کشمیر!شہ رگِ پاکستان۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

میرا تعلق ساداتِ آزاد کشمیر کے ایک معزز گھرانے سے ہے۔ ہمارا گاؤں  کشمیر میں انڈین بارڈر کے خاصا نزدیک ہے اور یہی وجہ ہے کہ 1965ء کی جنگ میں جب بھارتی فوجیں ہمارے گھروں میں داخل ہونا شروع ہوئیں تو ہمارے دادا جی نے وہاں سے ہجرت اختیار کی۔ کچھ عرصہ بارڈر کی نسبت دور دراز علاقے میں گزار کر یہ لوگ واپس اپنے گھروں میں چلے گئے۔ چند  برسوں  بعد ان کے سارے بیٹے حصولِ علم اور بعد ازاں حصولِ روزگار کیلئے لاہور کے ایک مضافاتی علاقے میں آن بسے۔ جہاں ان سے پہلے بھی ہماری اپنی برادری کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے خانوادوں کے ساتھ سکونت اختیار کر چکی تھی اور پھر ان سب نے اپنے اپنے بیوی بچوں اور والدین سبھی کو ادھر ہی بلالیا۔ یوں ہمارا گھرانہ بتدریج سوائے ایک چچا جان کے یہیں کا ہو رہا۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے اس وقت کے وسائل کے مطابق یہیں زمینیں خریدیں، مکان بنائے یہیں کے شناختی کارڈز بنوائے اور ہماری نسل کے سبھی لوگ یہیں پیدا ہوئے اور یہیں پروان چڑھے۔

اپنی ابتدائی سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک یہیں لاہور کے تعلیمی اداروں سےحاصل کی۔ اب ہماری نسل کے بھی تقریباً سبھی لوگ خود والدین بن چکے ہیں۔ اور یوں ہماری چوتھی نسل بھی اس مٹی کی مقروض ہے۔ وادی ء  کشمیر کے ساتھ ہماری محبت، ہماری چاہت۔ ہماری کشش، ہمارا دردیہ سب فطری ہے اور ہمارے خون اور دودھ میں شامل ہے۔ اور یہی جذبات اسی شدت سے ہماری نئی نسل میں بھی منتقل ہو چکے ہیں۔ لیکن اگر میں ارض پاک پاکستان کی بات کروں تو میں بلا جھجھک، بلا خوف و اکراہ اور بغیر لگی لپٹی کے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہ الفاظ لکھ رہی ہوں کہ پاکستان کو ہم سب اپنی جان، اپنی شان، اپنی آن بان اور اپنی پہچان سمجھتے ہیں۔ وہ سب جذبات جو کشمیر کیلئے ہمیں خون اوردودھ سے ملے وہی جذبات اور احساسات اس پاک سر زمین کیلئے ربِ کائنات نے ہمارے دلوں میں ڈال دئیے ہیں۔ ہمارے لئے شاید اپنے دلوں میں پاکستان اور کشمیر کا مقام الگ الگ متعین کرنا ناممکن ہے۔جو مقام ہمارے دلوں میں کشمیر کا ہے، بعینہِ وہی مقام پاکستان کا بھی ہے۔ خدا لگتی کہوں تو ہمیں یہاں آباد ہوئے کم و بیش چار دہائیاں گزر گئی ہیں اور قسم بخدا ہم نے آج تک زندگی کے کسی موڑ پر، کسی تعلیمی ادارے میں، کسی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازمت کے حصول میں، بچوں کی مستقبل سازی میں غرضیکہ کہیں بھی، کسی بھی مقام پر کشمیری ہونے کی بناء پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا ہرگز نہیں کیا۔ ہماری برادری کی اکثریت نے میرٹ پر پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، ہم میں سے ہی بہت سے لوگ سرکاری محکموں میں گریڈ 7 سے 19ویں گریڈ تک کے سرکاری ملازم ہیں، ہم ہی میں سے کشمیری فوج میں سپاہی سے لے کر بریگیڈئیراور کرنل کی سطح تک پہنچے، ہم میں سے ہی بہت سے لوگوں نے بہت معمولی سرمائےسے اپنے کاروبار شروع کئے اور آج وہ لوگ بیسیوں لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بنےہیں، بینکنگ سیکٹر میں ہمارے  بہت سے لوگ درجہء سوم سے درجہء اول کےمختلف درجات میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

غرضیکہ ہم میں سے جس کسی نے بھی جس طرف بھی چاہاقدم بڑھایا اور ریاستِ پاکستان کےاداروں کو، ریاستی مشینری کو اور عوام الناس کو دیدہء و دل فرشِ راہ کئے ہوئےپایا۔ ہمیں کبھی خواب میں بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم بطورِ کشمیری پاکستانیوں سےالگ لوگ ہیں۔ لیکن آج اپنی زندگی میں شاید پہلی بار میں بطور ایک کشمیری مایوسی کا شکار ہوئی ہوں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور کاریڈور بننا کوئی شک نہیں کہ امن کی طرف ایک انتہائی مثبت اقدام ہے۔ اور اس میں بھی دو رائے نہیں کہ اس طرح کے اقدامات سےجنوبی ایشیاء بالعموم اور ہندو پاک کے لئے بالخصوص ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ اور اس کاریڈور سے مستفید ہونے والے سکھ بہن بھائیوں کی خوشی ہم بھی اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔ لیکن جہاں یہ ہند و پاک کے عوام میں امن کے قیام کے حوالے سے امید کی کرن جگا گیا وہیں مجھ جیسے کشمیری پاکستانیوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے چاہا کہ سکھوں کیلئے کرتارپور بارڈر کھولا جائے اور محض اڑھائی تین ماہ کے مختصر عرصے میں وہ اپنے ارادے میں بہت تیزی سے کامیابی سے گامزن ہیں۔ لیکن کیا کسی نے ایک لمحے کیلئے بھی آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کتنے خاندان محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر بستے ہیں لیکن انہیں ایک دوسرے سے ملنے کیلئے پورا ہندوستان گھوم کے امرتسر سے ہو کے براستہ لاہور کشمیر میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ اور وہ ملاقاتیں جو شاید چند گھنٹوں کی متقاضی ہیں ان  کیلئے انہیں مہینوں بلکہ اکثر اوقات سالہاسال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اور اکثر اوقات انڈیا پاکستان کی سخت ویزہ پالیسیوں کی بدولت انتہائی قریبی رشتہ دار اور عزیز ایک دوسرے سے ملاقات کا ارمان لئے راہی  ملکِ عدم ہو جاتے ہیں۔ بہت عرصہ انتظار کے بعد جنرل پرویز مشزف کے دورِ حکومت میں سنہ دوہزار سات میں مظفرآباد، سری نگر کے درمیان براستہ چکوٹھی ایک بس سروس کا اجراء کیا گیا تھا جو کہ کچھ عرصے تک تو دونوں اطراف کے لوگوں کیلئے ایک تحفہ ہی تھی ہر مہینے بعد ایک روٹ اس بس کا، مسافروں کو بارڈر کے دونوں اطراف لے کے جاتا تھا لیکن گزشتہ دو جمہوری ادوار میں یہ بس سروس تقعیباً غیر فعال ہو کر رہ گئیہے۔ اولًا تو چھ چھ ماہ کوئی بس اس روٹ پر چلتی ہی نہیں اور کوئی بس اگر بھولے بسرے تیار ہو بھی جائے تو اس کے لئے مسافروں کو جس قدر خجالت اور خواری اٹھانا پڑتی ہے کہ وہ دوبارہ کبھی درخواست دینے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔

ہم حکومتِ پاکستان سے بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح حکومتِ پاکستان نے کرتارپور والے معاملے کو قوتِ ارادی اور نیک نیتی پر مبنی کاوشوں سے ممکن بنایا اسی نیک بیتی اور اخلاص سے اس پہلے سے موجود لیکن تقریباً غیر فعال بس سروس کو ہنگامی بنیادوں پر فعال بنائیں بلکہ دوسرے بارڈرز جیسے پونچھ سیکٹر، سیالکوٹ، جموں سیکٹر میں بھی اسی طرح کے کاریڈور بنائے جائیں تاکہ اس خطّے کے عوام بھی بلا کسی پس و پیش کے بارڈر کے اطراف بآسانی سفر کر سکیں اور ان کی زندگیوں میں بھی آسانیاں در آئیں۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *