عورت و مرد کا تعلق ۔۔۔محسن علی

اس بارے میں بات کرنا کہاں سے شروع کی جائے ۔۔اس بات کو سوچتے سوچتے خیال آیا اپنی ذات سے شروع کیا جائے ۔ بات ایسی ہے کہ میرے بچپن میں ہی اسکول کی زندگی میں سب سے پہلے جو دوستی ہوئی وہ ایک لڑکی سے ہوئی مگر آج تک کبھی اُس دوست کے خدو خال اور رنگت پر نظر نہیں گئی  ، مگر کیا بات ہے جب یہ سوچتا ہوں وہ ایسا کیا رجحان تھا جو کچھ عرصے میں بھی لڑکی یا عورت کو جسم پر نہ سہی مگر اُسکی خوبصورتی پر دو جملے کہہ دیا کرتا تھا مگر ایک بار جب یہ بات  میری آنکھوں کے سامنے جب پولیس، پھر فوج اور اپنی بہن کے ساتھ ہوئی تو پھر کبھی نہ ہمت  ہوئی شائد ہمارے معاشرے کی اُٹھان ہی کچھ ایسی رہی ہے ، جبکہ گھر میں بہنوں کو زیادہ اہمیت ملی انکی تعلیمی قابلیت کے باعث ایسا نہیں اُن سے کبھی حسد محسوس ہوا ہو ۔ مگر اُسکے علاوہ بھی   کسی  عورت یا لڑکی کو دیکھ کر جنس یا اسکو کسی چیز سے تشبیہ دینا پسند نہیں رہا ،مگر بطور شاعر مبالغہ آرائی ہو ہی جاتی ہے شاعری بھی کیا کمبخت شے ہے ۔ مگر خواتین و لڑکیوں کے ساتھ  رشتہ  عزت احترام کا رہا ۔تا عُمر کبھی اس طرح کی بازاری و تھڑے والی طرز پر کسی کو دیکھ کر نہ سوچ آئی نہ جانے اسکی وجہ متحدہ کے لڑکوں کی صحبت یا اپنی عمر سے بڑے لوگوں کی دوستی یا پھر گھریلو تربیت ۔ آج بھی دفتر کے لوگ جب  کھانے پر محض   لڑکیوں کو ڈسکس کرتے ہیں لاکھ سمجھانے کے باوجود تو پھر آخرمیں حل یہی نکلتا ہے ہر جگہ یا ہر محفل سے خود کو باہر نکال لیتا ہوں ۔ بچپن میں بھی جب ڈرامے وغیرہ دیکھتا اور گھر میں امی ابو کا رویہ تو سوچتا کیا ہمارے گھر میں ابو امی کے ساتھ ایسے کیوں نہیں پیش آتے کیوں گھر میں بات بات پر آئے روز طلاق دے دونگا کے لفظ   استعمال ہوتے ہیں ۔۔
دفتری عورت ذات سے متعلق رائے یہ ہے کہ ہمارے آفس کی ایک بندی نے گریجویشن کے بعد کیرئیر شروع کیا میڈیا میں آئی تو وزن زیادہ تھا پڑھائی اچھی تھی ۔۔۔۔وہی اُس کو بندے نے پسند کرلیا ایک سال بعد منگنی ہوگئی لڑکی نے ماسٹرز کیا لڑکا نوکری کے لحاظ سے پیچھے تھا اُسکو کام سیکھایا اور پڑھوایا۔۔خود نے وزن شادی سے پہلے کم کرلیا اور شادی ہوئی دونوں کی پہلے سال بچہ ہونے سے پہلے ترقی کرکے جب گاڑی حاصل کی مسلسل محنت سے آفس کے لوگ بکواس کرنے لگے کہ باس کا بچہ ہوگا ترقی یونہی  نہیں ملتی، موٹی کا جسم وغیرہ وغیرہ آخر  دونوں   تنگ آکر دوسری جگہ چلے گئے ۔
مزے کی بات چوکیدار سے لیکر مینیجر تک۔۔۔۔اور بوڑھے لوگ تک سب اس کے بارے میں یہی باتیں کرتے تھے ۔
جبکہ وہ بندی کھانے کے ساتھ پڑھتی نوٹس بناتی اسائنمنٹس لکھتی۔ ایک گھنٹے میں یا چائے کے وقفے میں بھی گاڑی میں پک  اینڈ  ڈراپ میں مسلسل پڑھائی۔۔۔
 ۔۔۔جبکہ شروع میں سب سے اچھے اخلاق سب سے بات کرتی تھی پھر سب سے کٹ گئی ۔۔اسی وجہ سے. کیا عورت انسان نہیں آخر بچپن سےدیکھتے دیکھتے چونتیس سال کا ہوگیا مگر معاشرے کا رویہ وہی آخر کب تک اور کیوں ؟ ہم عورت کو انسان کب مانیں گے آخر کب تک ۔۔؟

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *