعداد اس وقت جیلوں میں 30 دن کے لئے نظر بند ہے ۔ان افراد پر جہاں جلاؤ گھیراؤ ،سڑکوں کی بندش،لوٹ مار، املاک کو نقصان پہنچانے اور عدلیہ کے خلاف تقاریر کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

اگر حکومت صرف ان عناصر کو گرفتار کرتی جو واقعی جلاؤ گھیراؤ ،سڑکوں کی بندش اور لوٹ مارو املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث تھے تو یقیناً ہر ذی شعور فرد نہ صرف اس حکومتی عمل کی بھرپور تائید کرتا بلکہ تعاون بھی کرتا لیکن ہوا یہ ہے کہ اس موقع پر کئی بے گناہ افراد کو بھی پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے ،ان میں کچھ دیگر مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہیں ۔ان میں نوجوان بھی ہیں اور سفید ریش بھی ہیں ،ان میں پیر محمد افضل قادری کے ماموں مولانا محمد یوسف سلطانی جیسے سن رسیدہ(عمر90 سال،جیل میں وفات پاگئے ہیں)بھی شامل ہیں۔ان میں جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کے لوگ بھی شامل ہیں اور ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کا ان میں سے کسی مذہبی جماعت سے تعلق نہیں تھا لیکن وہ محبت رسولؐ میں سڑکوں پر آگئے تھے ۔
بقول مولانا فضل الرحمن ناموس رسالت کی خاطر جان قربان کرنا بہت بڑی سعادت ہے اور یہ تو پھر جیل ہے.

سر دست ہو یہ رہا ہے کہ ان اسیروں کے لواحقین ذلیل و خوار ہورہے ہیں ،30 دن کے لئے بند ان اسیران سے ملاقات کے لئے لواحقین کو دردر کی ٹھوکریں کھانا پڑ رہی ہیں ۔بعض اسیران کو دوسرے اضلاع کی جیلوں میں رکھا گیا ہے ،ان کے لواحقین کو خاص طور پر شدید مشکلات درپیش  ہیں ۔اسیران سے ملاقات کا وقت ہر پندرہ دن بعد مقرر کیا گیا ہے اور ایک فرد سے صرف دو افراد ہی ملاقات کرسکتے ہیں لیکن ہو یہ رہا ہے اکثر جب لواحقین ملاقات کا اجازت نامہ لیکر جیل پہنچتے ہیں تو انہیں جواب ملتا ہے کہ ملاقات نہیں ہوسکتی ،نتیجتاً لواحقین کو جن میں کئی بزرگ افراد بھی ہوتے ہیں کو مایوس لوٹنا پڑتا ہے ۔کسی بھی ایشو پر عوام میں اضطراب ،احتجاج کی شکل میں اس کا مظاہرہ ،جمہوری معاشروں میں آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتا ہے،لیکن بے گناہ افراد کو اس طرح سزا دینا گویا کسی دشمن ملک سے تعلق رکھتا ہے درست نہیں ہے ،جو لوگ لوٹ مار ،جلاؤ گھیراؤ ،املاک کی تباہی یا شاہراؤں کی بندش جیسے جرائم میں ملوث ہوئے ہیں ،ان کی اگر نشاندہی ہوگئی ہے تو انہیں تو قانون کے مطابق ضرور سزا ملنی چاہئے ،انہیں عدالت میں پیش کرکے  اپنی صفائی کا موقع فراہم کرناچاہئے.  لیکن 30 دن کے لئے اس طرح بند کردینا کہ نہ کوئی ان سے ملاقات کرسکے اور نہ ہی ان کی کوئی خیر خبر مل سکے ظلم ہے ۔اوپر سے ان کے لواحقین کو جس طرح ذلیل خوار کیا جارہا ہے ،حکومت کیا سمجھتی ہے مستقبل میں یہ لواحقین ان کے لئے اچھے جذبات رکھیں گے ۔ہم اس بات کے قائل ہیں کہ جرم کو ختم کیا جائے لیکن انسانیت کی تذلیل نہ کی جائے ۔آئین میں درج حقوق انہیں فراہم کئے جائیں ۔

اس قسم کے آمرانہ ہتھکنڈے حکومت کی غیر مقبولیت اور معاشرے کو مزید انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کا باعث بنیں گے لہذا حکومت کے لئے صائب یہی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور کم ازکم بے گناہ افراد کو ضرور فوری طور پر رہا کیا جائے،جبکہ محض احتجاج کرنے والوں کے لئے اتنی نظربندی ہی کافی ہے ،حکومت اپنے حال پر بھی رحم کرے اور عوام کے حال پر بھی۔

عنایت اللہ کامران
عنایت اللہ کامران
صحافی، کالم نگار، تجزیہ نگار، سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سیاسی و سماجی کارکن. مختلف اخبارات میں لکھتے رہے ہیں. گذشتہ 28 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک، کئی تجزیے درست ثابت ہوچکے ہیں. حالات حاضرہ باالخصوص عالم اسلام ان کا خاص موضوع ہے. اس موضوع پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں. طنزیہ و فکاہیہ انداز میں بھی لکھتے ہیں. انتہائی سادہ انداز میں ان کی لکھی گئی تحریر دل میں اترجاتی ہے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *