افسردگی ،ڈپریشن۔۔۔۔۔مہر ساجد شاد

یہ حالت کبھی کبھار ہو تو ذندگی کا خوبصورت رنگ ہے اور اگر اکثر طاری رہنے لگے تو مرض بن جاتی ہے جو بحرحال قابل علاج ہے۔
افسردگی کی حالت کی کئی علامات ہیں جیسے اداسی ، چڑچڑاپن، نیند کے مسائل، کھانے کی خواہش میں تبدیلی، ذہنی توانائی میں تبدیلی، سوچوں میں گم رہنا، ناامیدی، مستقبل سے مایوسی، دلچسپی ختم ہو جانا، حسد کرنا، خود اعتمادی میں کمی ہو جانا۔ اداسی ڈپریشن کی ایک علامت ہے لیکن یہ ایک عارضی حالت ہے جبکہ افسردگی ڈپریشن نسبتا مستقل حالت ہے جو کہ اپنی علامات بدلتی رہتی ہے۔ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ یہ دماغی طور پر کمزور اور کم حوصلہ افراد کو لاحق ہوتی ہے لیکن ڈپریشن افسردگی دماغی طور پر بڑے مظبوط نہایت سمجھدار اور پڑھے لکھے افراد کو بھی ہو سکتی ہے۔

ڈپریشن صرف دماغ کو ہی متاثر نہیں کرتا یہ بہت سی عارضی بیماریوں اور پھر ان سے ہی مستقل بیماریوں کی وجہ بن جاتا ہے، جیسے تھکاوٹ، نیند میں کمی، بھوک میں کمی یا زیادتی، پٹھوں میں درد، سینے میں درد، جوڑوں میں درد، سانس میں تکلیف، دل کی بیماریاں وغیرہ بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔ یہ بیماری موروثی بھی ہو سکتی ہے جو خاندان میں نسلوں کو منتقل ہوتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مردوں کی نسبت عورتوں میں ڈپریشن پیدا ہونے کے امکانات دوگنے ہوتے ہیں۔ایک اسٹڈی کے مطابق مردوں میں 15 فیصد اور عورتوں میں 25 فیصد سے زائد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔اسکے علاج کے لئے عموماً دو طریقے مستعمل ہیں، کبھی ان میں ایک اور کبھی دوں طریقے ہی مریض کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں، سائیکوتھراپی اور ادویات سے علاج۔
ڈپریشن کی سنگین حالت سنگین نتائج دیتی ہے، مریض لڑائی جھگڑے پر فورا آمادہ ہو جاتا ہے، ارد گرد کی چیزوں جانوروں اور انسانوں کو نقصان پہنچانے سے بھی نہیں چوکتا، سفاکیت سے انتہائی اقدام دوسروں کے قتل اور اپنی خودکشی پر بھی تیار ہو جاتا ہے، یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ خودکشی کی سوفیصد وجہ ڈپریشن ہے۔

آپ ڈپریشن سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو خود اس سے جان چھڑانے کا ارادہ کر لیں، اپنی ذندگی کے مقاصد کو یاد کریں اپنے سامنے رکھیں اور خود کو ان مقاصد کے حصول کے لئے متوجہ کریں،
اپنے ٹارگٹ اور گول بنائیں، اپنے ڈپریشن کی تمام کیفیات کو نہ چھپائیں نہ اپنے تک محدود رکھیں، اپنے ارد گرد کے لوگوں سے ملیں مسکرائیں، کوئی جسمانی کام کرنے کی مصروفیت اپنائیں، اپنا میز ، کمرہ گھر وغیرہ صاف کریں وہ کام کریں جو آپ کے روز کے معمولات میں نہیں۔ متوازن غذا کھائیں، شراب نوشی اور ہر قسم کی عادت جو نشہ بن جاتی ہے اس سے پرہیز کریں کیونکہ یہ کوئی تسکین یا علاج نہیں بلکہ فرار ہے، نیند نہ بھی آرہی ہو تو لیٹ جائیں اور ٹی وی دیکھیں یا ریڈیو سنیں،
فکر مندی چھوڑنے کے لئے اپنے معاملات اپنے خالق کے سپرد کریں، آ

آپ کوشش کر سکتے ہیں لیکن سب کام آپ نہیں کر سکتے، اپنے کندھوں سے شرمندگی لاعلمی کمزوری، نہ کر سکنے کا دکھ اتاریں، اور اسے خدا کی مرضی سمجھیں، سب کچھ آئیڈیل نہیں ہو سکتا، نقصان اور تکلیف کو بھی اللہ کی رضا سمجھیں، اللہ سے ضرور مانگیں سب کچھ مانگیں شفا مانگیں، آپ اپنی ہمت حوصلے اور ڈاکٹر یا ذندگی کے رہنما(لائف کونسلر) کی رہنمائی کیساتھ ڈپریشن پر قابو پانے کی کوشش کریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *