آسیبی چاند۔۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی

دو صدیاں پہلے فلکیات کے چاہنے والوں کے دماغ میں ایک عجیب سوال نے دستک دی، سوال یہ تھا کہ کیا ہوگا اگر ہم زمین سے دور ہوتے جائیں اور سورج کے نزدیک پہنچتے جائیں؟ جس کا یقینی جواب یہ تھا کہ ایسے زمین کی کشش ثقل کم ہوتی جائے گی اور سورج کی کششِ ثقل بڑھنا شروع ہوجائے گی…. اس کے بعد اگلے سوال نے دماغ کے دریچوں پہ دستک دی کہ اگر ایسا ہے تو لازمی طور پر ایک مقام ایسا آئے گا جہاں زمین اور سورج کی کشش ثقل برابر ہوجائے گی… اس مقام کو اٹھارویں صدی کے فلکیات دانوں نے تلاش کرنا شروع کیا اور یوں انتھک محنت کے بعد ہم نے اٹھارویں صدی میں ہی دریافت کرلیا کہ ہماری زمین کے قریب تین ایسے مقامات موجود ہیں جہاں سورج اور زمین کی کشش ثقل برابر ہوجاتی ہے، جبکہ دو ایسے مقامات ہیں جہاں چاند اور زمین کی کشش ثقل برابر ہوجاتی ہے…. ان مقامات کو لیگ رینج پوائنٹس (Lagrange points) نام دیا گیا (تصویر نمبر 1 ملاحظہ کیجیے)،

ان مقامات کے دریافت ہونے کے بعد سائنسدانوں کو شک گزرا کہ یقیناً پھر ہماری زمین کا ایک چاند نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان مقامات پہ دیگر چھوٹے چاند بھی ہونے چاہیے جو زمین، سورج اور چاند کی کششِ ثقل میں جکڑے رہ گئے ہونگے اور اب بےبسی میں زمین کا چکر لگا رہے ہونگے…. انہی بےبس چاندوں کی تلاش میں پولش فلکیات دان کیزی مائرز کورڈی لیوسکی (Kazimierz Kordylewski) نے اپریل 1961ء کو اپنی ٹیلی سکوپ خلاء میں بلند کی اور ان پانچ مقامات میں جھانکنا شروع کیا تو انہیں دو مقامات یعنی L4 اور L5 پہ شبہ ہوا کہ کچھ بادل نما ہالا موجود ہے… کورڈی لیوسکی نے ان بادلوں کو زمین کے چاند کہا اور انکشاف کیا کہ یہ پُراسرار بادل چاند کی طرح زمین کا چکر لگاتے ہیں… لیوسکی نے یہ بھی بتایا کہ چونکہ یہ بادل اِنتہائی باریک ذرات پہ مشتمل ہیں جس وجہ سے سورج کی روشنی نہ ہونے کے برابر منعکس کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ مسلسل شکل بدلتے رہتے تھے لہذا ان کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے، مگر اکتوبر 2018ء میں ہنگری سے تعلق رکھنے والے فلکیات دانوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے اماوس کی رات کو Sequential imaging polarimetry نامی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے کورڈی لیوسکی کے دریافت کردہ بادلوں کی انتہائی مبہم سی تصویر حاصل کرلی ہے،چونکہ چاند کی روشنی کے باعث یہ زمین سے بالکل دکھائی نہیں دیتے لہذا انہوں نے یہ تکنیک اس وقت رات استعمال کی جس رات آسمان پہ چاند موجود نہیں تھا، اس تکنیک کے تحت انہوں نے ان پُراسرار بادلوں سے آنے والی سورج کی شعاعوں کو مختلف فلٹرز کی مدد سے علیحدہ کیا ہے… یہ بادل زمین سے 4 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر L5 مقام پہ موجود ہیں اور ایک لاکھ کلومیٹر کے احاطے تک پھیلے ہوئے ہیں لیکن حد سے زیادہ دھیمے ہونے کے باعث انہیں ڈھونڈنا انتہائی مشکل تھا… انہیں ان کے discoverer کی یاد میں کورڈی لیوسکی کلاؤڈ نام دیا گیا ہے جبکہ کچھ فلکیات کے چاہنے والے اسے ghost moon یعنی آسیبی چاند بھی کہہ رہے ہیں جو ہزاروں سال انسانیت کی نظروں سے اوجھل رہے..

یاد رہے کورڈی لیوسکی نے L5 کے ساتھ ساتھ L4 پوائنٹ پہ بھی ایسے ہی بادلوں کی پیشگوئی کی تھی جن کی تصدیق تاحال باقی ہے… یاد رہے کہ فلکیاتی سفر کے دوران لیگ رینج پوائنٹس آنے والے دور میں نسل انسانی کے لیے بہت فائدہ مند ہوسکتے ہیں…. 2021ء میں لانچ ہونے والی عظیم فلکیاتی دوربین James Webb Space Telescope کو بھی لیگ رینج پوائنٹ L2 پہ رکھا جائے گا تاکہ فیول کے استعمال سے بچا جاسکے، کشش ثقل برابر ہونے کے باعث یہ پوائنٹس ہمارے لیے parking کی جگہ ہونگے…. چونکہ ہر سیارے کے آس پاس ایسے کئی پوائنٹس موجود ہوتے ہیں لہذا انہی پوائنٹس کے ذریعے ہم مریخ اور دیگر سیاروں پہ بھیجے جانے والے مشنز کی رفتار بھی بڑھا سکیں گے، اسے ہم ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ ان پوائنٹس پہ جب دو سیاروں کی کشش ثقل برابر ہوجاتی ہے تو ہم تھوڑا سا فیول لگا کر اسپیس شپ کو آگے کی جانب دھکیلے گے تو وہ خلائی جہاز ایک سیارے سے نکل کر دوسرے سیارے کی کشش ثقل کی رینج میں آجائے گا اس دوران وہ سیارہ اس خلائی جہاز کو اپنی جانب ایسے کھینچے گا جیسے پہاڑ کی چوٹی سے کوئی پتھر زمین کی جانب لڑکھڑاتا جاتا ہے، اس کھینچا تانی کے دوران ہی قریب موجود کسی اور سیارے کے باعث ایک اور لیگ رینج پوائنٹ آگیا تو خلائی جہاز معمولی فیول استعمال کرکے اس پوائنٹ کے ذریعے دوسرے سیارے کی جانب بھی نکل سکتا ہے… انسانیت مستقبل میں ان پوائنٹس کو بطور “موٹروے” استعمال کرے گی اور کم سے کم وقت میں دوسرے سیاروں پہ پہنچ جائیگی (تصویر نمبر 2 ملاحظہ کیجیے) بلکہ ہوسکتا ہے اسی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے انسانیت قریبی ستاروں اور کہکشاؤں تک پہنچنے کے لیے “موٹرویز” بنالے… انسانیت کا مستقبل روشن ہے بشرطیکہ علمی میدان میں اپنی کاوشیں جاری رکھے… یہ علمی محنت کا ثمر ہی ہے کہ آج ہم نے “آسیبی چاندوں” کو ڈھونڈھ نکالا محنت جاری رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہم کائناتی گوشوں تک پہنچنے کے لیے “آسیبی راستے” بھی ڈھونڈھ نکالیں گے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *